Baam-e-Jahan

چترال میں خود کشیوں کی وباء، صرف ایک ہفتے کے دوران آٹھ افراد نے خود کشی کر لی


چترال میں خود کشیوں، قتل اور حادثات میں ایک ہفتے کے اندر 10 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں سے دو قتل، ایک مشکوک موت پانچ خود کشیاں اور دو افراد حادثاتی موت کا شکار ہو گئے۔

مرنے والوں میں سے چار مرد جن میں سے دو کا قتل اور دو نے خود کشی کر لی پانچ خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔

رپورٹ: کریم اللہ


چترال میں خود کشیاں وبائی شکل اختیار کر چکی ہے اور گزشتہ صرف ایک ہفتے کے دوران چھ سے آٹھ افراد نے خود کشی کرکے اپنی جانیں لے لی ان میں سے اکثریت یعنی چار سے پانچ خواتین جبکہ دو لڑکوں نے خود کشی کر لی۔

تفصیلات کے مطابق 24 اگست 2023ء کو اپر چترال کے تورکھو زنگ لشٹ میں ایک خاتون نے مبینہ طور پر گلے میں رسی ڈال کر خود کشی کر لی تاہم بعض ذرائع اسے مشکوک موت قرار دے رہے ہیں اور ان کے جسم پر زخم کے نشانات بتا رہے ہیں تاہم ابھی تک اس کیس میں کسی قسم کی پیش رفت کی اطلاع نہیں ملی۔

اس واقعے کے چند ہی لمحوں یا گھنٹوں بعد لوئر چترال بلپھوک میں انٹر میڈیٹ کی طالبہ نے گلے میں پھندا ڈال کر اپنی جان لے لی۔ خبروں کے مطابق یہ طالبہ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں بی ایس نرسنگ کا ٹسٹ دیا تھا جس میں انہیں ناکامی ہوئی تو دل برداشتہ ہو کر خود کشی کر لی۔

اسی شام ہی کو ایک اور دل دھلا دینے والی خبر شائع ہوئی کہ لوئر چترال کجو سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ایک سالہ بچے کے ہمراہ دریا میں گر کر ہلاک ہو گئے ہیں اطلاعات کے مطابق خاتون شام کے قریب دریا کے  اوپر واقع زمین میں سے گزر رہے تھے کہ اچانک زمین سرک کر نیچے گری جس کی وجہ سے خاتون ایک سالہ بچہ سمیت دریا برد ہو گئے اگلے روز خاتون کی لاش دریا سے نکالی گئی مگر بچے کا پتہ نہیں چلا۔ خاتون شام کے قریب وہاں کیا کر رہے تھے کیا واقعی زمین سرک گئی تھی۔۔؟

25 اگست کے سہ پہر کو ایک اور دل دھلا دینے والی خبر شائع ہوئی کہ اپر چترال ڑاسپور رامن سے تعلق رکھنے والی ایک سترہ سالہ لڑکی پل کو عبور کرتے ہوئے دریا میں گر کر لاپتہ ہو گئی ہے۔ بعض لوگ اسے خود کشی کا نام دے رہے ہیں۔

28 اگست کی صبح ہی ایک اور اندوہناک خبر آئی کہ لوئر چترال کوغوزی سے تعلق رکھنے والی خاتون نے دریا میں چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی۔ خبروں کے مطابق اسی صبح وہ اپنے شوہر کے ہمراہ کھیتوں میں کام کر رہے تھے کہ اچانک شوہر کو دل کا دورہ پڑا جس سے وہ جانبر نہ ہو سکے، ان کی موت کے سانحے کو بیوی برداشت نہ کر سکیں اور فورا  دریائے چترال کی بے رحم موجوں میں چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا چراغ گل کر دی۔ ان کی لاش کو چترال ہی میں دریا سے نکالی گئی اور یوں 28 اگست کی شام کو بیوی اور شوہر دونوں کا ایک ساتھ نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے دونوں کو قبروں میں اتار دی گئی۔

 28 اگست ہی کو اپر چترال بونی سے تعلق رکھنے والے ایک 24 سالہ نوجوان نے خود کشی کر لی۔ ان کے خود کشی کی وجوہات کا تاحال علم نہ ہوسکا۔ اس کے علاوہ  انہی  دنوں میں اپر چترال بونی گہلی میں بھی ایک کم عمر نوجوان نے خود کشی کر لی ہے۔

یوں صرف ایک ہفتے  کے اندر اندر چار خواتین اور دو لڑکوں کی خود کشی ایک عورت اور بچے کی مبینہ حادثاتی موت واقع ہوئی ہے۔ ان چار خواتین میں سے ایک یعنی تورکھو میں خود کشی کرنے والی خاتون کے موت کو مشکوک قرار دیا جا رہا ہے جبکہ ڑاسپور میں دریا برد ہونے والی لڑکی کی موت کو حادثہ۔ اس کے علاوہ دروس میں جنگل کے تنازعے میں دو مردوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کرنے کے بعد قاتل فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جنہیں تا حال گرفتار نہ کیا جا سکا۔ اس کے خلاف بھی اہل علاقہ سراپا احتجاج ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے