Baam-e-Jahan

اسلامک یونیورسٹی واقعے کی ابتدائ معلومات

تحریر : عدنان حسین شالیزئ

نومبر 29 کے تاریخی "طلباء یکجہتی مارچ” کے بعد گہری خاموشی چھا گئ تھی- اس قسم کی خاموشی اکثر کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے ۔نجا نے کیوں مجھے کسی انہونی سانحے کی بو آرہی تھی ۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔ بدھ کے سہ پہر غیر جمہوری قوتوں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کو نشانہ بنایا ۔ جماعت اسلامی کے پروگرام کے دوران غیر جمہوری قوتوں نے اپنے اسلحہ بردار میدان میں اتارے ۔ طلباء پر فائرنگ کی ۔ جس کے نتیجے میں ایک طالب علم جان بحق ہوگیا ۔
اسی دوران یہ افواہ پھیلا دی گئ کہ فائرنگ سرائیکی کونسل کے ارکان میں سے کسی نے کی ہے ۔ تمام طلباء تنظیموں کے راہنما اپنی صفائ پیش کرنے جماعت اسلامی کی طلباء تنظیم کے راہنماؤں سے ملے ۔ انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دیانی کرائ اور ہر قسم کی معاونت کی پیشکش کی ۔ لیکن افواہوں، جعلی پیغامات اور منظم تشہیر کے بعد دیگر کونسلز اور طلباء تنظیموں کے ارکان کو اسلامی جمعیت طلباء کے کارکنان کی طرف سے یرغمال بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔
یرغمال طلباء کے لواحقین اور ساتھی اپنے مغوی ساتھیوں کا ساتھ دینے کیلئے اور ان کی خیریت دریافت کرنے کیلئے یونیورسٹی کی طرف امڈ آئے ۔ پولیس بھی پہنچ گئ اور اعلانات کے ذریعے مغویان کو بازیاب کر دیا گیا ۔ یرغمال طلباء کو زخموں سے چور ہونے کے باوجود پولیس اپنے ساتھ لے گئ ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق عثمان خان کاکڑ اور دیگر سیاسی راہنما فریقین کے درمیان باہنی مشاورت اور تعاون کے ذریعے معاملے کو سلجھانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں ۔
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی اپنے کارکنان سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے ۔ ایسے موقع پر سراج الحق کا بیان مثبت قدم ہے ۔ تمام فریقین کو ٹھنڈے دل و دماغ سے معاملے کو سلجھا کر امن و امان کی فضا کیلئے اقدامات اٹھانے چاہییں ۔ زخمی طلباء کا علاج کروانا چاہیے ۔ طلباء پر FIRs کاٹنے کی غلطی بالکل نہںکرنا چاہئے ۔ سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کو معاملے کی نزاکت دیکھتے ہوئے افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنا چاہیے ۔ اسی طرح سوشل میڈیا کے صارفین کو جعلی پیغامات شیر کرنے سے گریز برتنا چاہیے اور سٹوڈنٹس یونین کی راہ میں حائل غیر جمہوری قوتوں کے غیر جمہوری اعمال کو آشکارا کر کے تعلیمی اداروں میں علمی اور صحت مندانہ سرگرمیوں کے فروغ کیلئے راہ ہموار کرنی چاہئے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے