بام جہان رپورٹ

https://fb.watch/5FD_wOA1jk/

چترال, گلگت, کالام, کمراٹ اور انڈس کوہستان پہاڑی سلسلوں کے بعد ستار کی تاروں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان تمام علاقوں کی موسیقی میں ستار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اکثر ہم ایک دوسروں کی زبان نہیں سمجھتے لیکن ہمارے ستار ایک دوسروں کی دھنیں سمجھتے بلکہ بجاتے بھی ہیں۔
ستار نواز فنکاروں میں اس دور کے چند نامور فنکاروں میں ایک بڑا نام استاد میر افضل کالام والے کا ہے جو ہر قسم کی دھن، چاہے فلمی ہو یاغیر فلمی، فوک ہو یا پوپ اتنی خوبصورتی اور مہارت سے بجاتے ہیں کی سسنے والا اس کی سحر مین کھو جاتا ہے.
یہاں ہم ان کی ای تازہ ترین بجائی ہوئی دھن پیش کرتے ہیں. انہوں نے مشہور کھوار غزل ‘اے پری زاد’
خوشی نیکی ہردیہ اے غمان کیشمان ارو، اے پری زاد ہردیو نوژان ارو، کا دُھن جس خوبصورتی سے بجایا ہے اسے سن کے داد دئیے بغیر رہ نہیں سکیں گے.۔
اس غزل کو غذر کے نامور فنکار رحمت علی کے علاوہ چترال کے ظفر حیات ,انصار الٰہی, محسن حیات شاداب اور کھوار غزل گوئی کے مہدی حسن منصور علی شباب نے بھی اپنے اپانے انداز میں گیا اور بجایا ہے۔
اس ویڈیو کی ایک اہم بات میر افضل کے ہمنوائی میں نواز خان کی تالیوں کی تھاپ ہیں۔ آپ سنیں گے تو نواز کو داد دئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے