جیری کین اور چترالی موسیقی

دوسری جنگِ عظیم کے شروع میں جرمن اسلحہ ساز کارخانوں میں جنگی مقاصد کیلئے تیار ہونے والے جیری کینوں کا سفر چترال میں آنے کے بعد ایک نئے موڑ میں داخل ہوا اور اب دنیا بھر میں مشہور چترالی موسیقی کا ایک ناگزیر حصہ بن گیا ہے جسکے بغیر کھوار موسیقی نامکمل تصور کی جاتی ہے

جیری کین اور چترالی موسیقی

فخرعالم

دوسری جنگِ عظیم کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے جرمن افواج نے فوجی گاڑیوں، ٹینکوں اور دوسری مشینوں کو تیل پہنچانے کیلئے کسی ایسے ڈبے یا کین کی ضرورت محسوس کی جو حجم میں چھوٹا ہو اور محاذ پر آسانی سے پہنچائے جاسکے۔ انٹرنیٹ پر موجود ایک ویب سائٹ "جیری کین۔کام” کے مطابق ایڈالف ہٹلر نے خود جیری کین کی تیاری کا حکم دیا تھا جس کی وجہ سے دوسری جنگِ عظیم کی ابتدا ہی سے جرمنوں نے فوجی مقاصد کیلئے بڑی تعداد میں جیری کینوں کی پیداوار شروع کی۔

فوجی لڑائیوں کے درمیان محاذ پر اتحادی افواج کو کئی جگہوں پر جرمنوں کے زیرِ استعمال جیری کین ملے۔ اتحادیوں کو شروع ہی سے اگلے محاذ پر لڑنے والے فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں کو تیل پہنچانے میں دقت کا سامنا تھا۔ 1942 میں مصر میں تعینات امریکی بحریہ کے ایک کیمیکل انجینئیر ریچرڈ ایم ڈینئیل نے واشنگٹن میں اپنے سربراہان کو رپورٹ دی کہ انتظام ٹھیک نہیں ہونے کی وجہ سے امریکہ سے اتحادی فوجیوں کیلئے مصر پہنچے والے تیل کا 40 فیصد حصہ بھاپ بن کر یا پھر لیک ہونے کی وجہ سے ضائع ہوجاتا ہے۔ اس رپورٹ کی وجہ سے امریکی اور برطانوی افواج نے جیری کینوں کے استعمال کی طرف مائل ہوگئے۔

 جیری کین تیل کا ذخیرہ کرنے اور محاذ تک پہنچانے کیلئے سب سے موزوں ثابت ہوا۔ اتحادیوں نے ہی اس کین کا نام جرمنوں سے نسبت کی وجہ سے "جیری” رکھ دیا۔

اتحادی افواج نے 1944 میں فرانس اور مغربی یورپ قابض جرمن افواج سے واگزار کرانے کیلئے نارمنڈی ساحل سے داخل ہو کر بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کیا۔ اس آپریشن میں تیل فراہم کرتے ہوئے لاکھوں کی تعداد میں جیری کین استعمال کیے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق اس آپریشن کے دوران دو کروڑ جیری کین نارمنڈی بھیجے گئے تھے۔ البتہ اس میں سے آدھی تعداد جلد ہی غائب ہوگئی۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ ان جیری کینوں سے تیل نکالنے کے بعد انہیں پرائیوٹ گاڑیوں میں یا پھر دوسرے مقاصد کیلئے استعمال کیے گئے۔

دوسری جنگِ عظیم کے مختلف محاذوں میں استعمال ہونے والے جیری کین جلد ہی روزمرہ کے مختلف کاموں میں استعمال ہونے لگے اور دنیا بھر میں پھیل گئے۔ مگر چترال میں ان کا استعمال ان سب سے انوکھا اور منفرد ہوا۔ جیری کین جب چترال پہنچ گئے تو جلد ہی موسیقی کے ایک آلے کے طور پر استعمال ہونا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے موسیقی کی محفلوں میں گانے کے ساتھ بجانے کیلئے استعمال ہونے والے دف کی جگہ لے لی۔ صدیوں سے موسیقی کی محفلوں کی زینت بننے والا دف جیری کین کے آنے بعد کچھ ہی سالوں میں پسِ منظر میں چلا گیا۔

جیری کین چترال کیسے پہنچا اور موسیقی کے آلے کے طور پر اس کا استعمال کب سے شروع ہوا اس بارے میں مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔ غالب رائے یہی ہے کہ جیری کین پہلے پہل جیب گاڑیوں کیساتھ چترال پہنچا۔ مقامی حضرات اس میں تیل یا پانی بھرتے تھے اور راستوں کی طوالت اور خرابی کے باعث جب کسی ہوٹل یا سرائے میں رات گزارنی ہوتی تھی تو وہ شب گزاری کیلئے جیری کین بجا کر گانے گاتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرحدی چوکیوں پر تعینات مقامی ملیشیا، چترال اسکاؤٹس، نے بھی جیری کین کی صوتی خصوصیات کو بھانپ کر گانا گاتے ہوئے اس کا استعمال شروع کیا۔ انہیں معلوم ہوا کہ جیری کین کی تھاپ دف کی نسبت بہت اچھی ہے۔ اسے بجانے سے جو گونج اندر سے برآمد ہوتی تھی اس نے جلد ہی ڈرائیوروں کے ساتھ ساتھ مقامی موسیقاروں کو بھی متوجہ کیا۔ مقامی موسیقار جو ڈھول اور دمامے استعمال کرتے تھے ان کی نسبت جیری کین بجانا سہل تھا اور زیادہ مہارت طلب نہیں کرتا تھا۔ اس کے برعکس دف کی آواز پر موسم اور نمی کا اثر ہوتا تھا اور اسے آگ کی تپش سے بار بار گرم کرنا پڑتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دوسری جنگِ عظیم کے شروع میں جرمن اسلحہ ساز کارخانوں میں جنگی مقاصد کیلئے تیار ہونے والے جیری کینوں کا سفر چترال میں آنے کے بعد ایک نئے موڑ میں داخل ہوا اور اب دنیا بھر میں مشہور چترالی موسیقی کا ایک ناگزیر حصہ بن گیا ہے جسکے بغیر کھوار موسیقی نامکمل تصور کی جاتی ہے۔  


فخر عالم اسلام آباد کے ایک یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ کے طالب علم ہیں اور بام جہاں کی ادارتی ٹیم کا حصہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے