77

عقلمند اور نفیس طالبان کا جنم اور ہمارا دائروں کا سفر

علی احمد جان

سات دہائیوں سے کچھ سال جمہوریت، کچھ عرصہ آمریت، کبھی اسلامی نظام اور کبھی جدت پسندی میں ہمارا دائروں کا سفر جاری ہے۔ 1947 ء کے بعد ہی آئین کی تشکیل میں ہچکچاہٹ کا حیلہ ’جب اللہ کا قانون موجود ہے تو انسانی دستور کی کیا ضرورت‘ ملک کو اسلامی جمہوریہ کا نام تو دے گیا مگر ملک نہ اسلامی بن سکا نہ جمہوری۔ اس ملک کے بانی کا کسی بھی غیر آئینی اور غیر قانونی حیثیت سے گریز کرتے ہوئے تاج برطانیہ کے ماتحت گورنر جنرل کے واحد قانونی عہدہ کو قبول کرنے سے کچھ نہ سیکھا اور نہ ذوالفقار علی بھٹو کے منتخب ہونے کے باوجود بطور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے واحد راستے بند گلی سے نکلنے کی ترکیب سمجھ پائے اور الٹا اس سے آمریت کے لئے دلیل تراشتے رہے۔

کہا گیا کہ ریاست صرف زمین کا نام ہے جس میں ڈیم، صنعت، اور سڑکیں ہوتی ہیں جہاں بسنے والے لوگوں کے ہجوم کو اکٹھا رکھنے کے لئے کسی ضابطہ یا دستور سے زیادہ ڈنڈا ضروری ہے۔ 25 سال بے آئین رہنے کے نتیجے میں ملک ٹوٹا، مرد آہن کی حکمرانی کا عشرہ عوام نے بطور ’گولی لاٹھی کی سرکار‘ کے منایا مگر اشرافیہ کے لئے یہ تعمیر و ترقی کا دور تھا جس کی مثال اب بھی دی جاتی ہے۔ ملک کے ٹوٹ جانے کو صرف ’ادھر ہم ادھر تم‘ کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے یہ دیکھے بغیر کہ کہ ڈیم، بجلی، آبپاشی، سڑکیں اور صنعتی ترقی کے اشاریے صرف دستاویزات کی خوشنمائی کے ہی کام آ سکے جبکہ بے آئین ون یونٹ کے مشرق اور مغرب کے درمیان پڑنے والی دراڑ اتنی گہری اور وسیع ہو گئی تھی کہ لاکھوں انسانوں کی قربانی بھی نہ بھر سکی جس پر فیض کو کہنا پڑا ’خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد‘ ۔

آدھا ملک گنوا کر باقی ماندہ میں آئین نافذ کیا تو جلد ہی اس کے بندھنوں سے اکتا گئے اور نظام مصطفیٰ کے لئے سڑکوں پر آ گئے۔ داڑھی والے، مونچھ والے بغیر داڑھی اور بالوں والے سب ایک پرچم کے نیچے جمع ہوئے اور ایک وردی والے نے سب کو چلتا کر دیا اور آئین نام کی کتاب کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر ایک بار پھر ڈنڈے سے ہجوم کو ہانکنا شروع کر دیا۔ اس بار مگر ڈنڈا جس کو روایتی طور پر عزت کے ساتھ ’مولا بخش‘ کہا جاتا ہے ”کوڑے“ کا درجہ پاکر تفریح کا سب سے بڑا ذریعہ بھی بن گیا۔ کھیل کے میدانوں، تفریح گاہوں میں سر عام کوڑے لگائے جاتے اور لوگ محظوظ ہوتے رہے۔ مرد مومن نے سیاست کی بساط لپیٹ کر جہاد کا آغاز کیا تو نئی دکانیں کھلیں اور اشرافیہ کے لئے نیا مشغلہ ہاتھ لگ گیا۔

افغانستان میں بھی ہماری ترجیحات وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہی ہیں۔ کبھی ہم احمد شاہ مسعود اور استاد ربانی کو پلکوں پر بٹھایا کرتے تھے پھر گلبدین حکمت یار اور یونس خالص ہمارے محبوب بن گئے۔ ہم نے ان کو مجاہدین کا درجہ دیا اور خانہ کعبہ میں یکجا کر کے کہ قسم دی کہ وہ عالم اسلام کی نشاط ثانیہ کا وعدہ پورا کریں گے۔ مگر افغان جن کو تاریخ کبھی یکجا نہ کر سکی ہم کیسے کرتے۔ بہت جلد ہی افغانستان سے آہ و فگاں کی آوازیں سنائی دیں۔

جتنی دیر پاکستان میں طلبہ سیاست جرم قرار پائی اسی دوران افغانستان میں یہ فرض کفایہ بن چکی تھی۔ افغان بچے ہمارے ہاں امریکی اور سعودی تعاون سے زیور علم سے آراستہ ہو رہے تھے تو ان کو کاف سے کتاب اور قاف سے قلم کے بجائے کاف سے کافر اور قاف سے قتال پڑھایا جاتا رہا۔ حساب میں بھی دو جمع دو کی مثال میں دو سیب اور دو انار نہیں ملتے تھے بلکہ دو ازبک اور دو تاجک مجاہد ملتے تھے اسی طرح ہی منفی کی مثالوں میں کافر جہنم واصل کیے جاتے تھے۔

دینی اور دنیاوی درجوں میں منقسم تعلیم میں ثانی الذکر کو کفر قرار دے کر اتنی نفرت بھر دی گئی کہ سینکڑوں سکولوں کی عمارتیں خاکستر کرنے کے بعد ڈیڑھ سو بچوں کو پشاور کے آرمی پبلک سکول میں شہید کر دیا گیا۔ ہم نے کہا کہ دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے مگر معلوم نہیں کس دشمن کے بچوں کو پڑھانا تھا وہ تو ہمارے اپنے تھے جن کے بچے ہمارے پڑوس میں رہتے رہے اور وہ خود جیب میں ہمارا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ لئے گھومتے رہے۔

طور خم سے جلال آباد روانہ کر کے نصیر اللہ بابر نے ’ہمارے بچے‘ کہا اور پرحکمت اداروں نے تزویراتی گہرائی میں اپنا اثاثہ قرار دیا۔ اچانک پینترا بدل کر نصیر اللہ بابر کی ہی کرسی پر بیٹھے اسی جماعت کے ایک اور وزیر نے ان ہی کو ’ظالمان‘ کہا، اور اب ان کو سادھے مگر ”عقلمند اور نفیس طالبان“ کی جنم سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

لگتا ہے کہ افغانستان قرون وسطیٰ میں ساکت ہو چکا ہے۔ سڑکیں، بجلی، تعلیم اور صحت کی سہولتیں اگر کہیں موجود بھی ہیں تو وہ چند بڑے شہر، قصبے یا دفاعی اہمیت کی کچھ جگہیں ہیں۔ پہاڑی دروں، میدانوں، ریگزاروں چراگاہوں میں رہنے والوں کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ کابل میں کس کا ترانہ اور قندھار میں کس کے نام خطبہ پڑھا جاتا ہے۔ پامیر کے چرواہے تو ابھی تک کابل کا والی ظاہر شاہ کو ہی سمجھتے ہیں اور ان کے خیال میں ابھی تک ایک طرف سرکار انگلیشیہ دوسری طرف بالشویک حکومت ہے۔

افغانستان کا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی اشرافیہ انتہائی حریص، مطلبی، سازشی ہونے کے ساتھ انا پرست بھی ہے۔ ظاہر شاہ کی بے دخلی سے لے کر نجیب اللہ کی معزولی تک کی کہانی ہی افغان اشرافیہ کی ریشہ دوانیوں سے بھری ہوئی نہیں ہے بلکہ یہ نام نہاد مجاہدین کے دور میں اور زیادہ خون آشام ہو گئی تھی۔ 1979 ء سے 1990 ء تک پرچمی اور خلقی دھڑوں کا افغان سیاسی بساط پر موجود ہوتے ہوئے کسی دشمن کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ وہ حکومت کو کمزور کرے اور نہ 1990 ء کے بعد گلبدین حکمتیار اور احمد شاہ مسعود، یونس خالص اور کریم خلیلی کی موجود گی میں کسی دشمن کی ضرورت رہی۔ یہ سب سے بڑی حقیقت ہے کہ اتنے لوگ روس کے خلاف جنگ میں نہیں مرے جتنے روس کے جانے کے بعد افغانوں کی آپس کی چپقلش کی بھینٹ چڑھے۔

افغانستان میں جو کچھ روس نے بنایا وہ سب مجاہدین نے برباد کر دیا تھا اور جو کچھ امریکہ نے بنایا ہے وہ طالبان برباد کردیں گے۔ افغان اشرافیہ کبھی سرخ جھنڈا لے کر اٹھی تھی جس نے بعد میں اس جھنڈے میں سبز رنگ شامل کیا تھا اب سفید علم تھامے اپنی روایتی سازشوں میں مصروف ہوگی۔ افغان اشرافیہ نے جتنی دولت پاکستان، ہندوستان، یورپ، امریکہ اور کینیڈا میں اکٹھی کر رکھی ہے اگر اس کا آدھا حصہ بھی ان کے اپنے ملک میں ہو تو شاید بیرونی امداد کی ضرورت نہ رہے۔

ہمارا دائروں کا سفر بھی صرف جمہوریت، آمریت، آئینی اور بے آئینی کے درمیان ہی ہچکولے کھاتا نہیں رہا بلکہ بحث امارت، سلطنت اور خلافت کی بھی ہوتی رہی ہے۔ موجودہ ہائیبرڈ نظام صدارتی، پارلیمانی، چینی، ترکی اور ایرانی طرز حکومت کی تذبذب کے ساتھ ریاست مدینہ کی تشکیل کے وعدے پر تبدیلی کا منتظر ہے۔ تبدیلی کے اس ارادے کو بادی النظر میں عوامی تائید کے ساتھ خانقاہوں اور درگاہوں کے علاوہ رائے ونڈ اور اکوڑہ خٹک کی آشیرباد بھی حاصل ہے۔ اگر بدلتی صؤرتحال میں مغرب سے چلنے والی ہواؤں کا رخ بدل گیا تو آئین، جمہوریت اور پارلیمانی نظام سے بے زار ہماری اشرافیہ سے کیا بعید ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں میں تھامے جھنڈے کا رنگ ایک بار پھر بدل نہ دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں