Kashmir dispute

تحریر: عباس موسوی


اکیسویں صدی میں گلگت بلتستان کا مقدمہ اپنی نوعیت کا ایک انوکھا کیس ہے۔

جب دنیا میں جمہوری ریاستیں مستحکم ہو رہی تھی اور بادشاہتیں دم توڑ چکی تھی اور  نو آبادیات اپنی آخری سانس لے رہی تھی تو تخت برطانیہ نے برصغیر کو بھی جمہوری انداز میں قومی ریاستوں  میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت جو فارمولہ طے ہوا وہ مذہب کے نام پر تقسیم اور ہندو مسلم  کےایک نہ ختم ہونے والے قضیہ کی بنیاد ڈالی  گیئ   جہاں پر انڈیا اور پاکستان کا وجود جمہور کے مسلمان اور ہندو ہونے پر منحصر تھا تو وہیں  پر برصغیر کی 565 کے قریب ریاستوں  کے  حکمرانوں  کے صوابدید  پر چھوڑا گیا کہ وہ جہاں چاہیں اپنےعوام کو لے کر جائیں۔

 اگر دیکھا جائےتو یہ تقسیم خود ایک غیر منصفانہ اور غیر منطقی تھی۔ جو معیار انڈیا اور پاکستان کے لیے رکھا گیا تھا وہی ان ریاستوں کے لیے رکھا جاتا ۔لیکن جان بوجھ کر  برطانوی نو آبادیاتی   حکمرانوں نے اس خطے کو تنازعات میں الجھایا اور آج تک ان دو ممالک کے عوام اس کا خمیازہ  ادا کر رہے ہیں ۔

ان شاہی ریاستوں میں ایک ریاست جموں و کشمیر بھی تھی جو 74 سالوں سے ایسے الجھائی گئی ہے کہ سلجھنے کا نام نہیں لیتی ۔اس کی سب سے بڑی وجہ اس ریاست کا محل وقوع ہے۔ صدیوں سے یہ ریاست جغرافیائی طور پر بہت اہمیت کی حامل رہی  ہے اور اس کے سرحدوں  کے چاروں طرف  دنیا کی طاقتوں  نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔

میں  اس مضمون  میں تاریخ  صرف مقدمہ  کے پس منظر میں  عرض نہیں کر رہا ہوں بلکہ اس ریاست کے مستقبل پر بات کرنا چاہتا ہوں ،خاص طور پر گلگت بلتستان پر جو کہ کسی بھی صورت میں اس ریاست کا حصہ نہیں تھا ۔لیکن پاکستان نے اس خطے کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے  نہ صرف اس تنازعے کے ساتھ جوڑا بلکہ اس خطے کو 74 سال سے تمام آئینہ و جمہوری حقوق سے  بھی محروم رکھا ۔

میں  یہ کہنے میں حق بجانب ہوں  کہ  یہ دنیا کا واحد خطہ ہے جو اکیسویں صدی میں جمہوری ملک کے قبضے میں غیر آئینی اور قانونی طریقے سے رکھا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ریاست پاکستان کے اپنے مفادات کی خاطر اس خطے کے لوگوں کو قربان کیا جا رہا ہے کبھی کشمیر کے نام پر اور کبھی اقوام متحدہ کے قراردادوں کے نام پر۔ اس مقدمے کے دو پہلو ہیں۔ پہلا تو یہ کہ  اقوام متحدہ کے قراردادوں مطابق اس تنازعہ کا مستقل نکالا جائے۔  دوسرا جب تک مستقل حل نہیں نکالا جاتااس خطے کو بشمول آزاد کشمیر  میں  لوکل اتھارٹی دینی تھی تاکہ یہاں کے لوگ کسی قانون اور آئین کے تحت اپنی مرضی سے زندگی گزارسکیں ۔

ہم آج کے مقدمے میں دوسرے پہلو پر بات کرینگے کہ اس مقدمے کا مستقل حل نکلنے تک کیا قانونی اور آئینی شکل بن سکتی ہے۔ جب ریاست جموں و کشمیر کا تنازعہ بنا اور یہ ریاست تقسیم ہوئی اور ریاست پاکستان نے گلگت بلتستان کو بھی اس تنازعہ کا حصہ بنایا  اور  اپنے ریاستی مفاد کی خاطر اقوام  متحدہ  میں لے گیا  تو ان کی   طرف سے یہ حکم ہوا کہ دونوں فریق اپنے فوجوں کو نکالیں اور یو این   یو این سی آئی پی کی نگرانی میں استصواب رائے کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالا جائے. انڈیا اور پاکستان نے لوکل اتھارٹی کی اپنی اپنی  تعریف و تشریح  کی کی ۔ حالانکہ اقوام متحدہ نے لوکل اتھارٹی کی کو تشریح نہیں کی تھی ۔

انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کومشروط طور  پر اپنے آئین میں جگہ دی اور ۳۷۰ اور ۳۵ A کی شکل میں مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو قانون اور آئین دیا اور سپیشل سٹیٹس کے ذریعے اس علاقے کو 2019 تک چلایا بعد ازاں اس سٹیٹس کو ختم کیا جس پر پاکستان نے دنیا بھر میں جا کر احتجاج کیا اور دوبارہ یہ سٹیٹس برقرار رکھنے کا  مطالبہ  کیا۔ جبکہ پاکستان نے اپنے زیر انتظام کشمیر  میں موجود ایریاکو دو حصوں میں تقسیم کیا ایک 4 ہزار مربع میل ایریا آزادکشمیر کا نام دیا اور آئین پاکستان میں آرٹیکل 257 کے ذریعے ایکٹ 1974 لایا اور آزاد کشمیر میں عبوری آئین بنایا ،عبوری اسمبلی بنائی  اور انہیں اپنا جھنڈا ،ترانہ ، صدر اور وزیر اعظم دیا اور اس آئین کے ذریعے متنازعہ حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے قانون سازی کی اور وہاں کے لوگوں کا حق حاکمیت اورحق ملکیت کو محفوظ کیا۔ جبکہ دوسری طرف 28 ہزار مربع میل ایریا گلگت بلتستان کو UN میں تو کشمیر کا حصہ بناکر متنازعہ کیا لیکن جب قبضہ لینے کا وقت آیا تو اس ایریا کو کشمیر کے آئین اور قانون سے بھی باہر رکھا اور ریاست پاکستان کے آئین میں بھی نہیں رکھا بلکہ ایک غیر قانونی اور غیر آئینی معاہدہ کراچی کے ذریعے اپنے انتظامی کنٹرول میں لیا ۔لیکن آئینی اور قانونی حیثیت کو واضح نہیں کیا ۔ جب جب ریاست کافائدہ ہوا اپنے آئین کی توسیع کے ذریعے وہاں کی زمینوں اور وسائل پر قبضہ کیا گیا۔

آج کا مقدمہ یہ ہے کہ اس 28 ہزار مربع میل ایریا جس کو گلگت بلتستان کہا جاتا ہے جس کی اپنی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت ہے کے قانونی اور آئینی حیثیت کو متعین کر نے کے لیے رائے دینا تاکہ اس مقدمے کا کوئی ممکنہ حل نکل سکے۔ ریاست جموں و کشمیر کے تنازعے میں جو اکائیاں ہیں اس میں قانون اور آئین سے صرف گلگت بلتستان کو دور رکھا گیا اور اڈھاک میں چلانے کی کوشش  کی گئی اس 84 ہزار مربع میل ایریا میں لوکل اتھارٹی کے نام پر جو نظام موجود ہیں وہ دونوں ممالک کو قابل قبول بھی ہیں ایک آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ جو ریاست پاکستان نے 4 ہزار مربع میل اریای کو دیا اصولاً ریاست کے وزارت خارجہ کے مؤقف کے مطابق اور UN میں جو مؤقف اختیار کیا گیا وہ بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ گلگت بلتستان کا 28 ہزار مربع میل ایریا بھی اسی طرح کا سیٹ اپ کا متقاضی تھا لیکن ریاست کی منافقت کہیں یا مفادات کا حصول اس خطے کو آئین اور قانون سے دور رکھا گیا آج بھی ریاست کے پاس یہ اختیار موجود ہے جو متنازعہ حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے ایکٹ 1974 کی شکل میں آئین پاکستان کا ریفرنس دیتے ہوئے ایک عبوری آئین اور اسمبلی پورے حق حاکمیت یعنی صدر وزیر اعظم اور لوکل بیوروکریسی  کے ساتھ اس خطے کو دیا جائے تاکہ اس خطے میں رہنے والے لوگوں کی احساس محرومی ختم ہو۔ یہ ایک ایسا حل ہے جو اسی ریاست نے 74 سال پہلے کیا بھی ہے ریاست کا مفاد اس میں تھا کہ گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر سے الگ رکھیں گلگت بلتستان کے لوگ بھی الگ  ہی رہنا چاہتے ہیں اس لیے بہتر ہے کہ اس طرح کا سیٹ اپ دیا جائے۔

اگر ریاست کو اس طرح کا سیٹ اپ دینے میں مفادات کا مسئلہ ہے تو ایک اور حل جو مقبوضہ کشمیر کو حاصل تھا جو 5 اگست 2019 کو ختم کیا گیا جس پر خود ریاست پاکستان نے احتجاج بھی کیا اور متنازعہ حیثیت میں وہ سیٹ اپ ریاست پاکستان کو قابل قبول بھی ہے۔ نہ صرف قابل قبول ہے بلکہ اس سیٹ اپ کو ختم کرنے پر احتجاج بھی کیا وہ اسپیشل سٹیٹس گلگت بلتستان کو دیا جائے تاکہ یہاں کے لوگوں کی احساس محرومی ختم ہو۔

اگر اس سیٹ اپ کو گلگت بلتستان میں نافذ العمل کرنا ہے تو سب سے پہلے آئین پاکستان میں ترمیم کرنا ہو گی جو چیز سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہے وہ اس خطے میں موجود لوگوں  کی حق ملکیت اور حق حاکمیت لوکل اتھارٹی کو سامنے رکھتے ہوئے اور جب تک متنازعہ حیثیت ختم نہیں ہوتی اس خطے کی زمین کا ہر ذرہ اور زیر زمین تمام معدنی وسائل ، زمین کے اوپر پانی ، جنگل اور راہداریوں  کی حق ملکیت کا حق صرف اور صرف بلا شرکتِ غیر یہاں کے لوگوں کا ہے کسی بھی صورت چاہےوہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی ہو یا بیوروکریٹس  کی تعیناتی ہو اس خطے کی متنازعہ حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے غیر مقامی  افراد کی حاکمیت کسی صورت  قابل قبول نہیں ہو سکتی ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے  آئین پاکستان میں ترمیم کیا جائے آئین پاکستان کا آرٹیکل نمبر 257 میں ترمیم کر کے کشمیر کے ساتھ گلگت بلتستان کو بھی اس آرٹیکل میں شامل کر دیا جائے اور اسی آرٹیکل میں 257Aاور 257B کی دو شقیں بڑھا دی جائیں۔

257A میں گلگت بلتستان کی آئینی اور قانونی شکل واضح کر دی جائے یہ خطہ جب تک ریاست جموں و کشمیر کا تصفیہ نہیں ہوتا متنازعہ لکھا جائے مشروط طور پر آئین پاکستان کو گلگت بلتستان میں توسیع کر دیا جائے۔

257B میں گلگت بلتستان کو متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے یہاں کی زمینوں کی ملکیت خاص کر خالصہ سرکار کے  قانون کو ختم کر کے شاملات دیہہ اور لینڈ ریونیو ایکٹ کو باقی صوبوں کی طرح نافذ العمل کیرنے کی ضرورت ہےاور صرف  لوکل روایتی قوانین کے علاوہ  مہاراجہ کے تمام ملکیتی قوانین  کو ختم کر نا چاہیئے  اور متنازعہ ہونے کی وجہ سے آئین پاکستان اٹھارویں ترمیم کو نافذ العمل کریں جس کی روشنی میں گلگت بلتستان میں صرف وہاں کے باشندوں کے علاوہ کوئی اور زمین کی ملکیت حاصل نہیں کر سکے۔

جہاں تک سینٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی کا تعلق  ہے تو اس کو باقی صوبوں کی طرح نہ دیکھا جائے جب سابق فاٹا اور اسلام آباد  میں مخصوص انتظام ہو سکتا ہے تو گلگت بلتستان تو متنازعہ حیثیت سے اس سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ جب انڈیا لداخ کی دو لاکھ آبادی کو لوک سبھاء میں ایک سیٹ دے سکتا ہے تو پاکستان کو کیا مسئلہ ہے قومی اسمبلی میں ہر ڈویژن  کو دو سیٹیں ملنی چاہییں اور سینٹ میں دس سیٹیں ہونی چاہییں۔

علاوہ ازیں چند بنیادی اصلاحات  کی ذرورت ہے جن میں تمام قومی مالیاتی اور منصوبہ بندی کے اداروں میں گلگت بلتستان کو نمائندگی دیا جانا  انتہائی اہم ہے ۔ اس سے بڑھ کر مالیاتی طور پر گلگت بلتستان کو کشمیر  افیئرز سے الگ کیا جانا چاہیئے۔ اور پرنسپل اکونٹنگ آفیسر چیف سیکرٹری گلگت بلتستان ہی ہونا چاہیے ۔بارڈر سے حاصل کردہ آمدنی میں باقی صوبوں کی طرز میں اٹھارویں ترمیم کے مطابق حصہ دیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ دیامر بھاشا ڈیم ہو یا دوسرے مستقبل کے پروجیکٹ ہو، ان  میں کشمیر کی طرح گلگت بلتستان کے بھی آبی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے رائلٹی مختص کیا جانا چاہیئےاور اس کی ادائیگی کو یقینی بنانا چاہئے۔

عدالتی نظام کو بہتر  بنانے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے عام لوگوں کو سستا اور آسان انصاف مل سکے۔  سپریم اپیلٹ کورٹ کی جگہ  سپریم کورٹ آف پاکستان کی بنچ اور چیف کورٹ کو ہائی کورٹ کا درجہ دینے کی ضرورت ہے اورہائی کورٹ اور نچلے تمام  عدالتوں میں مقامی ججوں  کی میرٹ پر  تعیناتی ہونا چاہئے ۔

 سول سروس میں کشمیر طرز پر چیف سیکرٹری اور آئی جی کے علاوہ تمام آفیسرز مقامی  ہوں  تاکہ حق حاکمیت کا خواب شرمندہ تعبیرہو۔

وزیر اعلی اور دیگر  تمام محکموں کے  وزراٗء  با اختیار ہوں  وہ اپنے محکموں میں چیف ایگزیکٹو کے اختیارات رکھتے ہوں یہ اختیارات ایڈوائزری نہ ہوں۔ جب تک اس طرح کے نظام کے ذریعے گلگت بلتستان کے لوگوں کے احساس محرومی کو ختم نہیں کیا جاتا کسی بھی طرح اس خطے میں ریاستی مفادات کو محفوظ نہیں رکھا جا سکتا ہے۔

عباس موسوی کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع استور سے ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ایم فل کی ہیں اور گلگت بلتستان کے قانونی امور پر وسیع معلومات رکھتے ہیں۔ وہ ایک سیاسی جماعت کے رہنما ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے