Hostel Issues in Pakistan 671

نوحے ہمارے۔۔۔

فخرِعالم


ابھی دربدر ہونے کا موڈ نہیں چنانچہ موجودہ ہاسٹل کے قصے کہانیاں یہاں سے کوچ کرنے کے بعد سُناتا ہوں۔ ابھی پچھلے ہاسٹل کے احوال سُنیں۔

ہاسٹل کسی اور کا تھا اور سرکار کی طرح ہائیبرڈ نظامِ کار پر کاربند تھا مگر وارڈن صاحب کو ناجانے یہ غلطی فہمی کہاں سے ہوئی تھی کہ اگر وہ ہاسٹل میں رہنے والے لڑکوں کے پیٹ کاٹ کر اخراجات کو کم سے کم رکھے تو کسی دن اس خدمت کے صلے میں اسے ہلالِ پاکستان دیا جائے گا۔

اس مقصد کے حصول کیلئے خدا جانے انہیں کیسے پاپڑ پیلنے پڑتے تھے۔ ایک دفعہ جب روزے کے دن تھے تو انہوں نے ہفتے میں سحری کے مینو سے دہی پانچ دنوں کیلئے اچانک یوں غائب کروائی جیسے ایجنسی والے اُٹھا کر لے گئے ہو۔ اِس کے بعد سے صرف دو دنوں کیلئے ہی دہی کی شکل دیکھنے کو ملی۔ ہاسٹل کے بڑوں سے بات کرکے بڑی مشکلوں سے دہی کی بازیابی کروائی گئی۔ اگلی سحری پر دیکھا تو معلوم ہوا کہ دو دن کی ہی دہی ہے جس میں اتنا پانی (بلکہ اسے اتنے پانی میں) ملایا گیا ہے کہ سات دن کام چلا سکے۔

عید کے چاند کی شہادت موصول ہونے تک ہاسٹل کے طول و عرض سے کئی لڑکوں کی شہادتیں موصول ہوئیں کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے وارڈن کے حکم سے ایک جَگ دہی کو پانی کی بڑی سی دیگچی میں ملانے کی روح پرور مناظر دیکھیں۔ عام دِنوں میں ناشتے میں جو انڈہ ملتا تھا وہ ہمیشہ لڑکوں کے بار بار کہنے کے باوجود آملیٹ ہی پکایا جاتا تھا۔ ظاہری سی بات ہے کی کہ فرائی انڈے کو دو تین بندوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔

کھانے کے مینو میں آلو کی فراوانی کو دیکھ کر ایک دفعہ مینو تبدیل کرنے کی درخواست کی گئی۔ اُن دنوں مینو کی حالت قریب قریب کچھ ایسی تھی؛ ایک دن مٹر، پھر آلو، پھر آلو مٹر اور پھر مٹر آلو۔ بہت کوششوں کے بعد ہاسٹل انتظامیہ مینو کی تبدیلی پر راضی ہوا۔ تالیوں کا زور تھما تو معلوم ہوا کہ ایک دن آلو کی جگہ آلو بھجیاں لانے کا فیصلہ ہوا ہے! لوٹکوہ چترال (جہاں کے آلو مشہور ہیں) سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک دوست نے ایک تاریخی فقرہ کہا۔ فرمایا، "دیکھیے ہم لوٹکوہ والوں سے زیادہ آلو کے شناسا کوئی نہیں ہیں۔ آلو کے ساتھ بُھجیاں والا سلوک کرو یا کچھ اور، آلو نے آلو ہی رہنا ہے۔” ہمارے اِس دوست کو پکا یقین تھا کہ اُن کے علاقے لوٹکوہ سے آلوؤں سے بھرے جو ٹرک آتے ہیں اُن کا زائد حصہ صرف ہمارے کیچن کی ہانڈی کی زینت بنتا ہے۔

ایک بار وارڈن صاحب کو معلوم ہوا کہ پنڈی میں کسی جگہ مارکیٹ سے سستا چاول ملتا ہے۔ دوڑ پڑے اور لے آئے۔ رات کو چاول پکا تو معلوم ہوا کہ کسی جینیاتی مسئلے کی وجہ سے چاول ناقابلِ برداشت حد تک کڑوا ہے۔ ظاہری سی بات ہے کہ چاول میں سے جو آدھا بیگ بچ گیا تھا وہ ضائع کرکے ایک فرض شناس افسر ملکی خزانے کو اربوں کا نقصان تو نہیں پہنچا سکتا۔ اس لیے انہوں نے دو دن بعد وہی چاول چینی ساتھ ملا کر پکایا۔ اُس رات ہم ہاسٹل والوں نے دنیا کا وہ انوکھا چاول کھایا جو زردہ نہ تھا مگر پھر بھی چینی کیساتھ تھا۔ لڑکوں نے شکایت کی تو انہوں نے صرف یہ فرمایا، "کوئی بات نہیں بھائیوں۔ اُنیس بیس کا فرق ہوتا ہے۔” ہم سوچتے رہے کہ کہ چینی اور نمک میں جو فرق ہے وہ اُنیس بیس کا ہے؟

خیر ایسی سینکڑوں کہانیاں ہیں جو اُس ہاسٹل میں دیکھنے (اور کھانے) میں آئیں۔ باقی قصے کہانیاں کسی اور دن پر اٹھائے رکھتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ چچا کارل مارکس ہوتے تو سماج کو چھوڑ کر اپنا پورا نظریہ ہاسٹلوں کے گرد بُنتے۔ ہاسٹل انتظامیہ کو وہ بورژوازی کہتے اور اسٹوڈنٹس کو پرولتاریہ۔ پھر اول الذکر طبقے کے ہاتھوں آخر الذکر کے استحصال کا بتاتے۔ نہیں معلوم پطرس بخاری کے دور کے ہاسٹل کیسے تھے جہاں داخلے کے شوق میں انہوں نے وہ کچھ کیا جو اُنہوں نے اپنے مشہورِ زمانہ مضمون "ہاسٹل میں پڑنا” میں بیان فرمائے ہیں۔ البتہ یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے دور کے پرائیوٹ ہاسٹلوں کو دیکھتے تو ہاسٹل میں رہنے کی خواہش میں انہیں اتنی زحمت اٹھانا نہیں پڑتی۔

ہاسٹلوں میں رہنے والے بیچارے وہ بد بخت مخلوق ہیں جن پر نظر کارل مارکس کی پڑی نہ سرکار کی پڑتی ہے۔ ہاسٹل واحد ادارے ہیں جن میں بہتری کی جانب ایک دفعہ بھی حکومت کی توجہ نہیں گئی۔ ہزاروں طلبہ و طالبات گھروں سے دور اجنبی شہروں میں محدود وسائل کے ساتھ ہاسٹل مافیا کے ہاتھوں خوار ہو رہے ہوتے ہیں۔ یہ وہ واحد شعبہ ہے جو جن کے ہاتھوں میں ہے انہیں اس کے تقاضوں کا کچھ علم نہیں۔ کبھی پنڈی جا کر پرائیوٹ ہاسٹلوں میں دیکھیں۔ جنہیں لاری اڈہ چلانا چاہیے وہ ہاسٹل چلا رہے ہوتے ہیں۔ حکومت اس حوالے سے اپنا فریضہ صرف یوں ادا کرتی ہے کہ گاہے بگاہے پولیس ہاسٹلوں میں چھاپے مارتی ہے اور اسلام آباد میں سی ڈی اے محلے والوں کی شکایت پر ہاسٹل بند کرتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت اور ہاسٹلز کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ بازاروں میں اشیا کی قیمتوں اور معیار کی جانچ پڑتال ہوتی ہے مگر کبھی بھی اور کہیں بھی کوئی سرکاری افسر ہاسٹلوں میں جاکر وہاں کی فیس اور کھانے اور رہائش کے معیار کا معائنہ کرنا گوارہ نہیں کرتا۔ اس وقت ہمارے شہروں میں لاکھوں طلبہ ہاسٹلوں میں ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جو کسی مہاجر کیمپ سے بھی بدتر ہے۔ طلبہ تنظیموں کا گلا ویسے بھی ہم نے گھونٹ دیا ہے اور جنہیں بخش دیا ہے وہ جامعات میں موسیقی اور مخلوط نشستوں کے خلاف جہاد اور مذہب کی ٹھیکہ داری جیسے مقدس کاموں کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ ایسے میں طلبہ کی بات کرے تو کون۔ اپنے ہی ملک کے شہروں میں دربدری کرنے والے ہزاروں، لاکھوں طلبہ کا یہ بحران اور المیہ آس پاس کے دوسرے المیوں کی طرح بے اعتنائی کا شکار رہے گا۔

جہاں سرکاری عزم ہی "سکون قبر میں ملے گا” ہو وہاں زمینی بحرانوں کی تدبیر اور المیوں کا سدِ باب کیسا۔


فخرِعالم کا تعلق چترال سے ہے۔ نمل اسلام آباد میں ماس کمیونیکشن کا طالبِ علم ہیں اور ادب، ثقافت اور تاریخ کے موضوعات سے شغف رکھتے ہیں. وہ بامِ جہاں میں بطورِ نائب ایڈیٹر فرایض سرانجام دے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “نوحے ہمارے۔۔۔

  1. بہت پر اثر تحریر یقینن ہوسٹل انتظامیہ کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگائے گا اور ان کے دل میں قوم کے مستقبل کے معماروں کے لئے ہمدردی پیدا کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں