غیر ملکی پاکستان میں 54

غیر ملکی پاکستان میں کیا کر رہے ہیں؟

اسد جاوید خٹک


میں اپنی جاب کے سلسلے میں گزشتہ 7 سال سے سیالکوٹ میں مقیم ہوں۔ سیالکوٹ برآمدات کے حوالے سے کراچی کی ٹکر کا شہر ہے۔ اگر پاکستان کھیلوں کا سامان برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے تو اسکا کریڈیٹ بھی سیالکوٹ کو جاتا ہے کیونکہ سیالکوٹ کے علاوہ پاکستان کے کسی بھی شہر میں کھیلوں کا سامان نہیں بنتا۔

سوال یہ ہے کہ غیر ملکی سیالکوٹ میں کیا کر رہے ہیں ؟

چند سال پہلے تک سیالکوٹ کی فیکٹریوں میں پروڈکشن روایتی طریقوں سے ہوا کرتی تھی۔ لیکن چونکہ دنیا بلکہ سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک پروڈکشن میں جدت کے حوالے سے ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں تو سیالکوٹ میں بھی اس بات کی ضرورت محسوس ہوئ کہ پروڈکشن کے طریقہ کار میں جدید طریقوں کا استعمال کر کے دنیا کا مقابلہ کیا جا سکے۔

چونکہ سری لنکن اور بنگلہ دیشی ہم سے اس میدان میں آگے نکل چکے ہیں اور وہاں پروڈکشن سائنسی بنیادوں پر شروع ہوچکی ہے تو سیالکوٹ کی بہت ساری کمپنیوں نے سری لنکا، بنگلہ دیش، کوریا اور جاپان سے ماہرین کو اپنے ہاں نوکری دی تاکہ کاروبار میں دنیا کا مقابلہ کیا جا سکے۔ آج بھی سیالکوٹ میں جس طریقہ کار پر پروڈکشن ہو رہی ہے وہ یہاں کورین ماہرین نے متعارف کرایا تھا۔

امریکہ اور یورپ کے گاہک ہر روز سیالکوٹ کی کسی نہ کسی کمپنی میں کاروبار کے سلسلے میں آتے جاتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے بڑے بڑے برانڈز سیالکوٹ میں اپنی پروڈکشن کرواتے ہیں۔ یہ برانڈز چونکہ قوانین کے پابند ہوتے ہیں اس لئے یہ سیالکوٹ میں ان کمپنیںوں کو بھی جن سے وہ اپنی پروڈکشن کرواتے ہیں قوانین کا پابند بناتے ہیں جیسا کے مزدوروں کے حقوق، مزدوروں کے لئے صحت مندانہ ماحول میں کام کرنا، مزدوروں کے لئے پینے کا صاف پانی، مزدوروں کی حفاظت کے لئے اگ سے بچاؤ کا انتظام، مزدوروں کی قانون کے مطابق دیہاڑی، جبری مشقت اور چائلڈ لیبر وغیرہ۔

اس مقصد کے لئے یہ برانڈز اپنے آڈیٹرز کے ذریعے سیالکوٹ کی کمپنیوں کا آڈٹ کرواتی ہیں اور جو کمپنی ان کے معیار پر پورا اترتی ہے وہاں سے وہ اپنی پروڈکشن کرواتے ہیں۔ بصورت دیگر وہ کسی اور کمپنی یا کسی اور ملک کا رخ کرتے ہیں۔

چونکہ ان حالات سے میرا ہر روز کا واسطہ ہے فیکٹریوں میں مزدور دیواروں پر اپنی تصاویر، پھول، مذہبی نعروں والے جھنڈے، اور ایک خاص طور پر ایک کاغذ جس پر لکھا ہوتا ہے کہ "اگر آج آپ نے دورود شریف نہیں پڑھا تو ایک بار پڑھ لیں” دیواروں پر چسپاں کر دیتے ہیں۔ نعلین مبارک والے جھنڈے بھی اپنی مشینوں پر لگا دیتے ہیں۔

عام طور پر ان چیزوں کو اگنور کر دیا جاتا ہے لیکن خاص کر جب آڈٹ وغیرہ ہونا ہو تو اس وقت جھنڈے اور دیواروں سے تصاویر اور کاغذ وغیرہ اتار دیئے جاتے ہیں تاکہ فیکٹری کا ماحول صاف ستھرا ہو اور آڈٹ پاس ہو سکے۔ یہ ذمہ داری فیکٹری کے مینیجرز کی ہوتی ہے۔ اور عموما دیکھا گیا ہے کہ اگلے دن وہ جھنڈے اور کاغذ دوبارہ لگا دیئے جاتے ہیں۔

آج راجکو کمپنی میں بھی یہ ہوا، کچھ دن بعد ایک بڑے برانڈ فیلا کا اس کمپنی میں وزٹ ہونا تھا تو سری لنکن مینیجر نے اپنی ڈیوٹی سمجھتے ہوئے دیواوں سے کاغذ اور مشینوں سے جھنڈے اتروانے کے جرم میں اپنی جان دے دی۔

راجکو کمپنی کے کئ ملازمین بتا رہے ہیں کہ سری لنکن مینیجر کا صبح سے صفائی کے معاملے پر جھگڑا چل رہا تھا اور انہوں نے گستاخئ جیسا کوئی کام نہیں کیا۔

یہ سری لنکن مینیجر کئی سال سے اس کمپنی میں کام کر رہا تھا اور اپنی ڈیوٹی کے معاملے میں سخت تھا جو اس اسکو ہونا چاھیئے تھا۔ ماتحت لوگ سخت مینیجرز کو یقینا پسند نہیں کرتے یہاں ہر ذاتی عناد کا بھی عمل دخل تھا۔ جن کو کبھی اس نے ڈانٹا ہوگا اس نے بھی آج اس سے حساب برابر کر دیا۔

سری لنکن مینیجر گستاخئ رسول کے سزا میں نہیں بلکہ ذاتی عناد اور اپنی ڈیوٹی کرنے کی پاداش میں مارا گیا۔

اللہ اس قوم کو عقل دے۔ اگرچہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں