44

سانحہ سیالکوٹ اور سری لنکا جانے والے پاکستانی

اسرار الدین اسرار، بشکریہ: ہم سب


ڈیموکریٹک سوشلسٹ ریپبلک آف سری لنکا جنوبی ایشیاء کا ایک جزیرہ نما ملک ہے جس کی کل آبادی سوا دو کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ اس کا کل رقبہ 25 ہزار تین سو تیس مربع میل ہے۔ سری لنکا میں سنہالہ اور تامل زبانیں بولی جاتی ہیں جبکہ انگریزی سرکاری اور تجارتی مقاصد کے لئے استعمال ہونے کے علاوہ ذریعہ تعلیم بھی ہے۔ اس لئے اکثریت آبادی انگریزی سمجھتی اور بولتی ہے۔ سری لنکا کی شرح تعلیم ترقی پذیر ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔

ابتدائی تعلیم مفت اور لازمی قرار دی گئی ہے اس لئے سکولوں میں داخلہ کی شرح 99 فیصد ہے۔ سری لنکا میں صحت کا نظام بھی بہترین ہے۔ یہاں کے لوگوں کی اوسط عمر ستتر سال ہے۔ یہ ایک زرعی ملک ہے۔ زرعی اجناس بڑی مقدار میں ایکسپورٹ کرتا ہے۔ ناریل کی پیداوار بہت زیادہ ہے اس لئے ناریل ہر غذا کا لازمی جز ہے۔ سیاحت کے شعبہ میں بھی سری لنکا کا نمایاں مقام ہے۔ سری لنکا میں اکثریت آبادی بدھ مت کے پیروکاروں کی ہے جو کہ کل آبادی کے ستر فیصد ہیں۔

ہندو بارہ فیصد، مسلمان نو فیصد، کرسچن سات فیصد اور دیگر مذاہب کے لوگ ایک فیصد ہیں۔ بدھ مت کو سری لنکا کا سرکاری مذہب سمجھا جاتا ہے۔ لوگ سادہ اور مہمان نواز ہیں۔ سری لنکا بہت بڑا تاریخی ورثہ رکھتا ہے۔ یہاں کے تاریخی مقامات دیکھنے کے لئے دنیا بھر سے سالانہ لاکھوں لوگ یہاں آتے ہیں۔ اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے سری لنکا کو تاریخی طور پر مشرق وسط اور یورپ سمیت دنیا کے کئی حصوں سے رابطہ کا ذریعہ اور تجارت کا مرکز سمجھا جاتا رہا ہے۔

سری لنکا کے گہرے ساحلوں کی وجہ سے اس کو پرانے بحری سلک روٹ میں سٹرٹیجک اہمیت حاصل رہی ہے جس کو آج کے دور میں میری ٹائم سلک روٹ کہا جاتا ہے۔ اس کی تاریخی اہمیت کی وجہ سے دنیا کی کئی قومیں یہاں آ کر آباد ہوئی ہیں اس لئے اس کو کثیر الاقوامی، کثیر النسل، کثیر اللسانی اور ثقافتی ملک سمجھا جاتا ہے۔ سری لنکا میں سنہالی نسل کے لوگ سب سے زیادہ ہیں اس کے علاوہ تامل، موورز، بھرگرز، ملایا، چینی اور ویدا نسل کے لوگ بھی یہاں آباد ہیں۔

سری لنکا کو سارک ممالک کے اتحاد کا ایک اہم رکن سمجھا جاتا ہے۔ مجھ آج سے پانچ چھ سال قبل سری لنکا کا سب سے بڑا شہر کولمبو جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ ایک ہفتے کے اس دورے میں ہم نے کولمبو کی تمام اہم جگہیں دیکھ لیں جن میں ان کا خوبصورت اسمبلی ہال، اہم مارکیٹیں، عجائب گھر، مشہور پارکس، ورلڈ ٹریڈ سینٹر، مشہور گرجا گھر یعنی گولڈن ٹمپل سمیٹ دیگر مذہبی مقامات اور وہ جگہ جہاں ہاتھیوں کو روزانہ صبح کھانا کھلانے کی تقریب منعقد ہوتی ہے جس کو دیکھنے کے لئے روزانہ ہزاروں سیاح آتے ہیں وغیرہ شامل تھے۔

ہم اپنے دورے کے دوسرے روز ہی کولمبو کی جامع مسجد پہنچ گئے تھے تاکہ وہاں کے مسلمانوں کے بارے میں جانکاری حاصل کی جا سکے۔ بلاخوف و خطر مسجد میں لوگوں کا آنا جانا تھا۔ مسجد کے امام سے ہماری ملاقات کرائی گئی جس نے ہمیں مسجد کا دورہ کرایا اور مسلمانوں کی کل آبادی اور بود و باش کے بارے میں آگاہ کیا۔ ہمارے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ یہاں مسلمان مکمل محفوظ اور خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔ آزادانہ طور پر اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کرتے اور تہوار مناتے ہیں۔

سری لنکا کی حکومت ان کو ہر طرح کا تحفظ اور سہولیات فراہم کرتی ہے۔ مسلمان سرکاری ملازمتوں کے علاوہ کاروبار زندگی میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں جبکہ مقامی لوگ ان کے کسی کام میں مداخلت نہیں کرتے اور نہ ہی مسلمان ہونے پر ان سے نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ سری لنکا میں ایک مشہور لال مسجد بھی ہے جس کو جامع الالفار مسجد کہا جاتا ہے۔ یہ مسجد بیسویں صدی میں تعمیر کی گئی ہے اس کی منفرد اور دلکش طرز تعمیر دیکھنے کے لئے دنیا بھر سے سیاح یہاں آتے ہیں۔

سری لنکا کے دورے میں ہم جس جگہ بھی جاتے تھے، لوگ ہمیں شکلوں سے پہچانتے یا ہمارا تعارف کرانے کے بعد گرمجوشی سے ملتے تھے۔ ہم نے محسوس کیا کہ سری لنکا میں پاکستانیوں کو عزت کی نگاہ دیکھا جاتا ہے جس کی وجہ دونوں ملکوں میں تجارت اور اچھے سفارتی تعلقات کے علاوہ کرکٹ کا دیرینہ تعلق بھی تھا جبکہ سری لنکا سارک ممالک کا بانی اور اہم رکن ہونے کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے، بلکہ یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ سارک ممالک میں پاکستان کے سب سے اچھے تعلقات صرف سری لنکا سے ہی رہے ہیں۔

سری لنکا اور پاکستان جنوبی ایشیائی ممالک میں تجارت کے لحاظ سے دوسرے بڑے پارٹنر ہیں۔ پاکستان کھیلوں کا سامان سمیت کئی اہم مصنوعات کی بڑی مقدار سری لنکا کے لئے برآمد کرتا ہے۔ دونوں ممالک میں تجارت کا حجم ایک اندازے کے مطابق دس ملین ڈالر سے زائد ہے۔ دونوں ممالک چین کے ساتھ یکساں تجارتی اور سفارتی تعلقات بھی رکھتے ہیں جبکہ دونوں ممالک میں گہرے عسکری تعلقات بھی رہے ہیں۔

اپنے ہفت روزہ دورے کے دوران ہمیں سری لنکا میں کہیں پر بھی کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ پاکستان کا نام سن کر مقامی لوگ خوشی خوشی ہم سے ملتے اور ہر طرح کی مدد کی پیشکش کرتے تھے۔ اکثر لوگ ہم سے کرکٹرز کے بارے میں پوچھتے تھے۔ ان کو ہمارے تمام کرکٹرز کے نام یاد تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں کے لوگوں کو کرکٹ سے بے حد لگاؤ ہے۔ ہم نے کولمبو کی اہم شاہراؤں پر وہاں کے کرکٹرز کے پوسٹرز بھی دیکھے۔

سانحہ سیالکوٹ جس میں مقامی فیکٹری میں بحیثیت جنرل منیجر کام کرنے وائے سری لنکا کے ایک شہری پریانتھا کمارا کو توہین مذہب کے الزام میں بے دردی کے ساتھ قتل کر کے اس کی لاش کو جلا دیا گیا تھا اس کے بعد سری لنکا کے شہر کولمبو میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر لوگوں کے ایک بڑی تعداد احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ جب کہ ان لوگوں کے سخت ردعمل کی نمائندگی کرتے ہوئے سری لنکا کے وزیر اعظم نے اپنے بیان میں اس واقع پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے واقع میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف دنیا بھر اور سری لنکا کے میڈیا نے اس پر زبردست واویلا کیا اور واقعے کو انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے ملوث عناصر کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ گویا دو دنوں سے سری لنکا اور پوری دنیا پر سکتا طاری ہوا ہے۔

اب کے بعد وہاں رہنے والے یا وزٹ پر وہاں جانے والے پاکستانیوں اور وہاں کی مسلم آبادی کے ساتھ سری لنکا کے عوام اور حکومت کا رویہ کیسا ہو گا اور پاکستان کے ساتھ سری لنکا کے دیرینہ تعلقات میں کیا تبدیلی آئے گی اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر ایک بات طے ہے کہ آئندہ سری لنکا کے دورے پر جانے والے پاکستانیوں کو وہاں کے لوگوں سے اپنا تعارف کراتے ہوئے یقینا بہت زیادہ شرمندگی محسوس ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں