وسعت اللہ خان 101

جن بوتل میں بند کرنے والے کہاں گئے؟

وسعت اللہ خان بشکریہ بی بی سی اردو


ہماری لاف زنی و لن ترانیاں اپنی جگہ مگر سچ تو یہ ہے کہ بوتل کا ڈھکن کھولنے والا ہی جانتا ہے کہ جن بوتل میں واپس کیسے بند کیا جاتا ہے۔

تمام مکاتبِ فکر کے جید علما کرام کا کروڑوں لوگ صرف اس لیے احترام کرتے ہیں کہ ان کے خیال میں یہی علما نبی کی علمی میراث کے سچے وارث ہیں لہٰذا ان کے منھ اور قلم سے نکلا ایک ایک لفظ، کنایہ و اشارہ آمنا و صدقنا کا متقاضی ہے۔

مگر ظلمِ عظیم تو یہ ہے کہ بیشتر جید علما کتابِ مقدس اور اس کے پیمبر کی تعلیمات و پیغامات کو توڑ مروڑ کے پیش کرنے والے شعبدہ بازوں کی بلند آہنگی و قوتِ مجمع گیری سے خائف ہو کر اپنی جسمانی و معاشی سلامتی کے خوف سے چپ سادھے سادھے کروڑوں سادہ لوحوں کو ذہنی قتلِ عام کرنے والے پیشہ وروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں یا بند کمروں میں بیٹھ کر ’ڈنڈی مار تجارتِ دین‘ کے پرتشدد چلن کی مذمت و افسوس کی سرگوشی میں مبتلا رہیں۔

یہ امانت دارانِ دین ہر جمعہ کو منبرِ نبی پر فروکش ہو کر حضرت بلالِ حبشی کے گلے میں رسی ڈال کر ریت پر گھسیٹے جانے، طائف میں رحمت اللعالمین کو پتھراؤ سے لہو لہان کرنے اور پھر بھی نبی کے لبوں سے بددعا نہ نکلنے، امام حسین کا سر تن سے جدا ہونے مگر انکار پر برقرار رہنے سمیت ظلم کے خلاف ڈٹ جانے، جان کی قیمت پر باطل کی نفی کرنے اور صبرِ عظیم کا مظاہرہ کرنے والے ان گنت برگذیدگان و عظام کے بے شمار واقعات نسل در نسل سنا رہے ہیں اور ہم نسل در نسل سن رہے ہیں۔

البتہ ان سے پوچھا جائے کہ آج آپ کی ہی آنکھوں کے سامنے دین کا نام استعمال کر کے بلاتحقیق یا جھوٹے سچے الزامات سے عام لوگوں کو سنگسار یا نذرِ آتش کروایا جا رہا ہے، اس چلن کو رکوانے کے لیے آپ کھڑے کیوں نہیں ہوتے، آپ اس ظلم کو توہینِ رسالت کیوں نہیں کہتے؟

آپ کی زبان اسے فساد فی الارض کہتے ہوئے کیوں کانپتی ہے۔ آپ جس زبان سے صدیوں پہلے کے ظالموں اور قاتلوں کی ببانگِ دہل مذمت کرتے ہیں اسی زبانِ مبارک سے چشم دید قاتلوں اور قتل پر اکسانے والوں کی مذمت تو کجا ان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بھی کیوں ڈرتے ہیں۔

آپ ہمیں تو مسلسل بتاتے ہیں کہ یہ دنیا عارضی ہے، ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے مگر موت کے بعد صالحین کے لیے ایک شاندار زندگی اور منکرینِ حق کے لیے دہکتا جہنم ہے۔ لہٰذا حق کو حق اور باطل کو باطل کہتے کہتے جان بھی جائے تو بے شک چلی جائے۔

لیکن آپ جو ہم سے کہتے ہیں خود آپ کو بھی اس پر یقینِ کامل ہے؟

اگر آپ کی ’مصلحتی خامشی یا چونکہ چنانچہ‘ اس لیے ہے کہ کہیں آپ کے بولنے سے جلتی پر اور تیل نہ پڑ جائے تو حضورِ والا آپ کی خامشی اور ہچر مچر تو الٹا اثر دکھا رہی ہے۔

فسادی آپ کی چپ کو آپ کی اخلاقی کمزوری جان کر اور دیدہ دلیر ہوتے جا رہے ہیں۔ مجمع کی وحشت بڑھاتے جا رہے ہیں۔ آپ کے مقفل لبوں سے جو خلا پیدا ہو رہا ہے اسے جھوٹ اور آدھا سچ تیزی سے بھر رہا ہے۔

تو کیا آپ کا بھی صدائے حق پر ایمان اتنا ہی مستحکم ہے جس استقامت کی توقع جوق در جوق اپنی امامت میں نماز پڑھنے والوں سے رکھتے ہیں؟

میں اس تحریر کے احاطے میں کنفیوز ریاست، ہوا کے رخ پر ڈولتی پارلیمان، یادداشت سے محروم حکومت، متضاد فیصلوں کے بوجھ تلے دبی عدلیہ اور دائمی کامران فوجی اسٹیبلشمنٹ کا بھی تذکرہ کرنا چاہتا تھا۔

مگر حضورِ والا یہ سب ادارے آپ کی زبان اور عمل کی طاقت کے آگے کچھ نہیں۔ آگ لگانے یا بجھانے کی حیرت انگیز سرعت رفتار طاقت ان میں سے کسی کے پاس نہیں۔

جو مجمع آپ کی ایک پکار پر جمع ہو سکتا ہے وہ آپ کے ایک حکم پر چھٹ بھی تو سکتا ہے۔ لہٰذا آپ ہی سچائی پر مصمم یکجائی کی کرامت سے دیوانگی کے جن کو بوتل میں بند کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کمزوری کی کوئی اوقات نہیں اور طاقت سے بڑی کوئی آزمائش نہیں اور زبان کی کاٹ کے آگے تلوار کچھ نہیں۔

آگ کا کوئی مذہب نہیں مگر پانی کی بھی کمی نہیں۔ کمی ہے تو بس آپ کی آنکھوں میں نمی کی۔

ہم کب تک آپ کی طرف پتھرائی آنکھوں سے دیکھتے رہیں گے اور آپ عالمِ تذبذب کے حجرے میں بند رہیں گے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں