عورت مارچ کی مخالفت یا سماجی ترقی کی؟

تحریر: شفقت قادری

یہ کچھ باتیں ان لوگوں (خواتین و حضرات) کے کانوں اور آنکھوں کیلیے ہیں جو عورت مارچ کے حوالے سے تذبذب کے شکار ہیں۔ جن لوگوں نے عقل، فہم اور تحمل کو خیرباد کہہ دیا ہے، یہ سطریں ان لوگوں کیلیے نہیں جو بقول مشتاق یوسفی صاحب "جو بات عقل اور دلیل کی بنیاد پر دماغ میں کبھی گٸی ہی نہیں، وہ عقل اور دلیل کی بنیاد پر وہاں سے نکلے گی کیسے؟”
یہ الفاظ ان لوگوں (عورتوں اور مردوں) کے شاید کام کے نہ ہو، جنہوں نے تمام تر توانائی کے ساتھ عورت مارچ میں حصہ لینے کے لئے پر عظم ہیں، وہ میرے الفاظ کے محتاج نہیں کہ وہ ان سے سیکھیں۔ زندگی انہیں پہلے ہی سچ کا سبق پڑھا چکی ہے۔ میں ان کے عزائم کو سراہتا ہوں۔
ساتھیو! اپنی بات کی ابتدا انگلستان کے ایک مشہور شاعر پی بی شیلے کے الفاظ سے مستعار لے کر کر رہا ہوں، جو انہوں نے 1819ء میں لکھے تھے:

۔An old, mad, blind, despised, and dying King
؛Princes, the dregs of their dull race, who flow
hrough public scorn,– mud from a muddy spring
Rulers who neither see nor feel nor know
But leechlike to fainting country cling
Till they drop, blind in blood, without a blow.
A people starved and stabbed in the` untilled field;
An army, whom liberticidal and prey
Makes as a two-edged sword to all who wield;
Golden and sanguine laws which tempt and slay;
Religion Christless, Godless — a book sealed;
A senate, Time´s worst statute unrepealed —
Are graves from which a glorious day Phantom may
Bust, to illumine our tempestuous day.

اس کا اپنے سماجی حالات سے موازنہ کر کے دیکھیں، کیا آپ کو موجودہ حالات 1819ء والے انگلستان جیسے نہیں لگتے؟
دھرتی سے آدم خور جیسے چپٹے ہوئے جاگیردار ماضی کے شہزادوں جیسے حرامخور نہیں؟ کیا سندھ کے ہر شہر کو کسی نہ کسی بادشاہی یا جاگیردار کے حوالے نہیں کیا گیا ہے؟ کیا ہمارے حکمران احساس، عقل اور سمجھ سے عاری نہیں؟ کیا ہمارے جرنیلی جودھے آزادی کو 1947ء سے مسلسل شہید نہیں کرتے آ رہے ہیں؟ کیا ہمارا ذاتی بھروسہ خدا سے محروم نہں؟ ان میں محبت، سچ ہے یا دنیا پرستی اور دکھاوا؟ کیا ہم نے مذہب کو ‘بند کتاب’ نہیں بنایا کہ اس میں کوئی تحقیق، بحث، کوئی سوال پیدا ہونے کا کوئی بھی آثار نظر نہ آئے؟ کیا رومی صاحب نے اس طرز کے روحانی دھندے کو دیکھ کر نہیں کہا تھا:۔
حیف می آید، کان مرا دیں پاک
در میاں جاھلاں گردد ھلاک
کیا ایمان صرف ہمارے پاس ہے؟ ذرا مشرقی وسطٰی کے دو برادر اسلامی ممالک تیونس اور مراکش کی موجودہ سماجی حالات کا بغور جائزہ لے کر دیکھیں کہ وہ کیسے اپنے آپ کو ایمان والے رکھتے ہوئے از سر نو ابھارتے اور سنوارے جا رہیں ہیں۔ ہھر ہم کیسے نہ کہں کہ ہماری ظالم ثقافت اس دور کے انگلستان جیسی ہیں؟ مجھے ظلم و جبر کی ثقافت وہی لگ رہی ہے۔ شیلے کے آخری الفاظ پر غور کریں:وہ اس ظلم کے راج کو قبریں کہتا ہے، اور کہتا ہے کہ ان قبروں کو چیرتے ہوئے ایک نئی روح نکلے گی جو ہمارے بدقسمت دن کو روشن کرے گی۔
اس دور میں بھی ایسے کئی لوگ ھون گے جنہوں نے ثقافت، اقدار، اخلاق اور دین دھرم کے نام سے قبروں کا ساتھ دیا ہوگا اور قبروں کو مسمار کرکے نکلنے کی کوشش کرنے والی روحوں اور جوش کی نندا کی ہوگی۔ وہی عمل آج بھی جاری ہے، مگر یہ ضرور دیکھیں کہ اگر انگلستان پر ان قبروں والی ‘ظلم کی ثقافت’ کا راج ہوتا، انگلستان اور اپنی دھرتی میں کوئی فرق نہیں ہوتا، ترقی کیلیے ضروری ہے کہ ماضی کے قبروں کی حکمرانی کو ختم کیا جائے۔

دوستو! بات یہ ہے کہ عورتوں کے حقوق کی جدوجہد ساری دنیا کیلیے نئی ہے۔ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ عورت مارچ مغربی ثقافت ہے وہ بالکل غلط ہیں۔ پر کیوں؟ آپ کو ان کی مثال نامور سائنسدان اور لکھاری کارل ساگان کی کتاب ‘ڈیمن-ہانٹیڈ ورلڈ’ سے ملے گی۔ اس کتاب میں ایک مکمل باب ‘سائنس اینڈ وچ کرافٹ’ کے عنوان سے ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ یورپ اور آمریکا کے اندر چرچ نے لاکھوں عورتوں کو ‘شیطان کی دوست’ قرار دے کر زندہ جلا ڈالا تھا۔

چرچ کی طرف سے عورتوں پر کتنے مظالم ڈھائے گئے اس کا اندازہ ایک نئی تحقیق سے ملے گا جس کے مطابق 1560ء سے 1660ء تک ،چالیس ہزار عورتوں کو زندہ جلا کر مارا گیا۔ علاقے کے چرچ اپنی مقبولیت کی خاطر اعلانات کراتے تھے کہ ‘ہم نے اتنی ساری چڑیل عورتوں کو مارا ہے، ہمارے یہاں آ جائے، دوسرے علاقوں سے زیادہ ہم آپ کو شیطان سے بچا سکتے ہیں’۔ عورتوں کو زندہ اس لیے جلایا جاتا تھا کہ مقدس بائیبل میں لوگوں کا خون بہانا منع ہے۔ پادریوں نے اس کے لئے یہ تاویل نکالی کہ ‘عورتوں کا خون بہاتے نہیں، زندہ جلاتے ہیں۔’

عورتوں کے درد کی کتھا فرانس کے ایک نامور لکھاری اور شاعر وکٹر ہیوگو اپنے ناول ‘ہنچ بئک آف نوٹر ڈیم’ (نوٹرڈیم کا کبڑا عاشق) میں پیش کی ہے۔ ان پر کئی فلمیں بھی بنائی گئی ہیں۔ آخری عورت جسے چڑیل کہہ کر قتل کیا گیا، وہ بھی مغرب کے مائی باپ ملک آمریکا کے میں کیا گیا۔ اس عورت کو 1817ء میں بہت بیدردی سے قتل کیا گیا۔ آمریکا کے اندر چڑیل قرار دے کر مارنے کا واقعہ مساچوسیٹس میں پیش آیا تھا، جو اب دنیا میں ‘مساچیوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی’ کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔! باقی دنیا میں وہ کام اکیسویں صدی تک جاری ہے۔ سی این این نے 8 جنوری 2009ء کو خبر شایئع کی کہ افریقی ملک پاپوا نیوگنی میں ایک عورت کو زندہ جلا کر مارا گیا، کیونکہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ وہ چڑیل اور شیطان کی دوست ہے۔!
کارل ساگان کی کتاب کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ جس عورت پر بھی چڑیل کا الزام ہے، اگر کوئی بھی اس عورت کی مدد کرتا تھا تو سارے علاقے کے لوگ اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ سماجی نفرت اور چرچ کی جانب سے سزا کے خوف سے کوئی شخص ان عورتوں کو پانی کا ایک گھونٹ تک نہیں پلاتے تھے۔ لوگ ایسے بربریت کو ثقافت، مذہب اور کئی نام دے کر درست ثابت کرتے تھے۔
یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ عورتوں کے حقوق کی بات مغربی ثقافت میں نہیں، اس لیے وہ مغربی ثقافت نہیں ہے۔ ثقافت مغرب کی ہو یا مشرق کی مگر وہ مرد کے چؤگرد گھومتی ہے۔ اسی طرح عورتوں کے حقوق کی بات خود عورتوں نے شروع کی۔ اس کی ابتدا مغرب کے کچھ عورتوں نے کی، جنہیں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ہمارے معاشرے کی عورتوں سے پہلے ملیں۔ ذرا خود سوچیے! کیا ہمارے ہاں ایک دو سو برس قبل عورتوں کی تعلیم کا کوئی انتظام تھا یا ادارے موجود تھے؟

مسلمانوں کی تعلیم کیلیے کوششیں کرنے والے سر سید احمد خان نے بھی عورتوں کی تعلیم کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ‘عورتوں نے اگر لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تو وہ اپنے یاروں کو خطوط لکھیں گی۔’ اگر ہماری عورتوں نے مغربی عورتوں سے پہلے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا ہوتا تو وہ سب سے پہلے اپنے حقوق کی بات کرتیں۔ ہم نے انہیں نہیں پڑھایا، البتہ ہم لوگ انہیں طعنہ دیتے ہیں کہ وہ مغربی ثقافت کی پیروری کر رہی ہیں۔!

ایک بات تو بتا دیجیے! اگر سر میں درد ہوتا ہے تو مغربی دوائی کھاتے ہو یا نہیں؟ مغرب کے نام والی کسی گاڑی پر سفر کیا ہے؟ کمپیوٹر اور موبائل فون جس پر آپ یہ سطریں پڑھ رہیں ہیں، کیا وہ مغرب کی ایجاد نہیں؟ سیمینٹ سے بنے گھر سے لے کر باتھ روم تک، کپڑوں (ٹیکسٹائل مل مغربی ایجادات ہیں) اور قمیص پر لگے بٹن تک ہم پوری طرح مغرب میں ہی ڈوبے ہیں، ہر چیز ان لوگوں کی استعمال کر رہے ہیں۔

امانوئیل کانت نے ایک مزیدار بات کی تھی کہ ‘جس طرح دین دھرم جبر کے سہارے نہیں چل سکتا، بلکہ ایک خود اختیاری معاملہ ہے۔ (قرآن شریف میں بھی یہی بتاتا ہے) تو پھر دین دھرم کو محبت اور پیار سے الگ نہ کرو۔ رومی، شاہ لطیف، قلندر، سچل دین اور محبت کی بات کو جوڑ کر کرتے تھے جبکہ ایک رجعتی شخص کے پاس جو دین کا تصور ہے اس میں محبت کا کوئی عنصر شامل نہیں۔ اس لیے ایسے سارے لوگ سخت گیر، تنگ نظر،خود پسند اور ضدی ہوتے ہیں۔ رومی نے ایسے لوگوں کیلیے کہا ہے کہ:
ھر کہ بود عاشق خود
پنج نشان دارد بد:
سخت دل و سست قدم
کاھل و بی کار و ترش

ہر کوئی اگر اپنا ہی عاشق (خود پرست) ہوگا، ان میں برائی کی یہ پانچ علامات ہونگی: سنگ دلی، سست قدمی، کاہلی، بیکاری اور سبھاؤ میں کٹھور پن۔

اختلاف کرنا، اختلاف بیان کرنا اور مختلف ہونے کا حق انسانوں نے بڑی محنت کے بعد حاصل کیا ہے۔ ہمیں آپ کو یا عورت مارچ کرنے والوں کو ایک دوسرے سے اختلافات ہونگے، مگر اختلاف کا مقصد دشمنی یا بدتہذیبی تو نہیں! ہر کوئی اپنے علم اور سمجھ کے مطابق چیزوں کو دیکھتا ہے۔ محض اپنی سمجھ کو عقل کل قرار دینا اور مخالف کی بات کو ‘کفر’ کہہ کر رد کردینا خود پسندی نہیں تو کیا ہے؟!
بقول بلھے شاہ:
عاشق هويوں رب دا تے ہوٸی ملامت لاکھ
تینوں کافر کافر آکھدے، توں آھو آھو آک۔

فارسی میں ایک کہاوت ہے کہ ‘یک من علم، دھ من حلم درکار است`
"ایک من علم کو سنبھالنے کیلیے طبیعت میں دس من حلم، نرمی کی ضرورت ہوتی ہے۔”

آخر میں ایران کے جدید دور کے سب سے بڑے شاعر احمد شاملو کے الفاظ آپ کے سامنے رکھ کر ہاتھ جوڑ کر اجازت چاہوں گا۔
لازم نیست یکدیگر را تحمل کنیم، کافیست
ھمدیگر را قضاوت نہ کنیم۔
لازم نیست براٸ شاد کردن یکدیگر را تلاش کنیم
کافیست، بھم آزار نرسانیم
حتی لازم نیست یکدیگر را دوست داشتہ باشیم
فقط کافیست دشمن ھم نباشیم
درکنار شاد بودن و با آرامش زیستن سخت سادہ است۔

ضروری نہیں کہ ایک دوسرے کو برداشت کریں
یہی کافی ہے کہ ایک دوسرے پر فتوے نہ لگائیں
ضروری نہیں کہ خوشی کیلیے ایک دوسرے کو ڈھونڈیں
یہی کافی ہے کہ ایک دوسرے کے دوست رہیں
صرف یہی کافی ہے کہ ایک دوسرے کے دشمن نہ ہوں۔

خوش رہنا اور سکوں سے زندگی بسر کرنا انتہائی آسان کام ہے۔

سندھی سے ترجمہ: رحمت تونیو

اپنا تبصرہ بھیجیں