گلگت بلتستان میں پاکستانی ریاست کی حکمرانی جبر اور شک کی بنیاد پر قائم ہے: ڈاکٹر نوشین علی

جبر کے فضاء کو توڑنے کے لئے ترقی پسند، وطن دوست تینظیموں، اساتذہ اور لکھاریوں کے ایک وسیع علمی و عملی اشتراک کی ضرورت ہے: مصنفہ

رپورٹ: احتشام خان

پاکستان میں خوف کی وجہ سے لوگ آئین کے اندر دی گئٰ اپنے بینادی حقوق پر بات کرنے سے بھی کتراتے ہیں۔گلگت بلتستان میں پاکستانی ریاست کی حکمرانی شک اور بد اعتمادئ کی بنیاد پر قائم ہے۔


ان خیالات کا اظہار نامور مصنفہ اور استاد ڈاکٹر نوشین علی نے گزشہ دنوں کراچی میں ایک منعقدہ سیمنار اور اپنے کتاب "فریبی ریاست : گلگت بلستاتن میں احساس حکمراین و ترقی” کی تقریب رونمائی میں کیں۔
تقریب کا اہتمام این ایس ایف گلگت بلتستان سندھ زون نے کیا تھا جس میں گلگت بلتستان سمیت جموں و کشمیر اور پاکستان کے مختلف ترقی پسند و قوم پرست طلبہ تنظیموں کے کارکنوں، طلبہ و طالبات اور زندگی کے مختلف شعبئہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے نے شرکت کیں۔

NSFGB Sindh Zone President recieves a copy of Deelusional State from the author, Dr Nosheen Ali

کیمبرج یونیورسٹی کے شائع کردہ کتاب کی مصنفہ نے کتاب اور گلگت بلتستان کے متعلق ان کی تحقیقات پر مفصل روشنی ڈالی۔

ڈاکٹر نوشین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان بھر میں نوجوان آئین پر بات کرنے سے کتراتے ہیں, جس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنے حق کی بات کرنے سے خوفزدہ کیا گیا ہے.
گلگت بلتستان کی سیاسی و آئینی تشخص کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس اہم خطے میں سیاسی محرومی اور جبر کی کیفیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں بغیر کسیآئینی و ضمہوری آصولوں کے حکمرانی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "میں نے گلگت بلتستان میں اپنی ریسرچ کے دوران سینکڑوں سیاسی کارکنوں و رہنماوں، صحافیوں اور ادبی حلقوں کاانٹرویو کیا مگر جبر کا یہ عالم ہے کہ میں کتاب کی تکمیل پر ان کا نام تک نہیں لے سکتی کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ ان کا کام زندہ رہے اور وہ خود بھی”۔.


انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں پاکستانی ریاست کی حکمرانی شک اور بد اعتمادی کی بنیاد پر قائم ہے. ریاست کے آگے عوام مشکوک ہیں, اور ریاستی پالیسیوں کے نتیجے میں عوام بھی ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے ہیں. اس شک کی فضا کو توڑنے کے لیے انھوں نے ترقی پسند اور وطن دوست سیاسی تنظیموں، ادیبوں، صحافیوں، طلباءاور اساتذہ کی ایک وسیع علمی و عملی اشتراک کی ضرورت پر زور دیا -.
کتاب میں گلگت بلتستان میں ریاست سازی, نمائندگی و ریاستی جبر, ماحولیات و ادب, اور تعلیم و مذہبی سیاست پر تحقیقی مقالے شامل ہیں.
پروگرام کے اختتام پر موجود طلبہ و طالبات کا ڈاکٹر نوشین علی کے ساتھ تفصیلی سوال جواب کا سیشن ہوا.

اپنا تبصرہ بھیجیں