کنک کے چند دانے، ہَری کوکھ اور امید کی اذان

فخر عالم

اردو ادب میں اگر دس بہترین ناولوں کی فہرست ترتیب دی جائے تو مستنصر حسین تارڑ کے ناول ”بہاؤ“ کو بلا جھجک اس میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ ”بہاؤ“ کی عظمت کی دو وجوہات ہیں۔ اول ناول کی کہانی ہے جو ہزاروں سال قبل کی وادی سندھ اور اس کی تہذیب کے گرد گھومتی ہے۔ دوسری وجہ اس کا نہایت ہی منفرد لب و لہجہ اور زبان ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اگر آج سے ہزاروں سال پہلے کی کسی کہانی اور اس کے کرداروں کو ناول کے ذریعے پیش کیا جائے اور توقع کی جائے کہ اس قدیم پلاٹ کا حق پوری طرح سے ادا ہو تو ناول کی زبان، اس کے استعارے، محاورات اور لب ولہجہ موجودہ دور کی زبان سے یکسر مختلف ہوں گے۔

ناول کی کہانی گھاگھرا نامی ایک دریا اور اس سے متصل بستی کے گرد گھومتی ہے۔ ہندؤوں کی مقدس کتاب رگ وید میں سرسوَتی نام کے ایک اساطیری دریا کا ذکر آیا ہے جسے ایک دیوی کی تجیسم مانا جاتا ہے۔ گھاگھرا نامعلوم وجوہات کی بنا پر خشک ہوگیا۔ ”بہاؤ“ کی کہانی اسوقت کی ہے جب دریا خشک ہورہا ہے۔ اس سے جُڑی بستی میں طغیانی آنی بند ہوجاتی ہے۔قحط آتا ہے اور یہ قحط اس بستی سے انسانی وجود کو اپنے ناخنوں سے کھرچ کھرچ کر معدوم کررہا ہے۔
موجودہ دور میں محققین کی ایک بڑی تعداد اس بات پر متفق ہے کہ سرسوَتی (گھاگھرا) دریائے سندھ کے متوازی چولستان میں بہتا تھا۔ یہ ان سات دریاؤں میں سے ایک ہے جو رگ وید میں مذکور ہیں۔ تارڑ صاحب اس اساطیری دریا کے نقوش ڈھونڈنے چولستان کے ریگزاروں کی خاک چھانی، ماہرین لسانیات سے اسوقت کی زبانوں پر بات کی اور پھر اپنے تخیل آفرینی سے ہزاروں سالوں سے مدفون اس تہذیب اور اس میں زندگی کو جھاڑ پونچھ کر اس میں جان ڈال دی اور متحیرکن اسلوب کے ساتھ پیش کیا۔ ناول کی زبان کو اس تہذیب کے قریب اور مانوس رکھنے کے لئے موجودہ دور کی ان زبانوں سے الفاظ، محاورے اور استعارے استعمال کیے جو اس وقت کی رائج زبان دراؤڑی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ چنانچہ ناول میں براہوی، سرائیکی، سندھی اور سنسکرت زبانوں کے الفاظ بکثرت ملتے ہیں۔

ناول کا مرکزی کردار پاروشنی نامی ایک عورت ہے۔ ورچن ایک سیاح ہے جو گھاگھرا کنارے اپنی بستی سے دور آباد علاقوں کو دیکھنے جاتا ہے جہاں آریائی قوم دوردراز کے پہاڑوں سے اپنے گھوڑوں پر سوار اور لوہے سے بنے ہتھیاروں سے لیس آتے ہیں اور مقامی لوگوں پر تسلط جماتے ہیں۔ اس کے علاوہ سمرو ہے جو کاشتکاروں کے لئے اوزار بنایا کرتا ہے۔ اگرچہ پاروشنی شادی ورچن سے کرتی ہے مگر ساتھ ہی سمرو کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہے اور ان دونوں کو ایک ترازوں کے دو باٹ سمجھتی ہے۔
پکلی مٹی کے برتن بنانے والی ایک عورت ہے اور مامن ماسا ایک مجذوب، جو بستی سے باہر رکھوں میں رہتا ہے۔ باڑے میں بستی کے بیلوں کی دیکھ ریکھ کرنے والا بوڑھا دھروا بھی ناول کا اہم کردار ہے۔ ان کے علاوہ ایک اور دلچسپ کردار ڈورگا کا ہے۔ ڈورگا دراصل دریائے سندھ کے کنارے آباد موہنجوداڑو سے تھا۔ وہاں وہ اور اس کے آبا نسل در نسل اینٹوں کے بھٹے میں جبری مشقت اور مزدوری کی صعوبتیں سہتے آئے تھے۔ ایک دن وہ بھٹے سے بھاگ جاتا ہے اور ورچن کے ساتھ جو ان دنوں موہنجوداڑو آیا ہوا تھا، گھاگھرا کنارے اس کی بستی میں آجاتا ہے۔
ناول کے کردار protagonist اور antagonist کے روایتی ڈھانچے میں نہیں ڈھالے گئے ہیں اس لیے کہانی کے اختتام پر آپ کے دل میں کسی ایک کردار کے لئے نفرت اور دوسرے کے لیے بے جا تحسین کے جذبات پیدا نہیں ہوتے۔ تمام کردار عام انسانوں کے ہیں جن کی ڈوریاں ان کے اعتقادات، ضروریات اور مجبوریوں سے بندھی ہیں۔ گھاگھرا سے جُڑی یہ بستی شروع میں ایک خوشحال آبادی ہے۔ دریا بہتا ہے۔ سال میں ایک دفعہ طغیانی آتی ہے جس کے آنے سے پہلے بستی والے کھیتوں کی کھدائی اور بوائی کرکے تیار کرتے ہیں۔
ایک دفعہ ورچن رگ وید میں مذکور دریاؤں اور ان سے جڑے علاقوں کی سیر کرکے چھ سات سال بعد بستی کو لوٹا تو اسے محسوس ہوا کہ بستی میں پہلے کی نسبت زیادہ دھول اڑنا شروع ہوئی ہے۔ سمرو کو جسے رات کو اٹھ کر پانی پینے کی عادت ہے، خفیف سا شک ہوتا ہے کہ ایک بھرے جھجھر میں پانی وہاں نہیں ہوتا جہاں ہونا چاہیے بلکہ اس سے کم ہوتا ہے۔ ادھر ڈورگا دبے لفظوں اس خدشے کا اظہار کرتا ہے کہ جب وہ کنویں میں سے پانی نکالنے کے واسطے بوگا اندر پھینکتا ہے تو وہ پہلے کی نسبت زیادہ دیر سے جاکر پانی کو لگتا ہے۔
ان سب کے خدشات جلد ہی سچ ثابت ہوئے جب بستی والے کھیتوں کی کھدائی اور بوائی کے بعد طغیانی کا انتظار کرتے رہے پر وہ نہیں آئی۔ پھر دریا کا پانی بھی بیٹھنے لگا جس کے ساتھ ہی بستی والوں کے سروں پر خوف منڈلانے لگا۔ گھاگھرا رفتہ رفتہ خشک ہورہا تھا۔ وہی گھاگھرا جس سے ان کی زندگی جُڑی تھی۔ بستی کو اداسی، خاموشی اور خدشات کی سیاہ دُھند اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ پھر ان کے اناج کے ذخیرے گھٹنا شروع ہوتے ہیں تو ساتھ ہی ان کے جسم بھی پھگلنے لگتے ہیں۔
بستی میں قحط آجاتا ہے۔ چولہوں میں اُپلے سلگتے ہیں مگر ہانڈیاں اور توے نہیں چڑھتے۔ فصل نہ ہونے کی وجہ سےباڑے میں بیل مرنے لگتے ہیں۔ دھروا نے پہلے تو مردہ بیل باڑے ہی میں رہنے دیے اور باہر لاکر گِدھوں اور چیلوں کے حوالے نہ کیا۔ اسے بیلوں سے بہت پیار تھا اور ساتھ اس بات پر ایمان بھی کہ بیل اگر ناراض ہوجائے تو مُردہ ہونے کے باوجود کھاجاتا ہے۔ مگر جب باڑے میں چار مُردہ بیلوں کے جثوں کی وجہ سے ٹھہرنا محال ہوگیا تو گاؤں والوں کو بُلا لایا۔
ڈورگا نے جب تازہ مرے ہوئے بیل کو دیکھا تو کہا کہ بیل ابھی ابھی مرا ہے۔ اس کا گوشت گِدھوں کو کھلانے کے بجائے ہم خود کیوں نہ کھائے کہ ہم پر قحط پڑا ہے۔ یہ سُننا تھا کہ دُھروا کا جسم لرز گیا مگر جب ڈورگا نے بیل کے جسم سے پتھر کا پھل لے کر اپنے لیے ماس کاٹا اور اس کی تحریک پر دوسرے لوگ بھی آگے بڑھے تو دھروا نے بھی کہا۔ ”میں بھی بہت دِنوں سے بھوکا ہوں “- یوں خالی پیٹ دل میں رچے پیار اور ذہن پر نقش اعتقادات پر بھاری پڑجاتا ہے۔
حالات اس نہج پر پہنج جاتے ہیں کہ بستی میں لوگ یا تو مر رہے ہیں یا جوق در جوق وہاں سے ہجرت کر رہے ہیں۔ گو کہ انہیں معلوم نہیں ہے کہ بستی سے نکل کر ریت کے بے انت میدانوں کو کیسے عبور کرے اور ان سے پار کہاں جائے۔ ورچن کے علاوہ ان میں سے شاید ہی کوئی بستی سے باہر کسی علاقے میں گیا تھا۔ بستی خالی ہونے لگی تو ورچن نے پاروشنی کو بستی سے کوچ کرنے کا مشورہ دیا مگر اس نے انکار کی۔ پاروشنی کا جسم قحط کی وجہ سے ایسا ہوگیا تھا جیسے ہڈیوں کے پنجرے پر زور سے کسا ہوا چمڑہ۔اس کی ٹانگیں اسے نہیں سہارتی تھی۔ حلق میں پانی کے علاوہ کوئی چیز نہیں اترے کئی دن گزر جاتے۔ ایک دن پکلی بھی مرجاتی ہے اور مرنے سے پہلے گھڑوں پر خوبصورت نقش و نگار بناکر انہیں دریا کنارے رکھ آتی ہے تاکہ کئی سالوں بعد گھڑے کی بیل بوٹوں والی ٹھیکریاں دریا کے خشک راستے سے نکل آئے اور لوگ انہیں دیکھ کر ان ہاتھوں کو یاد کرے جنہوں نے یہ خوبصورت نقش و نگار بنائے تھے۔ پکلی کے بعد موت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی باری دھروا کی آتی ہے۔
ورچن کے اصرار کے باوجود پاروشنی بستی چھوڑنے سے انکار کرتی ہے تو ورچن ڈورگا کو لے کر بستی سے نکل آتا ہے۔ پاروشنی ورچن اور سمرو کو ایک ترازوں کے دو باٹ سمجھتی تھی۔ برابر کے۔ مگر یہ باٹ برابر کے نہیں نکلے۔ ورچن جا چکا تھا۔ بستی میں صرف پاروشنی اور سمرو بچتے ہیں۔ وہ دونوں گھاگھرا کے خشک رہگزر پر ملاپ کرتے ہیں۔ پاروشنی پگھلتے جسم، ڈوبتیں رگوں، اور بیٹھتیں سانسوں کے باوجود گھاگھرا کنارے اس بستی سے انسان کی معدومیت کا راستہ روکنے امید کا دیا جلا کر کھڑی ہوجاتی ہے۔
پاروشنی خود بجھ رہی ہے مگر دیے کی لو میں توانائی ہے۔ سمرو یہاں ناول کے منظر سے ہٹ جاتا ہے مگر اس سے پہلے وہ طغیانی جو گھاگھرا میں نہیں آرہی تھی سمرو پاروشنی میں لے آئی تھی۔ پاروشنی اندازہ لگاتی ہے کہ اگر یہ کَتّے کا مہینہ ہے تو سون بھادو میں وہ (بچہ) آئے گا اور روئے گا۔ وہ نحیف جسم کو گھسیٹتی گھر آتی ہے۔ چولہے میں آگ جلا کر گھڑے میں پڑی آدھی مٹھی کنک میں سے تھوڑا نکالتی ہے اور پِیسنے لگتی ہے۔
کنک کے پِیسنے سے ”۔ وہاں جہاں کبھی دریا تھا اور اب اونچے خالی کنارے تھے اور ان میں پانی کی بجائے دَھم دَھم کی آواز ٹھہرتی تھی اور تیرتی تھی۔ “ کنک کوٹنے سے پیدا ہونے والی دَھم دَھم کی یہ آواز انسانی بقا کی اُمید کی وہ اذان ہے جو نحیف و نزار پاروشنی جس کی کل متاعِ زیست کنک کے چند دانے اور ہَری کوکھ ہے، اس مُردہ بَستی میں دیتی ہے۔

بشکریہ: ہم سب

× فخر عالم کا تعلق چترال سے ہے اوراسلام آباد کے نیشنل یونیورسٹی اف ماڈرن لینگویجز (نمل) میں بی-ایس ابلاغ عامہ کے طالبعلم ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں