وکلاء اور ڈاکٹروں کے پروفیشن کی تذلیل کے پیچھے کون ھے؟

تحریر: ایڈووکیٹ احسان علی

وکلاء کے ایک گروپ کی طرف سے لاہور میں ادارہ برائے امراض قلب پہ حملے اور اسکے نتیجے میں سرمائے کی جبر و بربریت کے شکار وکلاء اور ڈاکٹروں میں ایک جھگڑے کے واقعے کو بنیاد بنا کر کارپوریٹ میڈیا میں انسانی محنت کے اوپر سرمایے کی بالادستی اور استحصال کے انسان دشمن نظریے کے حق میں ڈھنڈورا پیٹنے کے عوض موٹی تنخواہیں لینے والے موقع پرست اور حرص و حوس کے غلام اینکرز اور موجودہ نقلی تبدیلی سرکار کے وزراء اور ہر آنے والے حکمران کی دسترخوان سے ہمیشہ فیضیاب ھونے والے بے ضمیر دانشور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستانی سماج کے دو طاقت ور پیشوں– وکلاء اور ڈاکٹرز — کو ذلیل کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے ہیں انکے ساتھ خود ان دونوں باعزت پیشوں سے جائز و ناجائز طریقے سے دولت سمیٹ کر طبقہ امراء کا طبقاتی حصہ بننے والے بعض وکیل نما و ڈاکٹر نما سرمایہ دار بھی وکلاء کے خلاف اس گھناونے کھیل کا حصہ بن چکے ہیں-

اب یہ بات بالکل واضع ھو چکی ھے کہ اس منفی میڈیا وار سے صرف اور صرف زوال پذیر سرمایہ داری اور اس انسانیت کش نظام کے محافظ حکمران طبقے کو ہی فائدہ اس طرح سے پہنچ رہا ھے کہ ایک طرف سماج کے چھبتے ھوئے اصل گھمبیر مسائل کی جگہ غیر ضروری مسئلوں نےلے رکھی ھے دوسری طرف محنت مزدوری سے منسلک دو پیشوں کے لاکھوں افراد کو آپس کی ایک بے مقصد لڑائی میں الجھا دیا گیا ھے.

یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ پاکستان کے بہادر وکلاء نے ہمیشہ ڈکٹیٹروں کے خلاف جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا ہے. جس کی مثال ایک شاندار مزاحمتی تحریک کے ذریعےسابق ڈکٹیٹر جنرل مشرف کی آمریت کا خاتمہ اور عدلیہ کو حکمرانوں کی چنگل سے آزاد کرکے یہ بات ثابت کیا کہ وکلاء محض ایک پروفیشنل کلاس نہیں بلکہ اس گلے سڑے سماج کو بدلنے میں ایک اہم کردار ادا کرنے والی طاقت بھی ھیں.
اسی طرح عالمی مالیاتی سرمایے کی پالیسی کے تحت سابقہ و موجودہ حکمرانوں کی پرائیویٹائزیشن کی پالیسی اور اسکے لئے ہسپتالوں کی نجکاری اور عوام کو بنیادی صحت کی سہولتوں سے محروم کرنے کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف زبردست مزاحمت کرکے ڈاکٹروں نے یہ ثابت کیا ھے کہ وہ محض پیسہ کمانے والا بےجان مشین نہیں بلکہ سرمایے کی بالادستی کے خاتمے اور محنت کی حکمرانی کی عالمی تحریک میں ایک مؤثر انقلابی قوت کی حیثیت رکھتے ہیں اس لحاظ سے وکلاء اور ڈاکٹروں کی اصل لڑائی مشترکہ بنتی ھے یعنی سرمایہ کی حکمرانی کے خاتمے اور محنت کی حکمرانی کا قیام اور کسی سطح پہ بھی اور کسی لحاظ سے بھی ان دونوں محنت کی حکمرانی سے منسلک پروفیشنز کی ایک دوسرے کے خلاف کوئی لڑائی بنتی ہی نہیں-

اس میں اب کوئی شک کی گنجائش نہیں رہی کہ محنت کش طبقے کے ساتھ وکلاء ڈاکٹرز سمیت مختلف پرفیشنز کو بھی اس وحشی سرمایہ داری نظام نے اپنے مفاد میں استعمال کرکے انہیں ذلیل و خوار کرکے رکھ دیا ھے۔ اور ان سب کو سرمایے کا غلام بنا کر رکھ دیا ھے-

ایسے میں مزدوروں، کسانوں کے ساتھ تمام محنت مزدوری سے وابستہ پیشوں سے منسلک افراد کی ایک ہی مشترکہ لڑائی بنتی ھے وہ 99 فیصد محنت کش انسانوں کو اپنا غلام بنانے والی اس وحشی سرمایہ داری اور اس نظام کو بچانے کیلئے عوام دشمن پالیسیاں بنانے والے حکمرانوں کے خلاف ایک مشترکہ محاذ بناکر مشترکہ لڑائی کا آغاز کریں نہ کہ اس زوال پذیر سرمایہ داری کو دوام بخشنے والی لڑائیوں یعنی سرمایے کی بالادستی کے خلاف مشترکہ لڑائی کو ترک کے آپس میںغیر اہم مسئلوں پہ پنجہ آزمائی کرتے رہے۔
وکلاء ڈاکٹرز و دیگر پروفیشنز کا سرمایے کی بالادستی کے خلاف مشترکہ جدو جہد زندہ باد.

احسان علی گلگت بلتستان سپریم اپیلیٹ کورٹ بار ایسو سی ایئشن کے سابق صدر، گلگت بلتستان بار کونسل کے میمبر ہیں اور سوشلسٹ سیاستداں ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں