پی پی پی گلگت بلتستان کی مجوزہ گورنینس آرڈر کو رد کرنے کا اعلان

پارٹی آرڈر 2020 کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی.امجد ایڈووکیٹ

رپورٹ: مہتاب الرحمٰن

گلگت: پاکستان پیپلز پارٹی(پی.پی.پی) گلگت بلتستان نے بھی مجوزہ گورنینس آرڈر 2020 کی مخالفت کی ہے اور اس کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے.
پی پی پی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ نے اتوار کے روز اپنی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ میں پریس کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر آرڈر 2020 کے نام پر ہماری قوم کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے.
ان کے ہمراء پارٹی کے سینئر رہنماء محمد علی اختر اورایوب شاہ بھی موجود تھے.

انھوں نےکہا کہ ان کی پارٹی کسی بھی آرڈر کو نہیں‌مانتی اور اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی اور اپنے بنیادی حقوق کے لیئے قانونی جنگ لڑے گی.

انہوں نےکہا کہ حق حاکمیت مانگنے پرنہ صرف غداری کے سرٹفکیٹ جاری ہوں گے بلکہ بوری بند لاشیں بھی ملنے کے خدشات ہیں.

ایڈووکیٹ امجد نے یہ واضح کیاکہ اپنی سر زمین کے حق ملکیت پراپنا خون بہاکر ایک ایک انچ زمین اور قدرتی وسائل کا تحفظ کریں گے.

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمرانوں نے گلگت بلتستان کو اپنی چراگاہ بنا کے رکھا ہوا ہے. اس خطے کے عوام کو انسان ہی تصور نہیں کیا جاتاہے.

"سپریم اپیلیٹ کورٹ کے چیئر مین، چیف کورٹ کے چیف جج، چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری، آئی جی پولیس، ڈی سی،حتیٰ کہ تحصیلدار کی پوسٹ پر بھی غیر مقامی افراد کو تعینات کیا گیا ہے. انھوں نے کہا کہ اب وفاقی حکومت کو چاہیئے کہ وزیراعلیٰ کی نشست پر بھی غیر مقامی فرد کومنتخب ہونے کی راہ ہموار کریں، تاکہ گلگت بلتستان کے عوام مکمل طور پر لاوارث بن سکے.

"ہم وفاق کے سامنے بے بس اور لاچار ہوگئے ہیں،جبر اورظلم کی انتہا ہو گئی ہے. یہاں کسی کو آواز اٹھانے کی ہمت نہیں. اگر آواز اٹھایں گے تو دہشت گردی کے مقدمات اورشیڈول فور لگا کر ہماے عوام پر مذید ظلم برپا کیاجائیگا.

انھوں نے کہا کہ اس وقت گلگت بلتستان میں مقبوضہ کشمیر کے برابر ظلم ہو رہا ہے. دنیاکو مقبوضہ کشمیر میں ظلم نظر آتی ہے مگر ہمارے ساتھ جو ظلم ہورہا ہے وہ کسی کو نظر نہیں آرہا ہے.

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام پر ستر کی دہائی تک میروں اور راجاووں کا جبر تھا مگر اب نام نہاد جمہوری حکومت کی آڑ میں جبر جاری رکھے ہوئے ہیں-

ان کا کہنا تھا کہ ہر تین ماہ بعد نیشنل سیکیورٹی کونسل کا اجلاس بلاکر گلگت بلتستان کے عوام کی توہین کی جاتی ہے.

انھوں نے خبردار کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام اب مذید کوئی توہین برداشت نہیں کریں گے. اسلیئے اب یہ ڈرامہ بازی بند ہونا چاہیے.

اگر پاکستان کے حکمران اس خطے کے عوام کو کچھ دے نہیں سکتے ہیں توان کے توہین کرنا بھی بند ہونا چاہیئے .

انہوں نے واضح کیا کہ وفاق سپریم کورٹ کے 2019 کے فیصلے کے بعد اب گلگت بلتستان پر کوئی آرڈر نافذ نہیں کرسکتا.

انہوں نے کہا کہ اس وقت گلگت بلتستان کے عوام کی امیدیں سپریم کورٹ سے وابسطہ ہیں.

ہم اب حکمرانوں کے روئے پر اعتراضات بھی نہیں کرینگے کیونکہ ہم سیاسی مظلومیت کے آخری درجے پر پہنچ چکے ہیں.

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمران گلگت بلتستان کے عوام انسان نہیں بھیڑ بکریوں کا ریوڑ ہیں .

گلگت بلتستان میں جبری نظام نافذ ہے اسلئے حق حاکمیت کے مطالبے کو جاری رکھنا ممکن نہیں اس مطالبے کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں لیکن حق ملکیت کے لیے اپنی جان سے کھیل جائیں گے ” امجد ایڈوکیٹ ایک سوال کا ضواب دیتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نے سرتاج عزیز کمیٹی کے سفارشات کی حمایت کی تھی. جبکہ وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن ان سفارشات کے خلاف بھرپوراستعمال ہوئے.اور چند دنوں میں وہ ان قوتوں کا بھی نام بتائیں گے.

انہوں نے وفاقی حکومت سے سوال کیا کہ وہ یہ بتائیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد میں کیا رکاوٹ ہے.

"سپریم کورٹ گلگت بلتستان کے عوام کو بااختیار بناناچاہتی ہے مگروفاقی حکومت یہاں کے وسائل لوٹنے کے لئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرنا چاہتی ہے”.

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ججوں کی تقرری سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے کرنے اور گلگت بلتستان اسمبلی کو بااختیار بنانے سمیت وہاں کے عوام کو سپریم کورٹ تک رسائی دینے کا حکم دیا ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ وفاقی حکومت اس ٍفیصلے پرخوش نہیں‌ اوران اختیارات کو آرڈر 2020 کے ذریعے واپس لیکر اس حساس خطے کو ریموٹ کنڑول سے چلانا چاہتا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں