اسرار الدین اسرار 267

دادی جواری اور موجودہ حکومت کی پالیسیاں

اسرار الدین اسرار


دادی جواری سولہویں صدی میں گلگت میں ایک مشہور خاتون حکمران رہی ہیں۔ ان کے دور حکومت میں گلگت میں تاریخ ساز ترقیاتی کام ہوئے تھے، ان میں سے گلگت شہر کو سیراب کرنے والے دو بڑے ایریگیشن چینلز آج بھی ان کی یاد کو تازہ کرتے ہیں. گلگت بلتستان کا بچہ بچہ دادی جواری کے نام اور ترقیاتی کارناموں سے واقف ہے۔ جی بی میں پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت نے اقتدار سنھبالنے کے پہلے سال ہی تاریخ کی اس عظیم حکمران کے نام سے منسوب سونی جواری پبلک پالیسی سینٹر کا قیام عمل میں لایا ہے۔ جس کی سربراہی ڈویلپمنٹ سیکٹر کے ماہر اظہار ہنزائی کے حوالہ کیا گیا ہے۔ اظہار ہنزائی نے اپنا عہدہ سنھبالنے کے بعد زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے رابطے شروع کئے ہیں۔ ترقی کے شعبہ میں کام کرنے والے این جی اوز کے ساتھ کام کا ان کا طویل تجربہ ہے اس لئے انہوں نے اسی طرز پر کام شروع کیا ہے جو عموما ڈیولپمنٹ این جی اوز کرتی ہیں۔ جس میں عموما سٹیک ہولڈرز سے رابطے کو اولیت دی جاتی ہے۔
گذشتہ دوز انہوں نے کے آئی یو ، ڈبیلو ڈبیلو ایف اور آئی سی موڈ کے ساتھ مل کر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے آئی یو کے کانفرنس ہال میں ایک پالیسی ڈائیلاگ کا بھی انعقاد کیا تھا، جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے احباب کو مدعو کیا گیا تھا۔ اس ایک روزہ کانفرنس میں گلگت بلتستان میں ترقیاتی پالیسی سازی پر طویل بحث ہوئی اور یہ طے ہوا کہ ایسی پالیسیاں بنائی جائینگی جن میں عام آدمی کی رائے شامل ہو اور ان کو ترقیاتی عمل میں شامل کرنے کے علاوہ ان کی مشکلات کا حل بتایا جائے۔
اظہار ہنزائی نے شرکاء کو یہ بھی بتایا کہ وہ جی بی میں مقامی حکومتوں کے ایک بہترین نظام پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت گاوں سطح کی حکومتیں قائم کی جائینگی اور ان کو ترقیاتی عمل میں با اختیار بنایا جائیگا۔
راقم بھی اس ڈئیلاگ میں شرکاء کی فہرست میں شامل تھا۔ تفصیلی بات چیت پینلسٹس نے کی جبکہ شرکاء کو صرف سوال جواب کے سیشن میں کچھ اظہار خیال کا وقت ملا۔ ہم اس دوران تفصیلا اپنی رائے کا اظہار نہیں کر سکے تاہم سوال جواب کے سیشن میں ایک منٹ کے وقت میں صرف اتنا عرض کیا کہ "حکومت کی تمام تر پالیسیاں ہیومن سینٹرڈ ہونی چاہئے۔ یعنی پالیسیاں بناتے وقت انسانی حقوق کے پہلو کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ تمام پسے ہوئے طبقات کی مشکلات پر توجہ دی جائے اور ان کا حل بتایا جائے۔ اس ضمن میں انسانی حقوق سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کرایا جائے۔ افراد باہم معذوری اور خواتین جیسے طبقات کو ترقی کے عمل میں شامل کیا جائے”
میرے اٹھائے گئے نقاط پر اپنے جواب میں کانفرنس کے میزبان اظہار ہنزائی نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے نظام میں انسانی حقوق کے پہلو کو خاص جگہ دی جارہی ہے ۔
دیکھاجائے تو اظہار ہنزائی یا دادی جواری سینٹر کی کوششیں لائق تحسین ہیں جو کہ وہ اپنی بساط کے مطابق کر رہے ہیں۔ کیونکہ بہترین پالیسیاں ایک سمت کا تعین کرنے کے لئے ضروری ہیں جس کا مطالبہ اکثر پڑھا لکھا طبقہ کرتا رہا ہے۔ لیکن یہاں گلگت بلتستان کا معاملہ اتنا آسان نہیں ہے کہ چند ایک پالیسیاں بنانے سے تمام مسائل اگلے ایک دو سالوں میں حل ہوسکیں۔
اظہار ہنزائی کی کاوشوں سے مختلف پالیسیاں تو آسانی سے بن جائینگی مگر ہر پالیسی پر عملدرآمد کے لئے ایک بہترین، متحرک، جدید اور شفاف نظام حکومت کے علاوہ سیاسی عزم اور خاطر خواہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں جو موجودہ سیاسی اور انتظامی سیٹ موجود ہے وہ انتہائی فرسودہ ، نکارہ اور تھکا ہوا ہے۔ جو گرانٹ وفاق کی طرف سے ملتی ہے وہ غیر ترقیاتی سرگرمیوں یعنی سیاسی و انتظامی افراد کی تنخواہوں اور مراعات میں خرچ ہوتا ہے۔ جس کی مثال ترقیاتی بجٹ کے مقابلہ میں غیر ترقیاتی بجٹ کا دوگنا زیادہ ہونا ہے۔ ایسے نظام کے اندر انسانی حقوق کو ملحوظ خاطر رکھی ہوئی ترقیاتی پالیسیوں پر عملدرآمد ایک دیوانےکا خواب ہے۔ انسانی حقوق پر مبنی ترقیاتی عمل میں تین باتوں کا خاص خیال رکھنا لازمی ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ ہر ترقیاتی عمل بلاتفریق معاشرے کے ہر طبقہ کے لئے یکساں ہو۔ دوسرا یہ کہ اس عمل میں تمام طبقوں کی شمولیت یقینی ہو اور تیسرا یہ کہ وہ عمل کڑے احتساب کا ضامن ہو۔ ہم نے دیکھا ہے کہ گلگت بلتستان کا موجودہ نظام مذکورہ تینوں باتوں سے مبراء ہے۔ یہاں علاقائی، لسانی، فرقہ وارانہ تفرقات اور قبائلی تعصبات کے علاوہ سیاسی اور انتظامی بد نیتی و بد انتظامی بھی نمایاں ہے۔ میرٹ کی پامالی جگہ جگہ نمایاں ہے۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا ایک ثبوت یہ ہے کہ بجٹ سازی میں عوامی خواہشات کی طرف توجہ کم بلکہ سیاسی سیکورنگ پر توجہ زیادہ ہوتی ہے۔ ہر سال بجٹ پیش ہوتے وقت اپوزیشن کو دیوار سے لگا یا جاتا ہے اور یہ کام ہر حکومت کرتی رہی ہے۔ پسے ہوئے طبقات کے حقوق کے لئے قوانین نہیں ہیں، اگر ہیں تو ان پر عملدرآمد نہیں ہے۔ معاشرے کی نصف آبادی یعنی خواتین اور افراد باہم معذوری کی دس فیصد آبادی ترقیاتی عمل سے باہر ہیں، ترقیاتی عمل میں اپنا حصہ ڈالنا تو دور کی بات محروم طبقات زندگی کی گاڑی چلانے کے لئے دیگر افراد پر انحصار کرتے ہیں۔ یہی غیر منصفانہ اور عدم مساوات پر مبنی نظام ہے جو محض پندرہ لاکھ کی آبادی کو سنھبالنے اور ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے اور ان کو ترقیاتی عمل میں شامل کرنے سے یکسر قاصر ہے۔ سرکاری ملازمین کی تعداد آئے روز بڑھ رہی جوکہ وسائل اور محکموں پر ایک بڑا بوجھ ہے جس کی وجہ سے محکموں کی کارکردگی صفر ہے۔ سرکاری دفاتر میں کام سے جانے والے سائلین ذلیل و خوار ہوجاتے ہیں۔ تحصیل، ڈی سی آفس، پی ڈبیلو ڈی اور دیگر محکمے دادی جواری کے زمانے سے بھی پرانی روایات پر کاربند ہیں۔ پرائیوٹ سیکٹر سرے سے موجود ہی نہیں ہے کیونکہ انرجی کرائسسز ہیں۔ بیس بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ ایل پی جی سلنڈر اور کوئلہ کے استعمال سے ہر سال سردیوں میں درجنوں لوگ لقمہ اجل بنتے ہیں۔ روزگار کا واحد ذرائع سرکاری ملازمتیں ہیں۔ انصاف کا عمل سست ہے۔ لوگ اپنی بنیادی ضروریات یا حکومتی نااہلی پر جب آواز اٹھاتے ہیں تو ان کو سننے کی بجائے ان پر مقدمات قائم کئے جاتے ہیں۔ بجلی، صحت، تعلیم اور پانی کے لئے احتجاج کرنے والے درجنوں لوگوں پر مقدمات بنائے گئے ہیں یا ان کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گانچھے میں گائینی ڈاکٹر کا مطالبہ کرنے والوں پر مقدمہ درج کیا گیا جبکہ نگر کالونی گلگت میں بجلی کے لئے احتجاج کرنے والوں پر مقدمہ درج کیا گیا۔ اسی طرح چند روز قبل وزیر اعلی کے اپنے حلقے میں احتجاج کرنے والوں پر مقدمہ درجہ کیا گیا۔ گویا بنیادی ضروریات فراہم کرنا جو کہ حکومت کی ذمہ داری ہے وہ بھی فراہم نہیں کرنا ہے اور آئین میں درج احتجاج کا حق بھی لوگوں کو نہیں دینا ہے۔ اتنا ظلم تو ڈیکٹیٹرز ہی کر سکتے ہیں۔
اس وقت آبادی کے حساب سے سب سے زیادہ احتجاجی مظاہرے گلگت بلتستان میں ہوتے ہیں مگر کسی بھی مسلہ کا حل نہیں نکلا جاتا ہے بلکہ مظاہرین کو ہی غلط کہا جاتا ہے۔ یعنی اجتماع کی آذادی پر قد غنیں ہیں۔ اسی طرح اظہار رائے کے حق کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور نہ ہی معلومات تک رسائی کا حق تسلیم کیا جاتا ہے۔ پسے ہوئے طبقات پر توجہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کو ترقیاتی عمل میں شامل کیا جاتا ہے۔
اس تمام تر صورتحال کا نتیجہ ایک طرف غربت، افلاس، بے روزگاری، خودساختہ مہنگائی، خودکشیاں ، بیماریاں، فرسٹریشن، ذہنی امراض، مضر صحت اشیاء کی فروخت، رشوت، کرپشن، سیاسی و فرقہ ورانہ بھرتیاں، منشیات کا استعمال، بھیک مانگنے والوں میں اضافہ، جرائم، گھریلو تشدد اور تشدد پسندی جیسے منفی رجحانات کا فروغ پانا ہے جبکہ دوسری طرف ایک طبقہ عیاشیوں میں ہے جس کی دولت اور وسائل میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ یعنی ایک غیر متوازن، غیر فطری، غیر منصفانہ اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر مشتمل نظام ہے جو سماج کو آگے لے جانے کی بجائے پیچھے کی طرف دھکیل رہا ہے۔ وہ فرد ہی یہ تمام باتیں محسوس کر سکتا ہے جو خود مشکلات سہتا یا عام لوگوں کے درمیان بیٹھ کر یہ مناظر روز اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے ورنہ سرکاری دفاتر میں صبح شام سب ٹھیک ہے کی گردان ہی چلتی ہے۔
سولہویں صدی میں گلگت کی حکمران دادی جواری کی پالیسیاں تحریری نہیں تھیں مگر ان کی نیت واضح تھی۔ وہ عوام دوست اور ویژنری حکمران تھیں۔ ان کو گلگت اور یہاں کے باسیوں کی تکالیف کا ادارک تھا اور وہ ان کا حل نکالنے کے لئے خلوص نیت سے کمر بستہ تھیں۔ انہوں نے ہنر مند لوگوں کو داریل سے تلاش کر کے لایا اور چینل بنانے کا اہم کام ان کے حوالے کیا تاکہ کام کے معیار پر سمجوتہ نہ ہو، حالانکہ وہ یہ کام جیسے تیسے اپنے عزیزو اقارب ، سیاسی سپورٹرز اور دستیاب لوگوں سے لے سکتی تھی مگر ان کا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دیتا تھا، ان کا ویژن بہت اونچا تھا۔ اس لئے انہوں نے وہ کچھ کردیکھایا جو پانچ سو سال گزرنے کے باوجود آج تک مقامی لوگوں کو یاد ہے۔
موجودہ کرپٹ نظام عوام دوست نہیں ہے۔ اس نظام کو ڈیٹرجنٹ سے صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ ارباب اختیار کی نیتوں کی صفائی اور نظام کی اوور ہالنگ کی ضرورت ہے۔ دادی جواری پبلک پالیسی سینٹر کا مینڈیٹ کاغذ تیار کرنا تو ہوسکتا ہے لیکن اس نظام کو ٹھیک کرنا نہیں ہوسکتا۔ نظام کو ٹھیک کرنے کے لئے مخلص اور ویژنری سیاسی قیادت درکار ہے۔ ناامیدی ٹھیک نہیں ہے اس لئے دادی جواری سینٹر کی لاوشوں کو ہم داد دیتے ہیں۔ ہم ان کے مشاورتی عمل میں شامل بھی رہینگے مگر ہمیں دو سو فیصد یقین ہے کہ یہ نظام معاشرے کے تمام تر طبقات کو یکسان ترقی کی طرف لے جانے والا نظام نہیں بلکہ تنزلی کی طرف لے جانے والا نظام ہے۔ یہ وہ نظام ہے جو وسائل جہاں بھی نظر آجائیں وہاں ان کی بلاتفریق مساوایانہ اور منصفانہ تقسیم کی بجائے اس کو لوٹنا شروع کردیتا ہے، جیسےجنگل میں مرے ہوئے جانور پر کدھ، چیل ، درندے اور لکڑ بھکڑ حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ اس نظام کو ٹھیک کرنے کے لئے ایک دادی جواری جیسی نیک نیت، بہادر، مٹی سے محبت کرنے والی اور عوام دوست حکمران کی ضرورت ہے۔ دادری جواری کی کمی ان کے نام سے بنایا گیا سینٹر پوری نہیں کر سکتا تاہم مسائل بات چیت ، گفت و شنید اور کاغذی پالیسیاں بنانے میں ضرور اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں