mini budget 2021 227

منی بجٹ کا غریب طبقے پر کیا اثر پڑے گا

تنویر ملک بشکریہ بی بی سی اردو


پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کرتے ہوئے تقریباً 150 اشیا پر سیلز ٹیکس کی مد میں دی گئی چھوٹ کو ختم کر دیا گیا ہے یا اس کی شرح 17 فیصد کر دی گئی ہے جس سے حکومت کو اپنے خزانے میں 343 ارب روپے اضافے کی توقع ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے پیش کیے گئے اس منی بجٹ کو حزب اختلاف کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ یہ بجٹ ملک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر کر جنم دے گا تاہم وزیر خزانہ نے اس بجٹ سے غریب آدمی کے متاثر ہونے کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ چھوٹ درآمدی اشیا پر ختم کی گئی جو غریب آدمی استعمال نہیں کرتا۔

وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے منی بجٹ کے دفاع اور اس سے غریب آدمی کے متاثر نہ ہونے کے دعوے کو معیشت اور تجارت سے وابستہ افراد مسترد کرتے ہیں۔

ان کے مطابق منی بجٹ نا صرف مہنگائی میں اضافہ کرے گا بلکہ اس کی وجہ سے ملک کی معاشی شرح نمو پر بھی برے اثرات مرتب ہوں گے جس کی وجہ خام مال پر لگنے والا سیلز ٹیکس یا ان پر دی گئی چھوٹ کا خاتمہ ہے جو ملک میں پیداواری عمل کو سست کر سکتا ہے۔

منی بجٹ میں کیا ہے؟
حکومت کی جانب سے پیش کیے جائے والے منی بجٹ میں سیلز ٹیکس کی شرح کو 17 فیصد کرنے اور تقریباً 150 اشیا پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
منی بجٹ کے مطابق شیرخوار/بچے کے دودھ پر اب ٹیکس لگے گا (خام مال اور فائنل پراڈکٹ دونوں پر سترہ سترہ فیصد)
فارماسیوٹیکل مصنوعات کے خام مال پر 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس اور بیکریوں میں تیار روٹی کی مصنوعات پر ٹیکس (جو پہلے مستثنیٰ تھے)
کھلے میں فروخت ہونے والی سرخ مرچ پر بھی 17 فیصد ٹیکس لگے گا۔
درآمد شدہ دہی، پنیر، مکھن، کریم، دیسی گھی، چینی پر ٹیکس 10 فیصد سے بڑھ کر 17 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
وفاقی اور صوبائی ہسپتالوں کی طرف سے درآمد کردہ یا عطیہ کردہ سامان پر 17 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے گا اور مانع حمل ادویات پر بھی ٹیکس لگے گا۔
آئوڈائزڈ نمک، کچے پولٹری آئٹمز اور کپاس کے بیج پر ٹیکس لگے گا۔
چاندی اور سونے پر جی ایس ٹی 1 فیصد سے بڑھ کر 17 فیصد اور زیورات پر بھی 17 فیصد ہو جائے گا۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور سیاحوں کے ذریعے درآمد کیے گئے ذاتی استعمال کے ملبوسات اور ذاتی سامان پر بھی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
پرسنل کمپیوٹرز، لیپ ٹاپ کمپیوٹرز، نوٹ بکس، چاہے ملٹی میڈیا کٹ کو شامل کیا جائے یا نہ کیا جائے، کو بھی نئے ٹیکس کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ماچس پر بھی 17 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ ڈیری پروڈکٹس بنانے میں استعمال ہونے والی مشینری اور سامان پر پانچ فیصد کی جگہ 17 فیصد ٹیکس لگے گا۔
موبائل فونز پر فکسڈ ریٹ کی جگہ 17 فیصد ٹیکس لگے گا اور موبائل فون کالز پر ٹیکس بھی 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کیا جائے گا۔ موبائل فونز مقامی طور پر بنانے والی انڈسٹری کو بھی مشینری کی درآمد پر 17 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔

منی بجٹ غریب آدمی کو کسیے متاثر کرے گا؟

وزیر خزانہ کے اس دعوے کہ منی بجٹ سے غریب آدمی متاثر نہیں ہو گا، کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہر ٹیکس امور ڈاکٹر اکرام الحق نے بتایا کہ وزیر خزانہ کے دعوے میں حقیقت نہیں اور یہ منی بجٹ مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دے گا۔

اُنھوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں بیکری آئٹم ایک عام آدمی ہی استعمال کرتا ہے جس میں امیر و غریب دونوں شامل ہیں، اب اس پر سیلز ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔ اسی طرح پیکٹوں میں دستیاب مرچوں اور مصالحوں پر بھی سیلز ٹیکس لگا دیا گیا ہے جس کا خریدار امیر کے ساتھ غریب آدمی ہی ہوتا ہے۔

ڈاکٹر اکرام نے کہا درآمد کیے گئے خام مال پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کر دی گئی ہے یا اس پر سیلز ٹیکس کی شرح کو بڑھا دیا گیا ہے جس سے یہ خام مال مہنگا ہو گا جو پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث بنے گا اور صنعت کار عام صارفین کو زیادہ مہنگی مصنوعات بیچے گا جس کے خریدار امیر و غریب سب ہوتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ادویات کے خام مال کی درآمد پر 17 فیصد جی ایس ٹی تجویز کیا گیا ہے اور حکومت کہتی ہے کہ یہ قابلِ واپسی ہو گا مگر پاکستان میں ریفنڈز کی تاریخ کو دیکھا جائے تو یہ بہت عرصے بعد ملتے ہیں اور صنعت کار اشیا کی قیمت میں اضافہ کر کے عام آدمی سے قیمت وصول کر لیتا ہے چنانچہ حکومت کی جانب سے لگائے سیلز ٹیکس سے ملک میں دوائیں مزید مہنگی ہوں گی اور اس کا اثر غریب آدمی پر بھی پڑے گا۔

تاہم اُنھوں نے کہا کہ کچن میں استعمال ہونے والی چند بنیادی اشیا مہنگی نہیں ہوں گی کیونکہ یہ سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے اور اس پر ختم ہونے والی چھوٹ میں شامل نہیں۔ ان اشیا میں چینی، چاول، دالیں اور آٹا شامل ہیں۔

ڈاکٹر اکرام الحق نے اس سلسلے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا چاول کی پیداوار مقامی ہے اس لیے اس پر کوئی سیلز ٹیکس نہیں، اسی طرح آٹے پر بھی کوئی سیلز ٹیکس نہیں لگایا جاتا کیونکہ اس کی پیداوار مقامی طور پر ملوں میں ہوتی ہے اور یہ درآمد نہیں کیا جاتا۔

ڈاکٹر اکرام نے بتایا کہ چینی پر درآمد کی سطح پر پہلے سے سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور یہ اس لیے منی بجٹ کا حصہ نہیں۔ اسی طرح دالوں کی مقامی پیداوار بھی ہوتی ہے اور یہ درآمد بھی کی جاتی ہیں۔ درآمد کی جانے والی دالیں پہلے سے سیلز ٹیکس کے نیٹ میں ہیں جبکہ مقامی پیداوار پر یہ نہیں لگایا جاتا۔

معاشی امور پر نظر رکھنے والے صنعت کار زبیر موتی والا نے اس سلسلے میں کہا کہ ایک عام اور غریب آدمی کا اس منی بجٹ سے متاثر ہونا لازمی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جب صنعتی خام پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم ہو گی تو اس کا لازمی نتیجہ چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں برآمد ہو گا۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کی قسط لینے کے لیے لوگوں کی جیب سے دو ارب ڈالر نکالنے جا رہی ہے۔

زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ اس منی بجٹ کی منظوری کے بعد لوگوں کی قوت خرید میں کمی آئے گی جو ایک غریب آدمی کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید مشکلات کا شکار بنائے گا۔

صنعتی شعبے کو کیا خدشات ہیں؟
صنعت کار طبقے کے مطابق خام مال پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے اور اس کی شرح 17 فیصد کرنے سے معیشت اور پیداواری عمل پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور خام مال کے مہنگا ہونے سے پیداواری عمل سست روی کا شکار ہونے کا خدشہ ہے جو روزگار کے مواقع کو کم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر ناصر خان نے اس سلسلے میں کہا کہ خام مال کے مہنگا ہونے سے جب مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں تو یہ سمگلنگ میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔

اُنھوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا ملک میں خوردنی تیل کی زیادہ قیمت کی وجہ سے ایران سے سمگل شدہ خوردنی تیل اب زیادہ مارکیٹ میں آرہا ہے جس کا اثر خوردنی تیل کی صنعت پر پڑ رہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ جس طرح حکومت نے صنعتی شعبے کے خام مال پر سیلز ٹیکس کی شرح کو بڑھایا ہے اور اس پر دی گئی چھوٹ کو ختم کیا ہے اس کا اثر صنعتوں پر پڑے گا اور پیداواری عمل اس سے سست روی کا شکار ہو گا جو عام آدمی کے لیے ملازمتوں کے کم مواقع پیدا کرے گا۔

زبیر موتی والا نے اس سلسلے میں کہا کہ خام مال پر سیلز ٹیکس صنعتی شعبے کی کاروباری لاگت کو بڑھائے گا اور اس کے دو نتیجے نکل سکتے ہیں ایک تو زیادہ لاگت کی وجہ سے مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی جو غریب آدمی کو متاثر کریں گی

دوسرا پیداواری عمل میں کمی آئے گی اور اس کی وجہ سے کم پیداوار ہو گی تو کم ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے یا کوئی صنعت پہلے سے موجودہ ملازمین میں بھی چھانٹی کر دے تاکہ نقصان سے بچا جا سکے۔ اُنھوں نے دونوں صورتوں میں اس کا اثر غریب آدمی پر پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں