سنگل دھرنا 183

گلگت بلتستان اور واحد حل

عنایت بیگ


خبر کیا ہے؟

خبر یہ ہے کہ گلگت بلتستان کو 7 دہائیوں بعد عبوری آئینی صوبہ بنانے کا فیصلہ ہو رہا ہے۔

تو پھر مسئلہ کیا ہے؟

مسئلہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان سابقہ ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبت ہا کا سو سال تک باقاعدہ حصہ رہا ہے۔ برصغیر کی سامراجی تقسیم کے بعد ہماری ریاست مختلف حصوں میں بٹ کر ہندوستان اور پاکستان کے قبضے میں چلی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریاست کی تمام اکائیوں (بشمول گلگت بلتستان) کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

مسئلہ یہ بھی ہے یہ تمام فیصلے اسلام آباد سرکار کی طرف سے آرڈرز یا پیکجز کی شکل میں آتے رہے ہیں، اور کسی بھی سطح پر عوامی رائے کو اہمیت نہیں دی گئی ہے۔

تو پھر کیا ہونا چاہئے؟

ہونا یہ چاہیے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق (جن پر پاکستان اور بھارت کے رضامندی کے دستخط موجود ہیں) اس تمام خطے کو مکمل لوکل اتھارٹی فراہم کی جائے۔ مسلہ کشمیر کے تصفیے تک گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جائے جس میں مکمل داخلی خود مختاری یقینی ہو۔ دفاع خارجہ پالیسی اور کرنسی کے علاؤہ قانون سازی کے تمام قلمدان یہاں کی خود مختار آئین ساز اسمبلی کو منتقل کئے جائیں۔ جی بی کاؤنسل اور کشمیر کاؤنسل کا کا مکمل خاتمہ ہو۔

لیکن یہ سب کرے گا کون؟

عوامی خودمختاری کی جدوجہد عوام کو ہی کرنی پڑتی ہے۔ گلگت بلتستان کی عوام بالخصوص باشعور اور باہمت نوجوانوں کو اس معاملے پر ایک پیج پر آنا ہوگا۔

اس جدوجہد کو فیصلہ کن بنانے کے لئے کن چیزوں کی ضرورت ہوگی؟

شعور، ہمت اور استقامت۔ بس یہی تین چیزیں درکار ہونگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں