215

پرانی گلوکارائیں

ناصر خان ناصر


ایک زمانہ تھا کہ سریندر کور اور پرکاش کور صاحبہ، دونوں بہنوں کے گائے پنجابی لوک گیت متحدہ پنجاب کے گلی کوچوں میں ہر طرف گونجتے تھے۔ یو ٹیوب پر ان کے بے شمار گیت موجود ہیں۔
لٹھے دی چادر سے لے کر عاشق حسین کے ساتھ گائے میرا لونگ گواچا تک ایک سے ایک خوبصورت گیت۔ میرا لونگ گواچا کو بعد میں مسرت نذیر صاحبہ نے تبدیل کر کے گایا۔ شہرت کمائی تو دونوں بہنوں کے سارے کے سارے لوک گیت دھڑا دھڑ گادیے۔ بالکل اسی طرح بینجمن سسٹرز نے نور جہاں اور پرانی سنگرز کی کاپی کی اور بے پناہ داد وصول کی۔
سریندر کور نے بمبئی جا کر بہت سی انڈین فلموں کے لیے بھی گایا تھا۔ کئ خوبصورت گانے جو ہم اب تک لتا جی اور شمشاد بیگم کے سمجھتے تھے، تحقیق پر محترمہ سریندر کور صاحبہ کے نکلے۔
لتا جی نے شروع میں شمشاد بیگم کی آواز کی ہی کاپی کی تھی۔ بعد میں کچھ شہرت ملنے کے بعد شمشاد بیگم صاحبہ کو فیڈ آوٹ کرنے کے لیے انھوں نے سوئی کی سی پتلی آواز میں گیت گانے کا آغاز کر دیا جو شومئ قسمت سے مقبول بھی ہوتے چلے گئے۔ شمشاد بیگم صاحبہ کی آواز قدرے بھاری تھی اور قدرتی لوچ اور گونج کی مالک، وہ بغیر مائیک کے گایا کرتی تھیں لہذا مقابلہ نہ کر پائیں اور گھر بیٹھ گئیں۔ بعد میں اپنی بہن آشا کے سوا لتا جی نے کسی کو ابھرنے کا موقع ہی نہ دیا۔ آشا جی نے ایک ترانہ پہلے گایا تھا مگر لتا جی نے بعد میں نہرو صاحب کے سامنے لال قلعہ میں یہ ترانہ گا کر اپنا نام پیدا کر لیا۔ اوشا بھی بے حد خوبصورت آواز کی مالک تھیں مگر سخت مقابلے کے بنا پر پنپ نہ پائیں۔
پاکستان میں بھی نور جہاں سے قبل بے شمار خوبصورت آوازیں تھیں۔ اوائل زمانہ میں زبیدہ خانم، ناہید نیازی، نسیم بیگم، مالا، مختار بیگم، فریدہ خانم، ثریا ملتانیگر اور اقبال بانو سمیت بے شمار نام ابھرے۔ زبیدہ خانم نے فلم پاٹے خاں میں سائیڈ ہیروئین کا کام کیا تھا۔ وہ اور بھی کئی فلموں میں آئیں۔ ان کی خوبصورت آواز ہرگز بھلائی نہیں جا سکتی۔
رونا لیلی’ خوبصورت آواز رکھنے والی بہت اچھی گلوکارہ تھیں۔ اوائل عمر سے ہی انھیں پاکستانی فلم انڈسڑی میں بے حد مقبولیت اور شہرت حاصل ہو گئی تھی۔
اللہ معاف کرے مگر یہ حقیقت ہے کہ میڈم نور جہاں صاحبہ اپنے تعلقات پیسے اور پاور کی بنا پر کسی اور گلوکارہ کو حد سے زیادہ پنپنے اور مقبول ہونے کی اجازت نہیں دیتی تھیں۔ رونا لیلی’ بد دماغ ہرگز نہیں تھیں بلکہ ہوا کا رخ بھانپ کر انھوں نے میڈم کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور منہ کی کھائی۔ میڈم نور جہاں صاحبہ کے اسی نوعیت کے جھگڑے طاہرہ سید صاحبہ، ان کی والدہ ملکہ پکھراج صاحبہ، مہناز صاحبہ، نیرہ نور صاحبہ، تصور خانم صاحبہ اور دیگر کئی خواتین گلوکاروں سے ہو چکے تھے۔ تھپڑ والا واقعہ بھی بالکل درست ہے۔ یہ واقعہ کراچی کے ایک میوزک شو میں پیش آیا تھا۔ اس کے چشم دید گواہ ہمارے ایک عزیز بھی تھے۔
ان حالات سے دل برداشتہ ہو کر رونا لیلی’ صاحبہ قسمت آزمانے بھارت گئی تھیں۔ وہاں لتا منگیشتر صاحبہ کی حکمرانی تھی اور عین مین وہی واقعات دہرائے گئے۔ لتا جی نے ایر پورٹ پر ہی رونا لیلی’ کو گلدستہ اور واپس پلٹ جانے کا پیغام بھجوایا تھا۔ رونا لیلی کی پریس کانفرنس کی روداد ہم نے اخبار میں خود پڑھی تھی جس میں انھوں نے ملکہ ترنم صاحبہ اور لتا منگیشتر صاحبہ کو موسیقی کے خزانے پر بیٹھے دو زہریلے سانپ قرار دیا تھا۔
پرانی گائیکی میں ایک اور بے حد خوبصورت آواز زہرہ بائی کی تھی۔ ان کا گیت.. کس طرح بھولے گا دل ان کا خیال آیا ہوا.. سنیے اور سر دھنیے۔ انھوں نے اس گیت میں درد کو یوں مجسم کر دیا ہے کہ سوز سننے والے کو محسوس ہوتا ہے۔ نور جہاں نے یہی گیت بعد میں گایا تھا مگر زہرہ بائی کی خاک کو نہ پہنچ سکیں۔ زہرہ بائی بھی دو تھیں۔ ایک کلکتے والی اور ایک انبالے والی۔
ایک اور بےحد خوبصورت گیت جس کی گلوکارہ نے بے شمار فلموں میں کام بھی کیا تھا۔۔۔
گھبرا کے کوئ غم سے مر جائے تو اچھا ہو۔۔۔
موٹی موٹی آنکھوں والی خوبصورت اداکارہ و گلوکارہ راجکماری جنہوں نے پاکیزہ فلم میں بھی کئی گیت گائے، بے چاری سخت کسمپرسی کی حالت میں جہان فانی سے گزر گئیں۔ پاکیزہ میں ان کے دو دو تین تین سطروں والے گیت بطور بیک گراونڈ استعمال کیے گئے تھے۔
لجریا کی ماری مری موری گوئیاں
اس کی ایک مثال ہے۔
یہاں ملکہ غزل اختری بائی فیض آبادی جن کو بعد میں بیگم اختر کے نام نامی سے پکارا گیا، کا ذکر خیر بھی ہو جائے۔ فریدہ خانم سے پہلے ملکہ غزل کا خطاب ان کے پاس تھا اور وہ واقعی اس خطاب کی اصل حقدار بھی تھیں۔
بیگم اختر گائیکی کا وہ نام ہیں جو اب بهی تابندہ و رخشندہ ہے. اختری بائ فیض آبادی کے نام سے مشہور ہونے والی ان خاتون نے فلموں میں بهی کام کیا .محبوب کی فلم روٹی کی کاسٹ میں بیگم اختر بهی شامل تهیں.مگر زیادہ شہرت ٹهمری ، دادرہ اور غزل گائیکی کی بدولت پائی. عین عروج کے زمانے میں بیرسٹر اشتیاق احمد عباسی صاحب سے بیاہ رچا کر گائیکی ترک کر دی کہ شوہر نامدار کی اجازت نہیں تهی.سخت پس مژدہ اور اداس رہنے لگیں. سخت بیمار پڑیں اور علاج موسیقی کی دنیا میں واپسی ہی ٹھہرایا گیا تو پانچ برس بعد شوہر کی رضامندی سے دوبارہ گانا شروع کیا اور ہفت اقلیم کی شہرت دوام حاصل کرکے گویا اوج ثریا کو چهو لیا. بیگم اختر نہایت مخیر اور رحم دل خاتون تهیں. فلم کے زمانے میں اپنی آدهی تنخواہ غریب ورکروں میں بانٹ دیا کرتی تهیں. بہت سے راجے مہاراجے اور نواب ان کی شگفتگی سیرت و صورت پر دیوانے ہوئے. بیگم اختر کا نام برصغیر کی گائیکی میں ایک سنگِ میل کی حثیت رکهتا ہے. انهوں نے مشہور عالم فلمساز ستیہ جیت رے کی فلم جل ساگر میں بهی کام کیا. اسی فلم میں مشہور عالم گلوکارہ ذہرہ بائی انبالے والی کی دختر نیک اختر روشن کماری صاحبہ نے بهی اپنے کتهک کے فن کا مظاہرہ کیا. بیگم اختر نے سنگیت کا اکیڈمی ایوارڈ بهی حاصل کیا اور ملکہ غزل کا عوامی تخلص بهی.
ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم بھی اپنے وقت میں خاصے کی چیز تھیں۔ کلاسیکل غزلیں، ٹھمری، دادرے اور کافیاں گانے میں ان کا کوئی جواب نہیں تھا۔ غزل گائیکی میں شیکسپئر ہند آغا حشر کاشمیری کی بیگم مختار بیگم صاحبہ بھی بے حد کمال رکھتی تھیں۔ انھوں نے ملکہ ترنم نور جہاں صاحبہ کے علاوہ نسیم بیگم صاحبہ اور خصوصا” اپنی چھوٹی بہن فریدہ خانم صاحبہ کو بھی گروم کیا تھا۔ اداکارہ رانی کو بھی انھوں نے ہی پالا اور کلاسیکل رقص کی خصوصی تربیت دلوائی۔
پرانی گائیکاؤں میں گوہر جان، کلیانی، کجن، کانن بالا اپنے اپنے وقتوں کے بے حد اونچے نام تھے، جن کو آج کوئی جانتا بھی نہیں ہے۔ اپنے زمانوں میں یہ خواتین بھی ملکہ ترنم نور جہاں صاحبہ اور لتا منگیشتر صاحبہ جیسی ہی مشہور ہستیاں تھیں مگر رہے نام اللہ کا۔۔۔ شہرت چار دن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات جیسی ہی ہوتی ہے۔ چند نسلوں کے بعد شاذ و ناز ہی کوئی فنکاروں کو یاد رکھتا ہے۔
زہرہ بائی بے حد سادہ مزاج باکمال گلوکارہ تھیں اور سادگی پسند۔ میک اپ اور بنے ٹھنے رہنے سے کوئی لگاؤ تھا نہ غرض۔ گوہر جان آفت کا پرکالہ تھیں۔ غضب کی جامہ زیبی، مہنگا ہار سنگھار۔ ہر لمحے چوتھی کی دلہن کی طرح سجی سنوری اور بنی ٹھنی رہتی تھیں۔ منہ پھٹ اور بذلہ سنج بھی خوب تھیں۔ ایک دن محفل میں سر عام زہرہ بائی کی سادگی پر ذرا سا چلتا ہوا فقرا کس دیا۔
بائی جی نے متانت سے تسلیم عرض کی اور جوابا” صرف اتنا کہا کہ وہ محض گلوکاری سے ہی رزق حلال کماتی ہیں، پیشہ نہیں کرتیں۔
گوہر جان یہ جواب سن کر پھیکی پڑ گئیں۔ پیشہ غارت گری اور پیسے سے تائب ہوئیں۔ عشق پیشہ تو تھیں، تجارت ٹھپ کی تو خود خوش شکل لوگوں پر عاشق ہونا شروع کیا۔ لوگوں نے بھی خوب چونا لگایا اور جی بھر کر لوٹا۔ آخری عمر میں کنگال ہو گئیں اور اندھی بھی۔
ایک پرانے قدر دان مہاراجہ بڑودہ نے وظیفہ مقرر کر دیا اور یوں ان کی مٹی پلید ہونے سے بچ گئی۔
گوہر جان اپنے وقت کی خاص چیز تھیں۔ رقص، موسیقی، شاعری، بذلہ سنجی، ادب آداب، گائیکی ہر شے میں اعلی دسترس کی بنا پر مقبول عوام و خواص رہیں۔ اردو، بنگالی، انگلش، فارسی،فرنچ سمیت سات زبانیں فر فر بولتی تھیں۔ آرمینیا کے یہودی خاندان سے تعلق تھا۔ جھوٹا پیالہ پی کر ڈیرہ دارنی بن گئیں۔ لکھنو کے مشہور رقاص استاد بندا دین کی ننوا بچوا کی طرح شاگرد رہیں اور کسب کمال حاصل کیا۔ ان کی والدہ ملکہ بنارسی وہ صاحب دیوان شاعرہ تھیں جن کی دوستی داغ سے قائم رہی۔ ملکہ بنارسی کا دوسرا دیوان برٹش میوزیم میں موجود ہے۔
گوہر جان نے تمام عمر انگریز حاکموں کی مٹی پلید کیے رکھی۔ اس زمانے میں دیسی لوگوں کو بگھی پر بیٹھنے کی اجازت نہیں تھی مگر محترمہ روزانہ بھاری جرمانہ ادا کر کے بگھی پر بیٹھ کر صبح کی سیر سے لطف اندوز ہوتی رہیں۔
محترمہ قرۃ العین حیدر صاحبہ نے اپنے ناول’ گردش رنگ چمن’ اور سوانحی ناول’ کارِ جہاں دراز ہے’ میں گوہر جان کا تفصیلی تعارف کروایا ہے۔
وااااہ۔
کیا زمانے تھے وہ بھی۔ پہلے سلولائڈ کے توے آئے وہ بھی دو مختلف سائز میں تینتیس ایم پی اور پچیس ایم پی۔ پھر بڑی ٹیپ کا دور آیا اور آخر کار چھوٹی ٹیپ کا۔۔۔ ان کا ایک انمول خزانہ ہمارے پاس بھی رکھا ہے بمعہ نئے نکور کیسٹ پلیئر کے۔ ہماری دختر نیک اختر کو تو پرانے توے جمع کرنے کا ہوکا ہے۔ امریکن گانوں کے بے حد پرانے ریکارڈز بطور ہابی جمع کرتی ہیں۔ ان کے ایک بے حد پرانے ریکارڈز پلیئر کی سوئی ٹوٹ گئی تو اب کہیں نہیں ملتی۔ شنیدن تھا کہ اس سوئی کی کنی پر ہیرے کا چھوٹا سا ٹکڑا لگتا تھا۔
پاکستان میں ہمارا بھی یہی حشر تھا۔ پرانے سے پرانے توے جمع کر رکھے تھے۔ راجکماری، کانن بالا، سریندر کور، پرکاش کور، سہگل، اختری بائی فیض آبادی، جانکی بائی الہ آبادی، زہرہ بائی۔۔۔ زہرہ بائی بھی دو تھیں، ایک انبالے والی، دوسری کلکتے والی۔۔۔
زہرہ بائی نے ایک گیت کس طرح بھولے گا دل ان کا خیال آیا ہوا
اسقدر پر سوز آواز میں ڈوب کر گایا تھا کہ آج بھی اسے سن کر درد منجمد ہو جاتا ہے۔ نور جہاں نے بھی یہی گیت گا کر ان کی کاپی کی مگر ان کی خاک کو بھی نہ پہنچ پائیں۔
آگرے کی جانکی بائی، ملکہ پکھراج، گوہر جان، کلیانی، کجن ان سب کی آوازیں ہز ماسٹرز وائس کے توے کے ساتھ ہی غائب ہو گئیں۔ پاکستان میں ہمارے پاس انہی سب گیت گانے والوں کے سینکڑوں توے موجود تھے جو ہم کباڑیوں کی دکانوں سے چن چن کر جمع کرتے تھے۔ پاکستان چھوٹا تو سارے بھرے پرے گھر کے دیگر سروسامان کے ساتھ یہ سب کچھ بھی غتر بود ہوا۔
باقی رہے نام اللہ کا۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں