228

فٹ داس ٹو پلے داس

یاور علی بالاور


بین القوامی فنڈ برائے زرعی ترقی (International Fund for Agriculture Development) ایفاد کے ایک غیر ملکی اہلکار کی جانب سے شیرقلعہ آب پاشی اسکیم کے اچانک چھاپہ نما دورہ کے بعد گاوں میں سفید ویگو گاڑیوں کی آمد و رفت اور نقل و حرکت میں اتنا اضافہ ہو گیا ہے کہ بس کیا بتائیں۔ ایک میلے کا ساسماں ہے۔ کچھ حالات سے نا واقف لوگ تو اس صورتحال کو کورونا ویکسین کے نتیجے میں لاک ڈاون کی بندشوں سے آزادی کے بعد شروع ہونے والی سیاحت سمجھ رہے ہیں اور پچھتا رہے ہیں کہ کاش اس عرصہ میں ایک عدد چائے کا ڈھابہ ہی لگا لیا ہوتا تو سیاحتی موسم میں خاصی کمائی ہو جاتی۔

در اصل کہانی یہ ہےکہ480 ایکڑ زمین کو قابل کاشت بنانے کے لئے تقریبا 7کلومیٹر طویل10انچ چوڑی زمین دوزپائیپ لائن، ایک عدد آر سی سی پل،2.7 کلومیٹر نئی سڑک اور 480 ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے والا چینل اور ٹینکی پر مشتمل یہ منصوبہ تختیوں کے مطابق نومبر 2017 میں شروع ہو کرتقریبا 4کروڑ (جبکہ کچھ غلطیوں کی وجہ سے کل لاگت تقریبا 17 کروڑ ہوگی جس کا خمیازہ سرکار کو بھگتنا پڑے گاا) کی لاگت سے ستمبر2019 میں مکمل ہوچکا تھا۔ اوراس پراجیکٹ کاافتتاح ایفاد کے انتہائی اعلی انگریز آفیسر( ایسو سی ایٹ وائس پریزیڈنٹ ڈونل براون) نے کیا تھا اور ایفاد انتظامیہ اور مقامی ذمہ داران نے یکجہتی کے ساتھ ان صاحب کی آمد سے ایک دن پہلے حسب روائیت بابو جی آگئے” والے فارمولا کے تحت تیاریاں مکمل کر کے”فٹ داس میں پانی زمین تک پہنچانے کی تسلی کروا کرراویتی انداز میں ایک عدد ٹوپی اور چوغہ پہنا کر "اشپری” کا گھی چٹا کر رخصت کر دیاتھا۔ صاحب نے جاتے ہوئے اگلی آمد پرہرا بھرا شیرقلعہ دیکھنے کا سپنا اسی وقت دیکھ اور جتا دیا تھا۔

موصوف اس وقت لوگوں کا رش اور استقبال دیکھ کر واقعی جذباتی ہو کر لوٹے ہونگے اور بہت ساری امیدوں کے ساتھ رپورٹیں لکھی ہونگی اور کتنی بے چینی سے کورونا کے ختم ہونے کا انتظار کیا ہوگا کہ اپنے ہاتھوں سے لگائے اس پودے کو پھلدار شجر کی صورت میں دیکھوں۔

وہ خود تو نہ آئے لیکن شاید اپنی جگہ کسی اور کو بھیج دیا ہو۔ گزشتہ ہفتےایک ذیلی افسر تشریف لے آئے۔بالکل اسی جذبے کے ساتھ آئے ہونگے بلکہ منا بھائی ایم بی بی ایس کے بابو جی کی طرح میرا پتر بہت بڑا ڈاکٹر بن گیا ہے والی حسرتیں اپنی پگڑی میں سجا کر آئے ہونگے۔

منا بھائی کے بابو جی اور ایفاد والے ولایتی بابو کی آمد میں ذرا سا فرق یہ تھا کہ وہاں ڈاکئے نے منا بھائی تک وقت پر ٹیلی گرام والی چٹھی پہنچا دی تھی اور سرکٹ کے فنٹر لوگ کو بابو جی آرہے ہیں والے نعرہ کے ساتھ دھوبی گھاٹ کو ہسپتال بنانے کی مہلت مل گئی تھی لیکن یہاں ولایتی بابو کی آمد کی خبر واٹس ایپ کے ذریعے بھی نہ مل سکی اورڈاکٹر مورلی پرشاد شرما اور ڈاکٹر سرکیشور کا منا اور سرکٹ والا روپ پہلے سین میں ہی کھل کر سامنے آگیا۔

وہ صاحب تو ہرا بھرا شیر قلعہ دیکھنے آئے تھے لیکن یہ کیا۔ یہاں تو اب تک پانی ہی نہیں چڑھا(وجہ شدید برف باری)،زمین ویسی کی ویسی بنجر ہے اور چینل ایسا بنایا گیا ہے کہ دیکھ کربندے کو رن فلم کے وجے راز کا کوا بریانی کی پلیٹ سے لیگ پیس نکال کر دیکھنے کے بعد والا ڈائیلاگ یاد آجائے۔ پھر ولایتی بابو کے تابڑ توڑ سوالات اور ایفاد انتظامیہ اور مقامی نمائندوں کے آئیں بائیں شائیں پر مشتمل جوابات۔۔۔

عینی شاہدین (جن کو ہلکی پھلکی انگریزی سمجھ آ سکی) کے مطابق عزت کی کریش بجری وافر مقدار میں بنی اور ایفاد کے یہ پر اسرار غازیان ولایتی بابو کی قیادت میں شیرقلعہ ہاوس پہنچے جہاں(روایتی این جی اوز کے آفیسران کے جلد پگھلنے والے غصے کی امید کے ساتھ)بابوجی کے حضور پراجیکٹ کا مستقبل میں کمیونٹی پلان پیش کیا گیاجسے بابو جی نے پھاڑ کر کوڈے دان میں پھینک کر سب کو ورطئہ حیرت میں ڈال دیا اور گاڑی میں بیٹھ کر اعلی محکمانہ کاروائی کے لئے پہلے گلگت اور پھر اسلام آباد تشریف لے گئے اور سننے میں آیا ہے کہ کچھ آفیسران کو برطرف بھی کیا جا چکا ہے(اللہ کرے یہ خبر سچ ہو)۔ شیرقلعہ میں اپنے جلالی ایام میں ولایتی بابو نے کچھ اہم ڈائیلاگ بھی ادا کئے تھے جن میں سے ایک ہم شرمندگی کے باعث نہیں بتا سکتےاور ایک کامفہوم یہ ہے کہ
"تم لوگوں نے اس اسکیم کے ساتھ جو کھلواڑ کیا ہے اب میں تم لوگوں کے ساتھ کروں گا”۔.تو اسی مناسبت سے ہماری عاجزانہ تجویز ہے کہ آج کے بعد فٹ داس کا نام پلے داس ہونا چاہئیے۔

کہانی کی طوالت کے لئے معذرت لیکن اس کہانی کو یہاں لکھنے کا مقصد کسی کی بےعزتی کرنا نہیں یا کسی بھی لحاظ سے دل آذاری مقصود نہیں۔ ویسے بے عزتی کس کی جائے!!! کیونکہ اس اسکیم سے وابسطہ مقامی مزدور ہو یا نگرانی پر معمور عوام کے نمائندے یا پھر ایفاد کے فیلڈاسٹاف ہوں یا انتظامیہ کے ذمہ داران، جس کسی نے بھی بے ایمانی یا غفلت برتی ہوگی وہ شیرقلعہ کا مقامی نہ بھی ہو لیکن گاوں کے نام کے فرق کے ساتھ تھا تو گلگت بلتستان کا ہی۔۔۔ جو کچھ بھی غلط ہوا اس کا کرنے والا کہیں اور سے تو ڈاون لوڈ نہیں ہوا تھا، نسل اور حرکتیں تو ہماری ایک ہی ہیں ناں۔ بے ایمانی اور دھوکہ فراڈ کی داستانیں رقم کرکے بے عزتی کمانا تو ہمارا اجتماعی مشغلہ ہے۔ پھر جو بھی بے عزتی سر پر آئے اس کا والی بال بنا کر ایک دوسرے کو پاس کرنا ہمارا قومی کھیل ہے۔سو برا کاہے کا منانا بھیا۔

یہ ہمارا اتنی دیر تک موبائل پر ٹک ٹک ٹک ٹک کر کے لکھنا اور محفوظ کرنے کے لئے اپنے پیارے سے بھائی کا واٹس ایپ ڈسٹرب کرکے فیس بک پر چڑھا نے سے کونسا انقلاب برپا ہو جائے گا۔

تو ہمارا مقصد دستیاب سہولت کا فائدہ اٹھا کر ایک سانحہ کو مثال بنا کر تمام اہلیان وطن کو یہ انتباہ کرنا ہے کہ گلگت بلتستان میں ایفاد کے اسکیموں کی اہمیت سی پیک سے کہیں زیادہ ہے۔کیونکہ سی پیک کا رستہ توہمیں صرف چین کی درآمدات اور برآمدات کی ترسیل، ٹریفک اور کاروباری سیاحوں کی سہولتکاری اور سمندر سے گہری دوستی کے مفادات سے مشروط محتاجی سے بھرپور محدود مواقع فراہم کرے گا۔ جبکہ ایفاد کی آبادکاری سے ہمیں اپنی زمین کو قابل کاشت بنا کر اپنی جی ڈی پی کی افزائش کے ذریعے خودکفیل ہونےکا موقع میسر آ سکتا ہے۔

سو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں میں جاری ایفاد کے اسکیموں کو قومی امانت اور مستقبل کا سوال سمجھ کر چلانے کی ضرورت ہے، اوراپنے وقتی مفادات کو ترک کر کے دیانتداری سے فرائض سر انجام دینا چاہئے۔تا کہ آئندہ کوئی ہماری مدد بھی کرے تو فخر سے کرے۔اور ہم اپنے پیروں پر اپنی محنت سے بھی کھڑے ہو سکیں۔

یہ ہر بار وقت گزرنے اور بے عزت ہونے کے بعد ہی دوڑیں لگانے اور پلاسٹک لگا کر پانی پاس کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
"بحر کیف ہمیں بھی کیا پڑی ہے کہ لکھتے جا رہے ہیں اتنا لمبا پڑھنے اور اصلاح کرنے کا ٹائم ہے کس کے پاس ویسے بھی سب نے کونسی پلاننگ کے تحت فیملی بنائی ہے کہ کسی مسئلے میں آنے والی نسل کی بھلائی سوچ کر دلچسپی لیں گے۔۔۔
لگے رہو منا بھائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں