ڈاکٹر صبا نامی آنکھوں کی ڈاکٹر خود اخلاق سے نابینا ہوگئی، کمرے کو اندر سے کنڈیاں لگا کر خوش گپیاں ،آنکھوں کے سینکڑوں مریض باہر انتظار کی سولی پر لٹک گئے 266

پمز ہسپتال شعبہ آپٹامالوجی مریضوں سے بدسلوکی کی بدترین مثال بن گیا

ویب ڈیسک


پمز ہسپتال میں آنکھوں کا شعبہ ڈاکٹروں کی بداخلاقی اور مریضوں سے ناروا سلوک کی بدترین مثال بن گیا۔ ڈاکٹر صبا نامی آنکھوں کی ڈاکٹر خود اخلاق سے نابینا ہوگئی، کمرے کو اندر سے کنڈیاں لگا کر خوش گپیاں ،آنکھوں کے سینکڑوں مریض باہر انتظار کی سولی پر لٹک گئے۔ احتجاج پر عمر رسیدہ خاتون مریض کو دھکے دیکر کمرے سے باہر نکال دیا اور علاج سے انکار کردیا۔ انتظامیہ کو شکایت کرنے پر ٹس سے مس نہ ہوئیں ، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا حکم بھی ہوا میں اڑا دیا ،لواحقین کے ہسپتال انتظامیہ کو ڈاکٹر صبا کیخلاف باضابطہ درخواست جمع کرادی ۔
تفصیلات کے مطابق پمز ہستال انتظامیہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور صحت کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان کے اصلاحاتی ایجنڈے کو نافذ کرنے میں ناکام ہوگئی ۔ ہسپتال میں ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے آئے روز کسی نہ کسی بہانے سے ہڑتالیں اور احتجاج معمول بن گیا جب کہ ہسپتال انتظامیہ اپنی رٹ قائم کرنے میں مکمل ناکام نظر آتی ہے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ کمزور انتظامیہ کی وجہ سے تکبر اور انا میں اٹے ڈاکٹرز غریب مریضوں کے لئے خدا بن بیٹھے ہیں ۔ گزشتہ روز سوہان اسلام آباد سے آئی 68 سالہ عمررسیدہ خاتون مریضہ سے بھی پمز ہسپتال میں آنکھوں کے شعبہ کی ڈاکٹر صبا نے انتہائی نامناسب اور تضحیک آمیز رویہ اپناتے ہوئے علاج سے انکار کردیا ۔ مذکورہ مریضہ کے بیٹے طاہر نے بتایا کہ وہ اپنی والدہ کو لیکر صبح ساڑھے 8 بجے ہستپال آئے اور ایک بجے تک شعبہ آپٹامالوجی میں کمرہ نمبر تین کے سامنے دوائی کا نسخہ لکھوانے کے لئے انتظار کرتے رہے ،اس دوران ڈاکٹر صبا نامی ڈاکٹر نےمسلسل کمرے کے دونوں دروازوں کو اندر سے کنڈی لگائے رکھی اور اپنی دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف رہی ، گھنٹوں کے انتظار کے بعد جب عمرہ رسیدہ مریضہ کمرے میں گئی تو ڈاکٹر صبا نے انہیں آدھا گھنٹہ بیٹھانے کے بعد بغیر نسخہ دیئے کمرے سے انتہائی بدتمیزی ،ڈانٹ ڈپٹ اور دھکے دیکر باہر نکال دیا اور کمرے کے دوبارہ کنڈیاں لگا لیں۔ مریضہ کے بیٹے کے مطابق آدھے گھنٹے انتظار کے بعد جب سٹاف کے کہنے پر مذکورہ ڈاکٹر نے دروازہ کھولاتو انھو ں نےایک بار پھر مذکورہ ڈاکٹر سے نسخہ لکھنے کی درخواست کی اور سوال کیا کہ آیا انھوں نے دروازوں کو کنڈیاں کیوں لگا رکھی ہیں جب کہ سینکڑوں مریض باہر خوار ہورہے ہیں تو مذکورہ ڈاکٹرآگ بگھولہ ہوگئیں اور ایک بار پھر انہیں والدہ سمیت کمرے سے باہر نکال دیا ۔ بیٹا مریضہ کے مطابق وہ اس واقعے کی شکایت لیکر جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اعجاز قدیر کے پاس گئے ،تو انھوں نے اپنے پی اے کو مذکورہ ڈاکٹر کے پاس بھیجا اور نسخہ لکھنے کی ہدایت کی تاہم ڈاکٹر صبا نے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی ہدایت بھی نظر انداز کردی اور ایک بار پھر نسخہ لکھنے سے انکار کردیا ۔ مریضہ اور ان کے لواحقین کا کہنا ہے وہ اس واقعے سے شدید ذہنی اذیت اور پریشانی کا شکار ہوئے ہیں اور معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان ،سیکرٹری ہیلتھ کئیر اور پمز ہسپتال انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ مذکورہ ڈاکٹر کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں انصاف فراہم کیاجائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں