117

پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کی وجہ سے سلیکٹڈ کی حکومت ختم ہوئی، بلاول بھٹو

ویب ڈیسک


پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کی وجہ سے سلیکٹڈ کی حکومت ختم ہوئی،کپتانمیں مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں تھی اور وہ وکٹیں اکھاڑکر سب کچھ چھوڑ کر بھاگ گیا ، 2018 کے الیکشن میں جوجو ادارے متنازع ہوئے وہ خود کو غیر متنازعہ ثابت کریں، عمران کی بیرونی سازش کی بات کرکے فارن آفس کو متنازعہ بناکر اپنی کرسی کو بچانے کیلئے استعمال کر رہا ہے ،نیشل سیکورٹی میٹنگ کی تفصیلات سامنے آنی چاہیں،عذاری عذاری کا کھیل نہیں کھیلنے دیں گے،عذاری کے الزام کو کلئیر کرنا ہوگا،ہمیں ان سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں، عمران خان کو جب اکثریت ختم ہوتی نظر آئی تب کیوں خط کا سہارا لیا؟جب تک عذاری کا معاملہ حل نہیں ہوتا پیپلزپارٹی اور اپوزیشن احتجاج کرے گی،ایسا احتجاج کرینگے جو اس سے پہلے ملکی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہوگا،عدالت ایسا فیصلہ دے جس سے عدالت پارلیمان اور جمہوریت کا فائدہ ہو۔پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو اجلاس کے بعد سی ای سی ممبران کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٓاج سی ای سی کی کمیٹی کا اجلاس ہواجس میں بھٹو شہید کو خراج عقیدت پیش کیا گیا،بھٹو شہید نے آئین کے لیے جدوجہد کی اور شہادت بھی قبول کی،سلیکٹڈکے خاتمہ پر سی ای سی کو مبارک دی،میڈیا کے دوستوں نے کہا پاکستان کی تاریخ میں لانگ مارچ کے نتیجے میں حکومت نہیں جاتی ،شہید بے نظیر نے بھی لانگ مارچ کی وہ کامیاب تھی،پیپلزپارٹی جب بھی لانگ مارچ کرتی ہے آمر گر جاتے ہیں،پیپلزپارٹی کے جیالوں نے کراچی سے اسلام آباد تک ہمارا تاریخی اور والہانہ استقبال کیا، میں نے لانگ مارچ کے دوران دس دن کا وقت دیا اور اسمبلی توڑنے اور الیکشن کا کہا،سیاسی جماعتوں نے مل کر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حملہ کیا،سلیکٹڈ کی حکومت ختم ہوگئی،اس میں مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں تھی اور کپتان وکٹیں اکھاڑکر سب کچھ چھوڑ کر بھاگ گیا۔چیئر مین نے کہا کہ کٹھ پتلی کی حکومت زلیل ہوکر ختم ہو گئی،ہم نے ضلع لیول پر افطارپارٹیز رکھ کرکٹھ پتلی کو گرانے کی خوشی منائیں گے،کٹھ پتلی پنجاب میں بھی بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے،جس شخص نے ہماری خارجہ پالیسی کو ناکام بنایا اس شخص کو ہٹانا تھا،مقابلے سے بھاگتے ہوئے کپتان نے ملک کا آئین توڑ دیا،ہم نے ماضی میں بھی کسی آئین شکن کو نہیں چھوڑا اب بھی نہیں چھوڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ عدالت سے بہت امید ہے جہاں سے تحریک عدم اعتماد رکا وہاں سے ہی شروع ہو گا،2018 کے سلیکشن کے نتیجے میں ادارے متازع ہوئے،ایک موقع ہے 2018 کے الیکشن میں جو غلطیاں ہوئی اس کو درست کر سکیں،جو ادارے متنازع ہوئے اب موقع ہے کہ خود کو غیر متنازعہ ثابت کریں، عمران کی بیرونی سازش کی بات کرکے فارن آفس کو متنازعہ بناکر اپنی کرسی کو بچانے کیلئے استعمال کر رہا ہے ،نیشل سیکورٹی میٹنگ کی تفصیلات سامنے آنی چاہیں،عذاری عذاری کا کھیل نہیں کھیلنے دیں گے،عذاری کا الزام معمولی نہیں ہے،عذاری کے الزام کو کلئیر کرنا ہوگا،یہ ہوتا کون ہے ہمیں غدار کہنے وال ،ہمیں ان سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں، عمران خان کو جب اکثریت ختم ہوتی نظر آئی تب کیوں خط کا سہارا لیا؟بیرونی سازش کے حوالے ہماری انٹیلی جنس کی رپورٹ نہیںہیں،جب تک عذاری کا معاملہ حل نہیں ہوتا پیپلزپارٹی اور اپوزیشن احتجاج کرے گی،ایسا احتجاج کرینگے جو اس سے پہلے ملکی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہوگا،مولانا فضل الرحمن نے درست کہا تاریخ میں ایسا احتجاج نہیں ہوا گا۔بلاول نے کہا کہ سی ای سی متحدہ اپوزیشن سے گلگت بلتستان، کشمیر اور کے پی میں بھی عدم اعتماد لانے کی بات کریں گے،ہم چاہتے کہ آئینی بحران سے ایسے نکلیں تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے،پاکستان کے موجودہ سیاسی استحکام اور معاشی استحکام کو خطرہ ہے ،بین الاقوامی سطح پر ملک کے لئے جو حاصل کرسکتے ہیں وہ نہیں کرسکیں گے،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سی ای سی کا دوبارہ اجلاس ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا عمران خان کا بیانہ مقبول ہواہے،عوام اپنی جیب اور پیٹ کی وجہ سے الیکشن میں ووٹ دیں گے،امریکہ کے خلاف بے شک عمران لڑے ہم عوام کے لیے الیکشن لڑینگے ،ہم پہلے ہی عوام میں ہیں ہم جمہوری لوگ ہیں،سکھر سے گڑھی خدابخش میں ہمارا بہتر استقبال ہو،عمران خان بیرونی دنیا کا کٹھ پتلی ہے،عمران خان کو ایجنڈا کے تحت پاکستانی سیاست میں پلانٹ کیا گیا،اسرائیل اور بھارت سے فنڈنگ لیتا رہا۔ایک اور سوال کے جواب میں بلاول نے کہا کہ : ڈی جی آئی ایس پی نے ہمارے مطالبے پر تاحال جواب نہیں دیا نہ مجھ سے رابطہ ہوا،عمران خان نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا، میں ایسے کاغذ لہرا کہ کہہ دوں کہ عمران خان غدار ہے تو کیا ایسے لہرانے سے ہوجائے گا؟انہوں نے کہا کہ ادارے اپنی حدود میں کام کریں تاکہ متازع نہ ہوں،عدالت ایسا فیصلہ دے جس سے عدالت پارلیمان اور جمہوریت کا فائدہ ہو،3 اپریل کو وزیراعظم ،سپیکر ڈپٹی سپیکر اور صدر نے غیر جمہوری کام کیا،ہم مقابلے کرنے پر یقین رکھتے ہیں ،مشرف کا بھی مقابلہ کیا، پاکستان پیپلزپارٹی کا ایک ہی مطالبہ ہے غیر جمہوری فیصلہ کو ختم کرے،ڈائیلاگ کا وقت نہیں کسی سے ملنے پر اعتراض نہیں،الزام کو پبلک میں ہی کلئیر کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں