158

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیکا آرڈیننس کو کالعدم قرار دے دیا

ویب ڈیسک


اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس 2022 کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس آرڈیننس کے تحت کی جانے والی تمام کارروائیاں بھی غیر آئینی قرار دے دی ہیں۔

جمعے کے روز چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے پیکا آرڈیننس سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد چار صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پیکا آرڈیننس بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔ ہائی کورٹ نے ترمیمی آرڈیننس کو اظہار رائے کی آزادی کے خلاف بھی قرار دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی ایک بنیادی حق ہے اور اظہار رائے اور معلومات تک رسائی کا حق معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی اور معلومات تک رسائی کے حق کو دبانا غیر آئینی اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق وفاقی حکومت سے توقع ہے کہ وہ ہتک عزت کے قوانین کا جائزہ لے گی اور ہتک عزت آرڈیننس 2002 کو مؤثر بنانے کے لیے پارلیمنٹ کو مناسب قانون سازی کی تجویز دے۔

عدالت کے مطابق پیکا ترمیمی آرڈیننس کو آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19 اور 19-A کی خلاف ورزی میں نافذ کیا گیا۔

عدالت نے سیکریٹری داخلہ اور ایف آئی اے سائبر کرائم وِنگ کے اہلکاروں کے طرزِ عمل کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سیکریٹری داخلہ کو عدالتی فیصلے کی مصدقہ نقل موصول ہونے کے 30 دنوں میں تحقیقات مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اختیارات کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہوا جس کے نتیجے میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں۔

عدالت نے ہدایت کی ہے سیکرٹری داخلہ اختیارات کا غلط استعمال کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی سے رجسٹرار کو آگاہ کریں۔

پیکا آرڈیننس کیا ہے؟

رواں برس فروری کے مہینے میں پاکستان میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے والے قوانین میں نئی ترامیم متعارف کروائی گئی تھیں جنھیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی طرف سے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے جاری کیا گیا تھا اور اس کے تحت ’شخص‘ کی تعریف کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔

نئی ترامیم کے مطابق ’شخص‘ میں کوئی بھی کمپنی، ایسوسی ایشن، ادارہ یا اتھارٹی کو شامل کیا گیا جبکہ ترمیمی آرڈیننس میں کسی بھی فرد کے تشخص پر حملے پر قید تین سے بڑھا کر پانچ سال تک کر دی گئی تھی۔

اس صدارتی آرڈیننس کے مطابق شکایت درج کرانے والا متاثرہ فریق، اس کا نمائندہ یا گارڈین ہو گا، جرم کو قابل دست اندازی قرار دے دیا گیا تھا جو ناقابل ضمانت تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں