گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے سینئیر صحافی شبیر حسین کو سکردو میں سپرد خاک کیا گیا 208

صحافی شبیر حسین کو سکردو میں سپرد خاک کیاگیا


ویب ڈیسک


گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے سینئیر صحافی شبیر حسین کو آج اسکردو میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ میں صحافتی برادری کے علاوہ دوسرے شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کیں۔

ان کی نماز جنازہ بری امام اسلام آباد میں ادا کرنے کے بعد ان کی میت ان کے آبائی علاقے سکردو روانہ کی گئی تھی۔

شبیر حسین پیر کے روز اسلام آباد میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران سپریم کورٹ کے احاطے میں حرکت قلب بند ہونے سے وفات پاگئے تھے۔

شبیر حسین اپنے انتقال سے ایک گھنٹہ قبل ہی ٹی وی پر ہنزہ میں ششپر گلیشیر پھٹنے سے ہونے والی تباہی پر بیپر دی تھی۔ انہیں صبح سے ہی سینے میں درد کی شکایت تھی جس کی اطلاع انہوں نے پمز ہسپتال میں ایک ڈاکٹر کو بھی دی تھی جس نے انہیں جلد ہسپتال پہنچنے کی تلقین کی تھی۔

وہ ایکسپریس نیوز سے وابستہ تھے اور نہایت محنتی اور فرض شناس صحافی جانے جاتے تھے۔

ان کی وفات پر اسلام آباد اور راولپنڈی کے صحافیوں اور گلگت بلتستان کے صحافیوں سمیت سیاستدانوں اور سماجی شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

گلگت بلتستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نذیر احمد نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ اسلام آباد میں گلگت بلتستان کی توانا آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ شبیر حسین کی اچانک وفات پر دل رنجیدہ ہے۔

سوشل میڈیا صارف اور نوجوان وکیل آصف ناجی نے شبیر کے ناگہانی انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موت كارپوریٹ میڈیا کے منہ پر کالک ہے۔ انہوں نے سوال کیا کیا کیسے ایک دل کے مریض کو علاج کے بجائے رپورٹنگ کرنے پر مجبور کیا گیا۔

نوجوان صحافی اقبال سالک نےاپنے فیس بک پیج پہ لکھا ہے کہ شبیر بھائی کچھ دیر پہلے ہنزہ میں گلیشیر کے پانی سے نقصانات کے حوالے سے ایکپریس نیوز پر بات کر رہے تھے ۔یہ ان کی صحافتی زندگی کی ایک آخری رپورٹ بن گئی ۔ اور کچھ ہی دیر بعد خود خبر کی زینت بن گئے۔
شبیر بھائی ایکسپریس نیوز سے منسلک تھے اور اسلام آباد جرنلسٹس فورم کے صدر تھے۔ وہ نہایت ہی سادہ مزاج اور شریف انسان تھے۔ چار ہفتے پہلے اسلام آباد اسلام آباد پریس کلب میں ملاقات ہوئی تھی وہ بڑے خوش اور ہشاش بشاش نظر آرہے تھے۔ کافی موضوعات پر گپ شپ ہوئی اور وعدہ کیا انشا اللہ گرمیوں میں گلگت بلتستان میں ملاقات ہوگی ۔لیکن ابھی جوں ہی واٹس ایپ ان کیا ۔صحافیوں کا ایک گروپ میں شبیر بھائی کا مسکراہٹ سے بھر پور تصویر دیکھا تو خیال آیا آج شبیر بھائی کی تصویر یہاں پر کیوں دی گئی ہے ۔پھر کیپشن پڑھنے کے بعد دل افسردہ ہوگیا۔

آج گلگت بلتستان ایک بےباک اور پروفشنل صحافی سے محروم ہو گیا۔ وفاق میں گلگت بلتستان کے مسائل اور گلگت بلتستان کے صحافیوں کی محرومیوں پر بات کرنے والے چراغ ہمیشہ کیلئے بجھہ گیا ۔ وہ آواز جو بےآئین خطے کیلئے اقتدار کی ایوانوں میں گونجتی تھی خاموش ہوگئی ۔ شبیر بھائی کو ہمیشہ ایک بھاگ دوڑ میں نظر آتے تھے ۔

شبیر بھائی کی گلگت بلتستان کیلئے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں