colonization 164

نوآبادیات (colonization)

زبیر توروالی


آجکل ”غلامی، غلامی“ کا ورد شروع کیا جا چکا ہے تو ایسے میں خیال آیا کہ تسلط کے ایک ایسے عمل کی طرف اشارہ کروں جس کا شکار ہمارا شمال سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس عمل کو انگلش میں کلونائزیشن کہا جاتا ہے جس کا اردو میں اکثر ترجمہ ”نوآبادکاری یا نوآبادیت“ کیا جاتا ہے جس سے مراد ”کوئی قوم یا گروہ کا کسی دوسرے گروہ پر بالادست آکر اس گروہ کی زمینوں پر اپنی آبادیاں بنانا ہے“ ہے۔ تاہم یہ تعریف قدرے تشنہ ہے جو کلونائزیشن کا پورا مطلب واضح نہیں کرتا۔ نوآبادکاری کلونائزیشن کا وہ پہلو ہے جو آشکارا ہوتا ہے۔ جب کوئی گروہ کسی دوسرے گروہ کو اس کی زمینوں سے بے دخل کرکے وہاں قبضہ جماتا ہے یہ سب کو نظر آتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف کلونائزیشن اپنے اندر ایسے نفسیاتی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی اثرات رکھتا ہے کہ وہ نہ صرف دیرپا بلکہ بہت گہرے ہوتے ہیں اور ان کو واپس کرنا یعنی زیر تسلط گروہوں کے نفسیات، ثقافت اور سماج سے نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ زمینوں کو اکثر لڑائی جھگڑوں کے ذریعے واپس کیا جاسکتا ہے لیکن کلونائزیشن کے ان دوسرے اثرات کو نکالنے کے لئے بہت وقت درکار ہوتا ہے۔
کلونائزیشن انسانی تاریخ کے ہر دور میں رہا ہے۔ تاہم اس کی جلّی مثالیں یورپی ممالک کی ایشیا، افریقا اور امریکا کی قوموں کو زیر کرنا اور ان کو اپنی کالونیوں میں تبدیل کرنا ہیں۔ اس عمل کو بیرونی کلونائزیشن کہا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب اندرونی کلونائزیشن کی مثالیں ان مثالوں سے ذیادہ ہیں۔ برصغیر پر برطانیہ کی حکمرانی ہو کہ فرنگیوں یا پرتگیزوں کی یا افریقا پر فرانس کا قبضہ ہو یا پھرروس کا وسطی ایشیائی ممالک پر قبضہ یہ سب کلونائزیشن میں آتا ہے اور یہ بیرونی کلونائزیشن کی مثالیں ہیں جبکہ جب کسی جگہ کوئی بڑا گروہ کسی چھوٹے گروہ پر تسلط جمائے تو اس کو اندرونی کلونائزیشن کہا جاتا ہے۔


دنیا کی بڑی اور بزعم خویش آزاد، ترقی یافتہ اور ”مہذب“ قوموں کا بنیادی خاصہ رہا ہے کہ دنیا میں اپنا فرض سمجھتے کہ وہ دوسری قوموں کو بھی مہذب بنالے۔ اس نکتہ نظر کو بڑے بڑے فلسفیوں اور دنیا کے بڑے مذاہب نے بھی پروان چڑھایا ہے۔ کانٹ کے نزدیک افریقائی لوگ خرد، تہذیب اور تاریخ سے ناواقف تھے تو کارل مارکس کے نزدیک انڈیا کی کوئی تاریخ نہیں ہے اور یہ ایک قبائلی و دقیانوسی معاشرہ رہا ہے ۔
اسی طرح داردستان یعنی موجودہ شمالی پاکستان، مشرقی افغانستان اور ہندوستان کے بالائی علاقوں کشمیر وادی کو سولہویں صدی سے اس عمل کا شدّت سے سامنا رہا ہے۔ اس پورے خطے کو ”کافرستان“ قرار دے کر مقامی دیسی آبادیوں کی قتل و غارت کو جائز بنایا گیا، ان کی زمینوں پر قبضہ کیا، ان کی ثقافتوں کو تہس نہس کیا اور ان کی شناختوں کو مٹا کر اپنی طرف سے شناختیں ٹھونسی گئیں۔ یوں ان علاقوں کو بتدریج ضم کیاگیا اور یہاں کے مقامی وسائل کو لوٹا گیا۔ وقت کے ساتھ اور کوئی مقامی علمی و فکری مزاحمت نہ ہونے کے سبب ان لوگوں نے کلونائزیشن کے کئی پہلوؤں کو اپنے نفسیات میں بھی شامل کیا۔ ماضی کی یاداشتیں ختم ہوئیں، ان کے اندر بالادست کے ہمہ گیر (علمی، ثقافتی، زمینی، سیاسی، معاشی) تسلط کو اہستہ اہستہ پذیرائی نصیب ہوتی گئی۔ مثال کے طور پر ان علاقوں میں نوآبادکاروں کی جنگی مزاحمت کرنے والوں کا کوئی نام و نشان نہیں جبکہ ان نوآبادکاروں کو مختلف مقدس و سیکولر القابات سے نوازا گیا۔ نوآبادکاروں کا بنیادی ہتھیار مقامی دیسی آبادیوں کے ہیروز کو ویلن بنانا ہوتاہے۔ دنیا کے ہر کونے میں ان دیسی آبادیوں کو آدم خور کہا گیا۔ ہمارے ہاں کئی مثالیں موجود ہیں تاہم جو مقبول مثال ہے وہ گلگت کے بادشاہ شری بدت کی ہے۔ ان کو اب بھی آدم خور کہا جاتا ہے۔ مقامی آبادیوں کو ”کافر“ قرار دے کر ان کو ان کی نسلوں سے بھلا دیا گیا۔ یوں کلونائزیشن پوری طرح پیوست ہوگیا۔ نام نہاد نیشن سٹیٹس

کی بنیاد یورپ میں ”لبرلزم“ پر ڈالی گئی۔ لبرلزم سیاسیات میں بظاہر اچھا نظریہ ہے کیوں کہ یہ شہری مساوات ، آزادی فرد، جدید سیاسی اداروں اور روشن خیالی پر بنیاد کرتا ہے تاہم اپنے اندر ریاست سازی کے اس عمل میں لبرلزم نے بھی کمزور و دیسی طبقات کو انسانی و شہری مساوات کا خیالی لقمہ دے کر ایک ہی آئینی و قانونی ڈھانچے کے دعوے پر مزید کمزور کیاہے۔ انسان کی آفاقی مساوات کا نظریہ بہت دلکش ہے۔ اسی طرح کسی ریاست کے اندر شہری مساوات کا نظریہ پرکشش ہوتا ہے۔ مگر مساوات کے اس ڈھونگ میں ان افراد و قوموں کو ویسے مساوات کی اس لبرل آئینی ٹوکری میں ڈال کر ان کو یکسانیت کی طرف لے جایا جاتا ہے اور یوں ان کو بتدریج اپنے خصوصی حقوق سے محروم کیا جاتا ہے۔ اس کو ایک آسان مثال سے واضح کرتاہوں۔ کسی سرکاری جاب کے لئے گبرال کے ہائی سکول اور لمز لاہور کے طلباء کا ایک طرح کا امتحان لیا جائے گا۔ اسی طرح سوات یونیورسٹی یا شیرنگل یونیورسٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی کے طلباء کے بیچ ایک طرح کا مقابلہ کیا جانا بھی اسی لبرل مساوات کا نتیجہ ہے۔آپ خود سوچیں یہاں گبرال اور سوات یونیورسٹی کے اس طالب علم کے لئے دستیاب مواقع اور ہارورڈ و لمز کے اس طالب علم کے حالات کو یکساں تصّور کیا گیا۔ کیا دونو ں کے حالات ایک جیسے ہوسکتے ہیں؟
دوسری مثالیں اس لبرل ریاست کے اصول کی یہ ہیں کہ چونکہ سب شہری برابر ہیں اس لئے سارے وسائل ریاست کے ہیں اور مکّاری سے یہ فرض کیا جاتا ہے کہ ان وسائل پر سب کا حق برابر کا ہے۔ یعنی کالام کے جنگلات پر کالام اورپورے ملک اور صوبے کے لوگوں کا برابر کا حق ہے۔ لہذا ان جنگلات سے جو آمدن ائے گی اگر وفاق کی سطح پر نہیں تو صوبے کی سطح پر خرچ ہوگی۔ مطلب جنگلات کالام، بحرین میں ہیں اور ان کی آمدن سے کالج، یونیورسٹیاں یا سڑکیں و کارخانے پشاور یا اسلام آباد میں بن رہے ہیں۔ دوسری مثالیں دیکھیں۔ انڈس دریا گلگت بلتستان سے نکلتا ہے۔ دریائے سوات یہاں سوات کے پہاڑوں سے نکلتا ہے ۔ فطرت کا قانون یہ ہے کہ جن وسائل کی پیدوار جہاں سے ہوں ان کے استعمال کا پہلا حق وہی کے لوگوں کا ہے۔ اس کے بعد دوسرے لوگ آئیں گے۔ ان دریاؤں سے ڈیم بنیں گے، بجلی گھر بنیں گے لیکن ان کی آمدن مرکز میں خرچ ہوگی اور جہاں یہ وسائل ہیں وہاں کے لوگوں کو بھی چونکہ ان لبرل مساوات کی بنیاد پر دوسرے شہریوں کے یکساں فرض کیا گیا ہے لہذا ان سے ان مالکان کو وہی ملے گا جو دوسروں کو جس ملتا ہے۔ اگر کوئی پالیسی ہوگی تو رائلیٹی زیادہ سے زیادہ صوبے کو دی جائے گی۔ صوبوں کے مراکز میں ان علاقوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے اور جو ہے وہ انتہائی ناواقف ہونے کے ساتھ ساتھ اس اندرونی کلونائزیشن کانفسیاتی طور پر شکار ہے کہ مرکزی طاقت کو چیلینج نہیں کرسکتے۔
مضمون لمبا ہوتا گیا۔ سیاہ فام فلسفی اور سیاہ فاموں کے حقوق کے لئے کلونائزیشن کے خلاف برسرپیکار کارکن فرانٹز فینن نے کہا تھا کہ میں ماضی میں رہنا نہیں چاہتا۔ ماضی کو صرف حال کے زخموں سے جوڑنا چاہتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حال میں رہنا چاہتا ہوں اور حال کے مسائل کو سامنے رکھتا ہوں۔
ایسے میں کیا یہ ہمارا فرض نہیں بنتا کہ ہم اپنے وسائل پر اپنا اختیار واپس لے لیں یعنی ان وسائل میں اپنے لئے لبرل مساوات کے برعکس اپنے لئے خصوصی آئینی و پالیسی حقوق لے لیں۔ کیا ایسا کرنا نہیں چاہے کہ ہم اپنی شناختوں، اپنی تاریخ اور اپنی ثقافتوں کو نہ صرف اپنالیں بلکہ ریاست، آئین اور قانون سے ان کے لئے امتیازی حقوق کا مطالبہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں