کوہ پیماؤں کی وادی شمشال کا بنیادی صحت مرکز کہیں اور منتقل نہیں کرنے دیں گے، آصف سخی

ویب ڈیسک


عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے نوجوان رہنماء آصف سخی نے وادی شمشال میں بنیادی صحت مرکز کو کسی اور ضلع منتقل کرنے کی کوشش کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ ایسی کسی بھی کوشش کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے اور اس کی مزاحمت کریں گے۔
انہوں نے صوبائی حکومت اور محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اگر شمشال سے بی ایچ یو کو کہیں اور منتقل کرنا ہے تو سابقہ ریاست ہنزہ سے اپنے دیگر تمام دفاتر بھی کہیں اور منتقل کرے۔
انہوں نے جمعہ کے روز میڈیا کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریاست پاکستان کے ادارے، صوبائی حکومت و انتظامیہ اگر ہنزہ کے دور آفتادہ علاقوں میں صحت جیسی بنیادی سہولت وہ بھی ایک چھوٹا سا 3 کروڑ روپے لاگت سے بننے والا بنیادی صحت کا مرکز نہیں دینا چاہتی ہے تو پھر دیگر غیر ضروری دفاتر کی بھی ہنزہ میں کوئی ضرورت نہیں۔
شمشال کے درجنوں کوہ پیماؤں نے ماونٹ ایورسٹ اور دیگر بلند پہاڑی چوٹیوں کو سر کرکے نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کیا ہے۔ ان کے کارناموں اور خدمات کا یہ صلہ دیا جا رہا ہے کہ شمشال جیسے جغرافیائی اہمیت والے خطہ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ، نہ وہاں مناسب سڑک ہے اور نہ پینے کا صاف پانی کا بندوبست ہے ۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں آج سے قبل جو بھی حکومت، یا اعلیٰ حکام عہدوں پر براجمان ہوا ہے ہمیشہ ہنزہ کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔
آصف سخی ،سابقہ امیدوار گلگت بلتستان اسمبلی نے کہا کہ ہنزہ سے سلیکٹڈ نمائندے کو تھوڑی سے غیرت آنی چاہئے ان سے حلقے کا ایک عرصہ سے التوا کا شکار ایک اہم پراجیکٹ ایک مخصوص ذہنیت اور سازش کے تحت اس علاقے سے کہیں اور منتقل کیا جارہا ہے لیکن افسوس انہیں عمران نیازی کی گن گانے اور خالد خورشید کی چاپلوسی کے علاوہ کچھ نہیں آتا ہے۔ ہاں اگر اسی چاپلوسی سے ہنزہ کو فائدہ پہنچتا اور یہاں کوئی بڑا منصوبہ لگتا تو ہم س پھر بھی خاموش رہتے لیکن افسوس ان کے درباری عوام دشمن رویے سے ہنزہ کو فائدہ کی بجائے نقصان ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان شمشال کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ آصف سخی نے خبردار کیا کہ اگر اس سازش کو عملی جامع پہنانے کو کوشش کی گئی تو وہ شمشال کے عوام کو لے کر شاہراہ قراقرم پر بھر پور احتجاج کریں گے۔


انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسر (ڈی ایچ او ) ہنزہ کو بھی متنبہ کیا کہ وہ اس فیصلے کو عملی جامع پہنانے کی کوشش کی تو انہیں ضلع بدر کیا جائیگا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان اور گلگت بلتستان میں اب تک بننے والے حکومتوں و انتظامی عہدیداروں کا شمشال کے عوام پر کوئی احسان نہیں۔ وہاں کے لوگوں نے ۵۰ کلومیٹر سڑک اپنی مدد آپ کے تحت بنایا ہوا ہے اور اس کی صحیح دیکھ بال اور کشادگی نہ کرنے کی وجہ سے اس کی حالت خستہ ہے اور اس پر سفر کرنا انتہائی خطرناک ہے جس کی دوبارہ تعمیر کے لئے سابقہ حکومت نے تقریبا چار کروڑ پر منظور کی تھی اور اس پر کام بھی شروع ہوا تھا لیکن اس حکومت نے اسے بند کیا اور فنڈ کہیں اور منتقل کیا۔ اس سڑک کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے لیکن وہی ادارے پھر حیلے بہانوں سے کام لے رہے ہیں جو کہ ان کیلئے مستقبل قریب میں نقصان دہ ثابت ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں