110

راج تھانیدار کا چلے گا یا سرکار کا؟

زکریہ ایوبی


خیبرپختونخواہ پولیس کا جرگہ سسٹم انتہائی کامیاب نظام ہے جو دیہات کی سطح پر معمولی لڑائی جھگڑوں کو نہ صرف تھانے سے باہر ختم کروانے میں مددگار ہے بلکہ طویل مدتی دشمنیوں کو بھی ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس نظام کے تحت علاقے کے عمائدیں کی ایک کمیٹی بنتی ہے اور کسی بھی لڑائی جھگڑے پر پولیس کیس بنانے سے پہلے معاملہ اس کمیٹی کے سامنے رکھتی ہے۔
گزشتہ روز گرم چشمہ میں ایک واقعہ ہوا۔ الطاف نامی شخص شراب پی کر شادی کی تقریب میں گیا اور وہاں غل غباڑہ کرنے لگا۔ چند لڑکوں نے اسے روکنے کی کوشس کی تو لڑائی پر اتر آیا۔ لڑکوں نے بدمست نوجوان کے ساتھ وہی کیا جو نشہ اتارنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ صبح ہوئی تو وہ نشئی تھانے پہنچ گیا۔تھانے دار سے اس کا یارانہ تھا یا رشتہ داری تھی، اس لیے اس نے 8 افراد کے خلاف ایف آئی آر کٹوا لی جن میں سے کئی اسکول جانے والے بچے تھے۔ آج ان 8 بچوں کو پکڑ کر جیل بھیج دیا گیا ہے جبکہ جس شخص کے ساتھ مار پیٹ کا کیس بنایا گیا وہ بازار میں شاپنگ کرتا اور یہ کہتا پایا گیا کہ تھانیدار اس کا چچا ہے۔
اب تھانیدار اس کا کچھ لگتا ہے یا نہیں ، یہاں ایس ایچ او کی کارکردگی پر کئی سوال اٹھتے ہیں۔
لڑائی جھگڑے کا کیس تھا تو پہلے کمیٹی کے سامنے کیوں نہیں رکھا گیا؟
معاملے کو تھانے کی سطح پر ہی ختم کرنے کی کوشس کیوں نہیں کی گئی؟
تھانیدار اپنے کسی دوست یا رشتہ دار کے کہنے پر لوگوں کو جیل بھیجنا شروع کردے تو نظام کا کیا بنے گا؟
ایس ایچ او کی اس حرکت سے علاقے میں امن و امان کا مسئلہ بن گیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟
اسکول جانے والے بچوں کو تھانے میں بند کرکے جو نفسیاتی چوٹ پہنچائی گئی ہے اس کا مدوا کون کرے گا؟
کئی سوال ہیں جو جواب طلب ہیں، جن پر ڈی پی او کو غور کرنا ہوگا۔
علاقے کے لوگ ایس ایچ او کے تبادلہ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن کیا صرف تبادلہ کرنے سے مسئلہ حل ہوگا؟
اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ کسی اور علاقے میں جاکر ایسی من مانی نہیں کرے گا۔ ڈی پی او کو چاہیے کہ اس ایس ایچ او کے خلاف انکوائری بیٹھائے تاکہ جہاں جہاں اس نے زیادتیاں کی ہیں وہ سامنے آئیں اور متاثرین کو انصاف مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں