‘بلتستان ایک عہد ساز شخصیت سے محروم ہوا’


معروف اسکالر اور محقق  سید محمد عباس کاظمی  کے انتقال پر چیئرمین اکادمی ادبیات کا اظہار تعزیت


اسلا م آباد(پ۔ر) گلگت بلتستان کے نامور محقق، مورخ اور ادیب و دانشور سید عباس کاظمی کی رحلت بڑا قومی سانحہ ہے ، سر زمین علم و ادب "بلتستان” ایک عہد ساز شخصیت سے محروم ہو گیا۔

ان خیالات کا اظہار اکادمی ادبیات پاکستان کے چیر مین ڈاکٹر یوسف خشک نے گلگت بلتستان کے معروف اسکالر، محقق اور بلتی تاریخ و ادب کے امین، سید محمد عباس کاظمی کے انتقال پر  اپنے تعزیتی پیغام میں کیا ۔ انہوں نے مرحوم  کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

انهو ں نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ، سید محمدعباس کاظمی نے زبان ادب کی ترویج کےلئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں ۔ ان کو بلتی ادب، ثقافت اور تاریخ کے شعبہ میں مستند شخصیت مانا جاتا تھا۔

عباس کاظمی گلگت بلتستان کی تاریخ وادب کے حوالے سے ایک معتبر نام تھےجنہوں اپنے تحقیقاتی عمل کے ذریعے ایک مورخ کے طور پر اپنی شناخت بنائی ۔ مصنف، مورخ ،کالم نگار اور محقق کی حیثیت سے کئی ممالک میں متعارف تھے۔

مرحوم تاریخ تبت اور ریاست جموں کشمیر کےانسائیکلو پیڈیاتھے۔ڈاکٹر خشک  نے کہا کہ مرحوم نے میونسپل لائبریری سکردو میں میں بلتستان کی تاریخ ، ادب اور دیگر قیمتی کتابوں کا  بلتی زبان گوشہ قایم کیا۔  مرحوم سید محمد عباس کاظمی نے اپنے علمی ذخیرے سے لاکھوں مالیت کی قیمتی کتابیں بلتستان کے اہل علم کیلئے وقف کیں۔ میونسپل لائبریری سکردو میں گوشہ میں بلتستان کی تاریخ، ادب اور دیگر قیمتی کتابوں کا گوشہ وہاں کے اہل قلم کے لیےکسی تحفہ سے کم نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں