217

چترال میں برن اینڈ ٹرامہ سینٹر گزشتہ سات سالوں سے غیر فعال


رپورٹ: کریم اللہ


دو ہزار سولہ عیسوی کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چترال میں دو غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے  برن اینڈ ٹرامہ سینٹر یعنی جلنے والے مریضوں کے علاج معالجے کے مرکز کے لئے شاندار بلڈنگ کے ساتھ ضروی  آلات بھی مہیا دے دئیے تھے۔  اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ  چترال جیسے دور افتادہ اور پسماندہ علاقے میں  جلنے والے افراد  کی بروقت علاج کرکے ان کی جان بچا کر انہیں اپنی  زندگی جینے کا دوسرا موقع فراہم کرنا تھا۔

 مگر افسوس ناک بات یہ  ہے کہ  خیبرپختونخوا حکومت کی عدم دلچسپی اور چترال کی سیاسی لیڈر شپ، منتخب نمائندوں، سول سوسائیٹی اور صحافی برادری  کے خاموشی کی وجہ کروڑوں روپے مالیت کا بلڈنگ اور سامان چترال میں حادثات کا شکار ہو کر جلنے والے مریضوں کے کسی کام نہیں آرہے ہیں ۔

حکومت کی نا اہلی اور نمائندوں کی عدم دلچسپی کے باعث کئی جلنے والے مریضوں کو پشاور ریفر کرنے پر راستے پر ہی دم توڑ دیتے ہیں  اور کئی  ایک مریض ہسپتالوں میں زیر علاج رہ کر مرض پیچیدہ ہونے کے باعث جان کی بازی ہار جاتے  ہیں البتہ چند ہی خوش قسمت مریض صحتِ یاب ہوکر گھروں کو لوٹتے ہیں۔

 صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلی اور صحت کا انصاف جیسے خالی خولی نغرہ لگانے والوں  کے دعووں کے برعکس چترال میں  تیار اسٹیٹ آف دی آرٹ  بلڈنگ کے لئے ماہر ڈاکٹر اور سٹاف کا مہیا نہ کرنا ایک المیہ اور حکومت و منتخب نمائندگاں کی کارکردگی پر سوالیہ نشاں اور چترال کے باسیوں کے ساتھ سراسر  ناانصافی ہے۔  قومی و صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے نمائندہ گان جن کو جلنے والے افراد کے دکھ درد اور آئے روز ایسے واقعات کے رونما ہونے کا  بخوبی علم تو ہوتا ہے مگر اس کے باؤجود ان کی  خاموشی اس کا بات کا غماز  ہے کہ ہمارے نمائندگان کو صحت کے شعبے میں مسائل کا زرا برابر بھی احساس نہیں۔

اس سلسلے میں تفتیش کرنے پر پتہ چلا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے عہدیدار گزشتہ کئی سالوں سے اس سنٹر کو فعال بنانے کے لئے صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کو پروپوزل دے تو دیتے ہیں مگر صحت کے انصاف کے  دعوے دار پی ٹی آئی سرکار ان پروپوزلز کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں ۔ اور سات سال گزرنے کے باؤجود بھی صوبائی حکومت اور محکمہ صحت برن اینڈ ٹراما سنٹر چترال کو فعال بنانے کے لئے ڈاکٹر اور دوسرے متعلقہ اسٹاف فراہم نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آئے روز چترال میں جلنے کے واقعات رونما ہوتے ہیں  ان مریضوں کو چترال سے پشاور منتقلی میں گھنٹوں کی مسافت طے کرنی ہوتی ہے اس دوران ڈی ہائیڈریشن اور زخموں کی وجہ سے مریض یا تو راستے ہی میں دم توڑتے ہیں یا پھر کئی گھنٹوں کے اس مسافت کو طے کرتے ہوئے مرض اتنا پیچیدہ ہوجاتا ہے کہ پشاور میں بھی ان کا علاج نہیں ہوتا اور یوں ایسے مریض جان بر نہیں ہوپاتے۔

چترال کے منتخب نمائندگان، عوام، سماجی تنظیموں اور صحافیوں کو اس سلسلے میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے اور اس بنی بنائی سہولت سنٹر کو فعال بنانے کے لئے صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کو مجبور کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں