گلگت بلتستان کے سینئر وزیر کا اغواٗ 233

گلگت بلتستان کے سینئر وزیر کو طالبان نے اغواء کیا


رپورٹ: شیر نادر شاہی

گلگت: گلگت بلتستان کے سینئر وزیر کرنل (ر) عبید اللہ بیگ کو بابوسر چلاس کے مقام پر مسلح افراد نے مبینہ طور پر اغواء کیا ہے۔

سوشل میڈیا اور حکومتی ذرائع کے مطابق سینئر وزیر کو اس وقت اغواء کیا گیا جب وہ اسلام آباد سے گلگت کی طرف جا رہے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں شدت پسند تحریک طالبان کے کمانڈر حبیب الرحمان گروپ نے بابوسر کے قریب چیلاس دیامر ضلع کے حدود سے اغوا کرلیا گیا۔

اغواء کاروں نے مطالبات حکومت کے سامنے رکھ دیئے، پہلا مطالبہ یہ کہ گزشتہ کئی سالوں سے دہشتگردی کے الزامات میں مختلف جیلوں میں قید ان کے ساتھیوں کو رہا کیا جائے اور دوسرا یہ کہ گلگت بلتستان میں اسلام اور شریعت کے مطابق حکمرانی قائم ہکیا جائے اور خواتین کے کھیل کود کو روکا جائے۔

اس دوران مقامی صحافی سے بات کرتے ہوئے مغوی سینئر وزیر نے مسلح گروپ کی طرف سے اغواء کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ کوئی غیر انسانی سلوک نہیں کیا گیا بلکہ آرام سے اپنے تحویل میں رکھا ہوا ہے اور ان کے ساتھ مزاکرات جاری ہے جن کے کامیاب ہونے کے بعد رہائی ممکن ہوگی۔

گلگت بلتستان کے ترقی پسند رہنما بابا جان، سلطان مدد اور فدا حسین و دیگر نے کہا کہ سینئر وزیر کو دن دہاڈے اغوا کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے حکومت گلگت بلتستان اور سیکوریٹی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ سینئر وزیر کی رہائی اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ بصورت دیگر حلقے کر عوام احتجاجی مظاہرے کرینگے۔۔

خیال رہے جولائی ۲۰۲۱ میں بابوسر کے میدان میں گلگت بلتستان حکومت کو مطلوب دہشت گرد کمانڈر حبیب الرحمان اور ان کے ساتھی اچانک نمودار ہوئے اور کھلی کچہری لگا ئے تھے جس پر  لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے ۲۰۱۹ میں حساس اداروں کے ساتھ کئے گیئے معاہدے کو پورا کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر اس کے اوپر شدید رد عمل سامنے آیا تھا اور گلگت بلتستان حکومت سے اس بارے میں وضاحت پر استفسار کیا جا رہا تھا لیکن تین دن خاموش رہنے کے بعد گلگت بلتستان حلکومت کے ترجمان فتح اللہ نے ایک مضحکہ خیز تاویل پیش کیا تھا کہ جب تک ان سے گلگت بلتستان کو کوئی خطرہ نہیں ہم ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر سکتے۔
کمانڈر حبیب الرحمن نانگا پربت بیس کیمپ مین دس غیر ملکی کوہ پیماوں جن میں پانچ چینی اور دو بلتستان کے ہائی پورٹرز شامل تھے، کے قتل اور کوہستان میں بس سے اتار ۲۵ شیعہ مسافروں کےقتل میں بھی ملوث بتائے جاتے ہیں
اس کے ایک ہفتے بعد  برسین داسو کے مقام پر ایک کوسٹر جس میں 41 افراد سوار تھے پر دہشت گرد حملہ ہوا تھا جس میں نو چینی باشندوں سمیت 13 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں