مائینگ اور جنگلی جانوروں کا مستقبل


تحریر: فرمان بیگ


گلگت بلتستان شدید موسمیاتی تبدیلی کے انتہائی خطرناک صورت حال سے دوچار ہے گلشیئر پگھل رہے ہیں ماحولیاتی آلودگی میں اضافے سے بے موسم بارشوں اور برفباری سے جانوروں کے خوراک اور رہنے کی جگہ متاثر ہو رہی ہیں وسائل کا غیرمتوازن اور حد سے زیادہ استعمال، پرفضا مقامات پرپڑنے والے بےہنگم سیاحت کے منفی اثرات ہر جگہ پھلتی گندگی، پاک چین بارڈر تجارت کے ذریعے گاڑیوں کی آمدورفت سے دھواں کے اخراج، شورغل، ہوٹلوں کی  تعمیر میں بے ہنگم سریا سمنٹ کااستعمال اور معدنیات کےروایتی کان کنی جیسے مسائل خطے کے ماحولیاتی توازن میں بگاڑ پیدا کرنے کا اہم زریعہ بنتے جارہے ہیں۔ 

سائنس دان، ماہرین حیاتیات اور دیگر شعبوں سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے کرہ ارض سے مختلف اقسام کے جانور پرندے اور مچھلیوں کی افزائش نسل میں  دو تہائی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق انسانی سرگرمیاں قدرتی ماحول کو تیزی سے تباہ کر رہی ہیں جس سے نہ صرف جنگلی حیات بلکہ انسانی صحت اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بھی  تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ماضی میں جنگلی حیات کی آبادی میں آنے والی ڈرامائی کمی کی سب سے بڑی وجہ ان کے فطری مقامات کا خاتمہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی انسانی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جنگلی جانوروں کا بے دریغ شکار اور بڑھتے آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زمین کے استعمال میں اضافہ بنیادی وجہ بنی۔

گلگت بلتستان کے بشتر علاقوں میں جنگلی حیات ہمالین آئی بیکس اور مارخور کے معدومیت کے بڑتے خطرات کو محسوس کرتے ہوئے نوے کی دھائی میں مقامی لوگوں نے جنگلات جنگلی جانور اور پرندوں کے نسلوں کو بچانے، ان کا پائیدار استعمال اور آنے والے نسلوں تک درست حالت میں منتقیلی کے نظریہ کے تحت تحفظ کا آغاز کیا گیا تھا۔

سائنس دان، ماہرین حیاتیات اور دیگر شعبوں سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے کرہ ارض سے مختلف اقسام کے جانور پرندے اور مچھلیوں کی افزائش نسل میں  دو تہائی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

 آئی یو سی این نے مقامی لوگوں کے تحفظاتی علاقہ جات میں حیاتیاتی تنوع کو سائنسی اور دیرپا بنیادوں پرتحفظ فراہم کرنے کے بابت کمیونٹی کنزرویشن کا تصور دیا محمکہ وائلڈ لائف گلگت بلتستان نے جنگلی حیات کے لیے وقف کمیونٹی کنزرویشن ایریاز کے رقبہ جات کو گلگت بلتستان وئلڈ لائف ایکٹ میں قانونی چھتری فراہم کی۔

گلگت بلتستان میں ضلع ہنزہ کا سب ڈویژن گوجال رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا علاقہ ہے  جہاں گلیشئرز، برف پوش پہاڑ، سرسبز و شاداب وادیاں، چراگاہین،  جنگلی حیات اور معدنیات بڑی مقدار میں موجود ہے معدنیات میں پلسر گولڈ میلیبڈینم اور ماربل قابل ذکر ہیں

سب ڈوژن گوجال آئین آباد سے لے کر چیپورسن مسگر تا شمشال کے باشندوں نے اپنی ملکیتی چراگاہوں کو جنگلی جانوروں، ہمالین آئی بیکس، برفانی چیتا اور دیگر انواع و اقسام کی حیاتیات کے پائیدار تحفظ کے لیے وقف کیا ہوا ہیں جس کو کمیونٹی کنزرویشن ایریاز یا کمیونٹی کنٹرول ہنٹنگ ایریا کا نام دیا گیا ہے جہاں ان جنگلی حیات کے نظام انصرام مقامی کمیونٹیز خود سرانجام دے رہے ہیں۔ وہی ان قدرتی وسائل کے تحفظ سے مقامی لوگوں کو اجتماعی معاشی فوائد  حاصل ہونے کے ساتھ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔

سب ڈوژن گوجال آئین آباد سے لے کر چیپورسن مسگر تا شمشال کے باشندوں نے اپنی ملکیتی چراگاہوں کو جنگلی جانوروں، ہمالین آئی بیکس، برفانی چیتا اور دیگر انواع و اقسام کی حیاتیات کے پائیدار تحفظ کے لیے وقف کیا ہوا ہیں جس کو کمیونٹی کنزرویشن ایریاز یا کمیونٹی کنٹرول ہنٹنگ ایریا کا نام دیا گیا ہے جہاں ان جنگلی حیات کے نظام انصرام مقامی کمیونٹیز خود سرانجام دے رہے ہیں۔ وہی ان قدرتی وسائل کے تحفظ سے مقامی لوگوں کو اجتماعی معاشی فوائد  حاصل ہونے کے ساتھ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔

 دوسری جانب جنگلی حیات کے تحفظ کو پائیدار بنیادوں پر قائم رکھنے اور چراگاہوں کو مقامی کمیونٹیزکے ملکیتی حقوق کی ضمانت کوگلگت بلتستان وائلڈ لائف ایکٹ میں تحفظ فراہم کیا گیا ہے حیاتیاتی تنوع کی تحفظ کا واضع عالمی اور ملکی قوانین ہونے کے باوجود جنگلی جانوروں کے لیے قائم تحفظاتی مسکن گوجال کمیونیٹز کنزرویشن ایریاز / کمیونٹی کنٹرول ہنٹنگ ایریاز میں معدنیات پلسر گولڈ، میلیبڈینم اور ماربل کے درجوں لیز محکمہ معدنیات گلگت بلتستان کی جانب سے جاری کرنا نہ صرف جنگلی حیات کے تحفظاتی آماج گاہوں کوتباہ وبرباد کرنے کے مترادف ہے بلکہ مقامی لوگوں کے زمینوں پر قبضہ اورتحفظ جنگلی حیات کے عالمی اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہیں۔

محکمہ معدنیات جی بی کی طرف سے  باآثر اور طاقتور سرمایہ داروں کو ماحولیاتی جانچ پڑتال کئے بغیر مائینگ کے لیزوں کا اجراء عالمی ماحولیاتی قوانین اور جی بی وائلڈلائف آیکٹ کی نہ صرف  خلاف ورزی بلکہ کمیونٹی کے تین عشروں سے جاری محنت اور جنگلی حیات کے تحفظاتی عمل میں دخل اندازی ہیں۔

محکمہ معدنیات جی بی کی طرف سے  باآثر اور طاقتور سرمایہ داروں کو ماحولیاتی جانچ پڑتال کئے بغیر مائینگ کے لیزوں کا اجراء عالمی ماحولیاتی قوانین اور جی بی وائلڈلائف آیکٹ کی نہ صرف  خلاف ورزی بلکہ کمیونٹی کے تین عشروں سے جاری محنت اور جنگلی حیات کے تحفظاتی عمل میں دخل اندازی ہیں۔

آج جس طرح موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرناک صورت حال سے گلگت بلتستان اور بلخصوص وادی ہنزہ  دوچار ہے  وہی کمیونٹی کی سطح پر جاری جنگلی جانوروں کی تحفظ ایک حوصلہ افرا اقدام ہے  دوسری جانب طاقتور اور باآثر سرمایہ داروں کی طرف سے خطے کے قدرتی معدنی وسائل پر بغیر کسی ملکی اور عالمی ماحولیاتی و موسمیاتی قوانین کو خاطر میں لائے بغیر یہاں کے قدرتی وسائل پر زور زبردستی قبضے کی رحجان سے جہاں مقامی لوگوں سے ان کے قدرتی وسائل، معدنیات، زمین اور  چراگاہیں چھین جانے کا خطرہ پیدا ہوا ہے وہی گزشتہ تین عشروں سے قائم جنگلی جانوروں کے تحفظاتی مسکن، چراگاہیں اور سرسبز و شاداب وادیوں میں مائینگ کی سرگرمیوں سے شدید ماحولیاتی آلودگی کے مسائل لاحق ہونے کے ساتھ مقامی پہاڑی معیشت میں ریڈی کی حثیت رکھنے والی گلہ بانی کے شعبے پر بھی منفی اثرات پڑنے، زمین کی ساخت میں تبدیلی، درختوں کی کٹائی، کھدائی سے اٹھانے والےگردغبار سے صحت کے مسائل پیدا ہونے، زمینی کٹاو اور مائینگ کے نتیجے میں نکلنے والی زہریلی گیسوں کا آبپاشی اور پینے کے لیے استعمال ہونے والے پانی میں شامل ہونے جیسے صورت حال سے مستقبل قریب میں وادی گوجال کو سامنا کرناپڑے گا۔ 

مقامی سطح پر موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرناک صورت حال سے نابلد مقامی افراد مائینگ کو معاشی بہتری کا ایک زریعہ سمجھ رہے ہیں اس میں قصور مقامی افراد کی نہیں کیونکہ معاشی و معاشرتی نظام زندگی کو کارپوریٹ سیاسی حکمرانوں نے زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے لالچ میں زر کے ساتھ جوڑا ہوا ہیں جس سے بات کرو وہ یا تو ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی سے لا علم ہے  یا پھر معاشی تنگ دستی کی وجہ سے معدنیات کی کان کنی کو معاشی آسودگی کا زریعہ سمجھتا ہے

  شعوری طور لوگ ماحولیاتی آلودگی پیدا کرنے والے عناصر کے بارے میں شائد ابھی اتنا ادراک نہیں رکھتے یا ابھی اس طرح موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی ہولناک صورت حال سے دوچار نہیں ہوئے ہیں۔  ہولناکی کا احساس کسی کو اس وقت ہوتا ہے جب وہ خود ان تجربات سے گزرا ہو   کیا ہم بحثیت مجموعی کسی موسمیاتی تباہی کی ہولناکی کا احساس کرنے کے لیے کسی بڑے حادثے کا انتظار کر رہے ہیں جب ہمارے پیروں تلے زمین کھسک جائے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں