244

مجھے نئے سال کے دن سے نفرت ہے


تحریر: انتونیو گرامچی

ترجمہ: علی تراب


ہر صبح جب آسمان کے سائے میں میری آنکھ کھلتی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ یہ نئے سال کا دن ہے۔

اسی لیے مجھے نئے سال کے دن سے نفرت ہے جو اکاؤنٹس کی سالانہ رسید کی طرح آن ٹپکتا ہے۔ جو اپنے حساب کتاب، بقایا جات اور نئے انتظامی بجٹ کے ساتھ زندگی اور انسانی روح کو ایک کاروباری عمل میں بدل دیتا ہے۔

یہ زندگی سے اس کا تسلسل اور روح چھین لیتا ہے۔ آپ واقعی یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ایک سال اور اگلے کے درمیان کوئی وقفہ ہے, کہ ایک نئی تاریخ شروع ہونے جارہی ہے۔ آپ نئے عہد کرتے ہیں، اور ان کے ٹوٹنے پر پچھتاتے ہیں۔ عمومی طور پر تاریخوں کے ساتھ یہی مسئلہ ہے۔

کہتے ہیں واقعات کی ترتیب کا علم تاریخ کے ریڑھ کی ہڈی ہے بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ چار یا پانچ بنیادی تاریخیں ایسی ہیں جو ہر اچھے انسان کے دماغ میں محفوظ رہتی ہیں جنہوں نے تاریخ کے ساتھ بھدے مذاق کئے ہیں وہ بھی نئے سال ہی ہیں۔  رومی تاریخ کا نیا سال، یا قرون وسطی کا، یا جدید دور کا۔

کہتے ہیں واقعات کی ترتیب کا علم تاریخ کے ریڑھ کی ہڈی ہے بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ چار یا پانچ بنیادی تاریخیں ایسی ہیں جو ہر اچھے انسان کے دماغ میں محفوظ رہتی ہیں جنہوں نے تاریخ کے ساتھ بھدے مذاق کئے ہیں وہ بھی نئے سال ہی ہیں۔  رومی تاریخ کا نیا سال، یا قرون وسطی کا، یا جدید دور کا۔

اور وہ اس قدر جارحانہ اور مضبوط ہو گئے ہیں کہ ہم کبھی کبھی اپنے آپ کو یہ سوچتا پاتے ہیں کہ شاید اٹلی میں زندگی کا  آغاز 752 میں ہوا اور یہ کہ 1490 یا 1492 کوئی پہاڑ نما سال ہیں جنہیں پھلانگ کر انسانیت ایک نئی دنیا میں داخل ہوگئی۔ لہٰذا تاریخ ایک رکاوٹ بن جاتی ہے، ایک ایسی دیوار جو ہمیں یہ دیکھنے سے روکتی ہے کہ تاریخ سینما کی کسی فلم میں آنے والے انٹرولز کی طرح رکتی نہیں بلکہ ایک مستحکم سیدھی لکیر پر مسلسل چلتی رہتی ہے۔

اور وہ اس قدر جارحانہ اور مضبوط ہو گئے ہیں کہ ہم کبھی کبھی اپنے آپ کو یہ سوچتا پاتے ہیں کہ شاید اٹلی میں زندگی کا  آغاز 752 میں ہوا اور یہ کہ 1490 یا 1492 کوئی پہاڑ نما سال ہیں جنہیں پھلانگ کر انسانیت ایک نئی دنیا میں داخل ہوگئی۔ لہٰذا تاریخ ایک رکاوٹ بن جاتی ہے، ایک ایسی دیوار جو ہمیں یہ دیکھنے سے روکتی ہے کہ تاریخ سینما کی کسی فلم میں آنے والے انٹرولز کی طرح رکتی نہیں بلکہ ایک مستحکم سیدھی لکیر پر مسلسل چلتی رہتی ہے۔

اسی لیے مجھے نئے سال کے دن سے نفرت ہے۔  میں چاہتا ہوں کہ ہر صبح میرے لیے نیا سال ہو۔  ہر دن میں خود پر غور کرنا چاہتا ہوں، اور ہر دن میں اپنی تجدید کرنا چاہتا ہوں. کوئی دن آرام کا نہ ہو۔ جب میں زندگی کے شدت سے دہت ہوجاؤں اور ایک نیا جوش حاصل کرنے کے لئے حیوانیت میں ڈوبنا چاہوں تو میں خود رکنے کا فیصلہ کروں۔

مجھے اس وجہ سے بھی سوشلزم کا انتظار ہے۔  کیونکہ یہ ان تمام تہواروں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دے گا جن کی ہماری روح سے کوئی ہم آہنگی نہیں اور اگر وہ نئے تہوار تخلیق کرے تو کم از کم وہ ہمارے اپنے ہوں ، ناکہ ہمارے احمق اجداد کی طرف سے ہم پر تھوپے گئے ہوں۔

کوئی روحانی قید نہ ہو  میں چاہوں گا کہ میرا ہر لمحہ نیا ہو جو ساتھ ہی ساتھ پچھلے لمحوں سے ایک تسلسل میں جڑا ہو۔ کوئی مخصوص تہوار نہ ہو جو مجھے ایک مخصوص انداز میں ایسے اجنبیوں کے ساتھ منانا پڑے جن کی مجھے کوئی پرواہ نہیں، صرف اس لیے کہ ہمارا دادا کے دادا اور ان کے دادا یہ سب منایا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی یہ منانا چاہیے۔ مجھے یہ چیز بہت کراہت آمیز لگتی ہے۔

مجھے اس وجہ سے بھی سوشلزم کا انتظار ہے۔  کیونکہ یہ ان تمام تہواروں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دے گا جن کی ہماری روح سے کوئی ہم آہنگی نہیں اور اگر وہ نئے تہوار تخلیق کرے تو کم از کم وہ ہمارے اپنے ہوں ، ناکہ ہمارے احمق اجداد کی طرف سے ہم پر تھوپے گئے ہوں۔ حوالہ: مخدوم بلاول لائبیریری اسلام کوٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں