118

کوریج برائے فروخت


تحریر: یعقوب طائی


گلگت بلتستان میں مختلف موسموں میں سرکاری سطح پر ایونٹس منعقد کئے جاتے ہیں جس کا بنیادی مقصد علاقے میں سیاحت کو فروغ دینا ہے گلگت بلتستان کی خوبصورتی اور یہاں کی سیاحت کو دنیا بھر میں مشہور کرانے کے لئے مقامی میڈیا نے جو کردار ادا کیا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بہت سارے فیسٹولز اور گم نام مقامات کو دنیا بھر میں مقامی میڈیا نے ہی اجاگر کیا۔

 مگر آج کل ایک نیا رواج چل رہا ہے کہ جس ضلع میں سرکاری ایونٹ ہو وہاں کی میڈیا کوریج کے لئے ڈیجیٹل میڈیا کے نام پر سوشل میڈیا پیجز چلانے والوں کو لاکھوں روپے دے کر ہائر کیا جاتا ہے آسان الفاظ میں سرکاری ایونٹس کی کوریج کا ٹھیکہ دیا جاتا ہے جو اکثر اوقات بغیر کسی ٹینڈر کے اپنوں اور چہیتوں میں بانٹ دیا جاتا ہے نتیجے کے طور پر جس ضلع میں وہاں کے بجٹ سے ایونٹس منعقد کئے جاتے ہیں مقامی صحافیوں کو کوریج کی بھی اجازت نہیں دی جاتی بحرحال اس رویئے سے مقامی صحافیوں کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا تاہم نقصان اس علاقے کا ہی ہوتا ہے ایک ڈروں کیمرہ لے کر ایونٹ کی منظر کشی کرنے والے اکثر ڈیجیٹل میڈیا کے لوگ میڈیا کے اصولوں سے واقف نہیں ہوتے یہی وجہ ہے کہ مقامی،قومی اور انٹرنیشنل میڈیا پر ایسے ایونٹس کو وہ جگہ نہیں ملتی جس کی توقع کی جاتی ہے۔

آج کل ایک نیا رواج چل رہا ہے کہ جس ضلع میں سرکاری ایونٹ ہو وہاں کی میڈیا کوریج کے لئے ڈیجیٹل میڈیا کے نام پر سوشل میڈیا پیجز چلانے والوں کو لاکھوں روپے دے کر ہائر کیا جاتا ہے آسان الفاظ میں سرکاری ایونٹس کی کوریج کا ٹھیکہ دیا جاتا ہے جو اکثر اوقات بغیر کسی ٹینڈر کے اپنوں اور چہیتوں میں بانٹ دیا جاتا ہے نتیجے کے طور پر جس ضلع میں وہاں کے بجٹ سے ایونٹس منعقد کئے جاتے ہیں مقامی صحافیوں کو کوریج کی بھی اجازت نہیں دی جاتی

 اس وقت گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں پریس کلب موجود ہیں جہاں سینئر اور پیشہ ور صحافی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ان سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا کہ سیاحت کو کیسے فروغ دیا جاتا ہے۔

 غذر پریس کلب کے ممبران ہی ہیں جنہوں نے گمنام خلتی جھیل کو دنیا میں مشہور کرایا جہاں آج سرکاری سطح پر ایونٹس منعقد کئے جاتے ہیں اس طرح بہت سارے گمنام سیاحتی مقامات کو یہاں کے صحافیوں نے ہی دنیا میں پہچان دی مگر انتہائی افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ کچھ سالوں سے محکمہ ٹوارزم اور گلگت بلتستان انتظامیہ نے پریس کلبز اور سینئر و پیشہ ور صحافیوں سے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔

 غذر پریس کلب کے ممبران ہی ہیں جنہوں نے گمنام خلتی جھیل کو دنیا میں مشہور کرایا جہاں آج سرکاری سطح پر ایونٹس منعقد کئے جاتے ہیں اس طرح بہت سارے گمنام سیاحتی مقامات کو یہاں کے صحافیوں نے ہی دنیا میں پہچان دی مگر انتہائی افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ کچھ سالوں سے محکمہ ٹوارزم اور گلگت بلتستان انتظامیہ نے پریس کلبز اور سینئر و پیشہ ور صحافیوں سے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔

 گزشتہ سال خلتی جھیل میلے میں ایک سوشل میڈیا پیج کو صرف ڈرون کیمرے کا کرایہ ڈھائی لاکھ روپے ادا کیا گیا جبکہ لاکھوں روپے اس کے علاوہ دیئے گئے جبکہ غذر پریس کلب کے ممبران نے میڈیا کوریج پر پابندی کے باوجود صرف اپنے علاقے کی کوریج کے لئے ہمیشہ کی طرح بغیر کسی نفع کے کام کیا اور مقامی، ملکی و انٹرنیشنل میڈیا ہاؤسز کے علاوہ سوشیل میڈیا پیجز پر بھرپور کوریج دی جس کی گواہی خود خلتی اور غذر کے عوام دے سکتے ہیں۔

رواں سال بھی ایک بار پھر خلتی گوپس ایونٹ کا ٹھیکہ کسی ڈیجیٹل میڈیا والے کو دیا گیا ہے جس کا غذر کے پیشہ ور صحافیوں اور بالخصوص پریس کلب سے کوئی تعلق نہیں ہے تاہم تمام تر تحفظات کے باوجود ہم نے ماضی کی طرح اس بار بھی اپنی مدد آپ کے تحت اس ایونٹ کی کوریج کا فیصلہ کیا ہے جس کا بنیادی مقصد صرف اور صرف اپنے علاقے کی سیاحت کو فروغ دینا ہے

 رواں سال بھی ایک بار پھر خلتی گوپس ایونٹ کا ٹھیکہ کسی ڈیجیٹل میڈیا والے کو دیا گیا ہے جس کا غذر کے پیشہ ور صحافیوں اور بالخصوص پریس کلب سے کوئی تعلق نہیں ہے تاہم تمام تر تحفظات کے باوجود ہم نے ماضی کی طرح اس بار بھی اپنی مدد آپ کے تحت اس ایونٹ کی کوریج کا فیصلہ کیا ہے جس کا بنیادی مقصد صرف اور صرف اپنے علاقے کی سیاحت کو فروغ دینا ہے ورنہ ایسے ایونٹس پر جانے کی کیا ضرورت ہے جہاں لاکھوں روپے خرچ کرکے صرف ایک ڈرون کیمرے کی نمائش کی جاتی ہو اگر ہم ایسے ایونٹس کی کوریج نہ بھی کریں تو ہمارے پاس خبروں کی کوئی کمی نہیں۔ ہم کسی اور خبر سے بھی گزارہ کرسکتے ہیں۔

 انتظامیہ اور ٹوارزم ڈیپارٹمنٹ لاکھوں روپے کسی ڈرون کیمرے کے منہ میں جھونکنے سے بہتر ہے کہ اس ایونٹ کی بہتری اور وہاں جانے والے سیاحوں کی سہولیات پر خرچ کرے مگر ایسا نہیں ہوگا کیونکہ کلینڈر ایونٹ کے لئے مختص رقم کی پائی پائی کو جیسے تیسے صحیح اڑانا ہے ہضم کرنا ہے اور مال بنانا ہے۔

 تاہم اپنے ضلع کے باسی ہونے کی حیثیت سے سمجھوتہ کرنا پڑرہا ہے یہ صرف غذر نہیں بلکہ گلگت بلتستان بھر میں ہورہا ہے جہاں کے مقامی صحافیوں کو ایک طرف رکھ کے لاکھوں روپے صرف کوریج کے نام پر اس لئے لٹائے جاتے ہیں کہ اس رقم پر متعلقہ حکام کا بھی حصہ ہوتا ہے حالانکہ یہ کام ایک روپیہ خرچ کئے بغیر بھی کیا جاسکتا ہے۔

 انتظامیہ اور ٹوارزم ڈیپارٹمنٹ لاکھوں روپے کسی ڈرون کیمرے کے منہ میں جھونکنے سے بہتر ہے کہ اس ایونٹ کی بہتری اور وہاں جانے والے سیاحوں کی سہولیات پر خرچ کرے مگر ایسا نہیں ہوگا کیونکہ کلینڈر ایونٹ کے لئے مختص رقم کی پائی پائی کو جیسے تیسے صحیح اڑانا ہے ہضم کرنا ہے اور مال بنانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں