127

لالہ لطیف آفریدی


تحریر:جاوید قاضی  


ایک لالہ ا برازیل تھے ، جنھوں نے بولسنارو اور اس کے فاشزم کو شکست دی۔ ایک ہمارے بھی لالہ تھے، لالہ لطیف آفریدی جو نیم تاریک راہوں میں مارے گئے، فاشزم کے خلاف لڑتے لڑتے اپنی جان کا نذرانہ دے گئے۔

کر چلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم

جان گنوا کر تری دلبری کا بھرم

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

مگر یہ تو سلسلہ ہے سرمد سے لے کر حلاج تک ، نجیب سے لے کر لالہ تک۔ لالہ، چھ جنوری 2023 کو پشاور ہائی کورٹ بار میں اپنی لو کی لگن لے کے بیٹھے تھے، دل میں قندیل غم لے کے، لب پے حرف غزل لے کے، اپنے وطن سے محبت کرتے تھے، اپنی افغانی تاریخ، تہذیب و تمدن سے پیار کرتے ہوئے، انھیں کہا جاسکتا ہے کہ وہ پختون قوم پرست تھے ، مگر وہ تما م پسی ہوئی مظلوم قوموں کے ساتھ اپنے آپ کو جوڑتے تھے، اس مملکت خداداد کے تمام مظلوم طبقات، مزدورکسان تحریکوں کے ساتھ ، سامراجیت کے خلاف ، جمہوریت و آئین کی بالادستی کی جنگ پر بالآخر اس عمر میں آکر اپنے آپ کو محدود کیا مگر کیا خوب کیا کہ عاصمہ جہانگیر کی جھلک تھی ان میں، وہ نڈر تھے ، وہ پاکستان سپریم کورٹ بار کے صدر بھی رہے، پشاور ہائی کورٹ بارکے صدر بھی رہے اور وائس پریزیڈنٹ پاکستان بار کونسل بھی تھے۔

لالہ لطیف افریدی افغانی تاریخ، تہذیب و تمدن سے پیار کرتے ہوئے، انھیں کہا جاسکتا ہے کہ وہ پختون قوم پرست تھے ، مگر وہ تما م پسی ہوئی مظلوم قوموں کے ساتھ اپنے آپ کو جوڑتے تھے، اس مملکت خداداد کے تمام مظلوم طبقات، مزدورکسان تحریکوں کے ساتھ ، سامراجیت کے خلاف ، جمہوریت و آئین کی بالادستی کی جنگ پر بالآخر اس عمر میں آکر اپنے آپ کو محدود کیا

یوں تو پشکن کا قتل بھی ایک قبائلی تناظر میں ہوا تھا مگر پشکن ، روس کے بادشاہ زار کے لیے خطرناک ہوگیا تھا ، وہ نہیں بلکہ اس کے اشعار۔ کہتے ہیں کہ ہمارے لالہ بھی قبائلی تناظر میں مارے گئے ، مگر قاتل نے ان کے لئے پشاور ہائی کورٹ کا بار روم کیوں منتخب کیا؟ ہماری عاصمہ جہانگیر بھی اس دنیا سے جلدی رخصت ہوئیں۔

وقار احمد سیٹھ کی وفات بھی عجیب انداز میں ہوئی۔کتنے لوگ ان تاریک راہوں پہ مارے گئے۔ بے نظیر بھٹو کی طرح ، شہید نذیر عباسی اور کامریڈ حسن ناصر کی طرح، ذوالفقار علی بھٹو کی طرح۔ کیا اب بھی اس ارض وطن کو لہو دینا ہے؟ کتنے لوگ ہیں جو لاپتہ ہیں ، یوں تو یہ ملک آئین کے تابع ہے۔ قانون کی حکمرانی ہے ، مگر کچھ بھی سنبھلتا نہیں اور دل بھولتا نہیں۔

لالا ، اسی تسلسل کا حصہ ہیں ، ان شہیدوں سے جا ملے۔ یہ جان تو خیر آنی، جانی ہے مگر وہ اپنا نام بڑا کر گئے۔ لالہ لطیف آفرید ی فاشزم کو شکست نہ دے سکے مگر ایک سپاہی تھے ، ایک سپاہی فیض کی ان سطروں کی طرح…

قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے

جن کی راہ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے، درد کے فاصلے

میں ان کو 1986 سے جانتا ہوں جب میں سندھ میں ساتھی باڑا سنگت کا مرکزی صدر تھا اور میرا تعلق ، سندھ ہاری کمیٹی، ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹ فیڈریشن اور میر غوث بخش بزنجو ، پاکستان نیشنل پارٹی سے تھا۔ پروفیسر جمال نقوی ، امام علی نازش، مختار باچا ، افراسیاب خٹک اور لالا لطیف آفریدی سے تھا۔ چوبیس یا بائیس سال کی عمر تھی۔ طالب علم تھا ، ترقی پسند تحریک سے جڑا ہوا تھا۔

کتنے لوگ ان تاریک راہوں پہ مارے گئے۔ بے نظیر بھٹو کی طرح ، شہید نذیر عباسی اور کامریڈ حسن ناصر کی طرح، ذوالفقار علی بھٹو کی طرح۔ کیا اب بھی اس ارض وطن کو لہو دینا ہے؟ کتنے لوگ ہیں جو لاپتہ ہیں ، یوں تو یہ ملک آئین کے تابع ہے۔ قانون کی حکمرانی ہے ، مگر کچھ بھی سنبھلتا نہیں اور دل بھولتا نہیں۔

لالہ ہمارے لیڈر تھے ،اس حوالے سے پشاور بھی جانا ہوا، جب پشاور یونیورسٹی میں جمعیت نے ہمیں اپنا سالانہ اجلاس کرنے نہ دیا تو ہم نے جمرود ، میں یہ اجلاس کیا، ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹ فیڈریشن کا اجلاس کیا ، انور سیف کو مرکزی صدر منتخب کیا، لالہ لطیف ہمارے میزبان تھے، استاد بھی اورکامریڈ تھے۔ میری ان سے پہلی ملاقات اس زمانے سے ہے۔

میں جب وکیل بنا ، مجھے پتا چلا ’’ لالہ ‘‘ بار کی سیاست کے روح رواں ہیں۔1991 میں جب میں اسلام آباد سے کراچی میں منتقل ہوا ، لالہ یہاں آئے تھے، ہمارے کامریڈ میر تھیبو بھی ہمارے ساتھ تھے۔ لالہ کی میزبانی کرنے کا شرف حاصل ہوا ، اور ایک دفعہ عاصمہ جہانگیر کی میزبانی کا بھی شرف حاصل ہے مجھے۔ عاصمہ کے والد اور میرے والد عوامی لیگ سے جڑے ہوئے تھے۔ ملک جیلانی عاصمہ کے والد اور میرے والد 1970 کے انتخابات میں سندھ اور پنجاب سے عوامی لیگ کی نشست پر الیکشن میں کھڑے ہوئے تھے۔

لالہ کی تقریر لہو گرما دیتی تھی ، وہ وسیع ویژن رکھتے تھے ، بہت دور اندیش تھے ۔ انھیں پتا تھا ایک دن ایسا آئے گا جب برصغیر میں امن ہوگا ، ساؤتھ ایشیا یورپی یونین کی طرح ایک ہوگا۔ مفادات ، تضادات کو جنم دیتے ہیں مگر یہ تضادات مصنوعی تضادات ہیں ، مٹ جائیں گے، وہ افغانستان کی تاریخ پر عبور رکھتے تھے ، پھر سوویت یونین نے افغانستان کو مغلوب کیا ، پھر مجاہد اور اب طالبان۔

لالہ کی تقریر لہو گرما دیتی تھی ، وہ وسیع ویژن رکھتے تھے ، بہت دور اندیش تھے ۔ انھیں پتا تھا ایک دن ایسا آئے گا جب برصغیر میں امن ہوگا ، ساؤتھ ایشیا یورپی یونین کی طرح ایک ہوگا۔ مفادات ، تضادات کو جنم دیتے ہیں مگر یہ تضادات مصنوعی تضادات ہیں ، مٹ جائیں گے، وہ افغانستان کی تاریخ پر عبور رکھتے تھے ، پھر سوویت یونین نے افغانستان کو مغلوب کیا ، پھر مجاہد اور اب طالبان۔

نسل در نسل جنگیں تھیں ، خندقیں تھیں، بارودی سرنگیں تھیں ، جو ان پختونوں کی نسل در نسل دشمنیاں چلتی رہیں اور وہ قتل ہوتے رہے۔ وہ بین الاقوامی سرد جنگ کے پس منظر میں مارے گئے پھر سرد جنگ تو ختم ہوئی مگر اس جنگ کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ انہی تضادات میں جنم لیتے ہیں لالا اور اپنے عہد کا سچ بولتے بولتے، بلاآ خر عدالت کے بار روم میں قا تلوں کی گولیوں سے چھلنی ہوئے۔

وہ بھلے ہی پختون قوم پرست تھے مگر وہ ہمارے سر جی ایم سید کی طرح انسانیت پر یقین رکھتے تھے ، وہ سندھ کے دہقانوں کی تحریک سے بھی جڑے تھے۔ وہ بلوچوں کے حقوق کی بھی بات کرتے تھے ، وہ کراچی کے ترقی پسندوں کے ساتھ بھی جڑے ہوئے تھے، وہ یونیورسل تھے کیونکہ سچ آفاقی ہوتا ہے۔

عبید اللہ سندھی بنیادی طور پر سکھ تھے، پنجاب سے سندھ آئے تھے اور اسلام قبول کیا تھا۔ ایک طویل تاریخ کے ہزاروں اوراق ہیں جو میرے ذہن میں گرداں رہتے ہیں ، میں اس سمندر میں رہتا ہوں اور رہنا بھی چاہتا ہوں، جب کابل یونیورسٹی میں افغان لڑکیاں جھومتی تھیں ، ریگذاروں کی طرح ، آبشاروں کی طرح ، ان کے پاؤں زمین پر نہ پڑتے تھے

میرے والد بھی کابل کی سر زمین پر اترے تھے، جب سردار داؤد وہاں کے صدر تھے، اس بات کا ذکر ’’ فریب نا تمام ‘‘ میں جمعہ خان کرتے ہیں، اجمل خٹک بھی وہیں مقیم تھے اور بہت سے بلوچ رہنما بھی جلا وطن تھے۔ کابل جہاں سے ریشمی رومال تحریک بھی چلی تھی، برصغیر کو انگریز سے آزادی دلانے کے لیے، ہمارے مولانا عبید اللہ سندھی اس تحریک کے روح رواں تھے جن کے بہت سے پیروکار آج کل مولانا فضل الرحمان کی پارٹی سے جڑے ہوئے ہیں۔

عبید اللہ سندھی بنیادی طور پر سکھ تھے، پنجاب سے سندھ آئے تھے اور اسلام قبول کیا تھا۔ ایک طویل تاریخ کے ہزاروں اوراق ہیں جو میرے ذہن میں گرداں رہتے ہیں ، میں اس سمندر میں رہتا ہوں اور رہنا بھی چاہتا ہوں، جب کابل یونیورسٹی میں افغان لڑکیاں جھومتی تھیں ، ریگذاروں کی طرح ، آبشاروں کی طرح ، ان کے پاؤں زمین پر نہ پڑتے تھے۔ کتنا تاریک ہوا ہے کابل ! ایک ہوکا عالم ہے اور حوا کی بیٹی سے کتاب بھی چھین لی گئی ہے۔ میں یہ محسوس کرسکتا ہوں کہ یہی وہ دکھ تھے جو لالہ ہمارے لیے چھوڑ گئے ہیں، یہ دکھ اب ہمارے ہیں ، ہمیں یہ دکھ اب آگے لے کر چلنا ہوگا۔

ہاں جاں کے زیاں کی ہم کو بھی تشویش ہے لیکن کیا کیجیے

ہر رہ جو ادھر کو جاتی ہے مقتل سے گزر کر جاتی ہے

بشکریہ: ایکسپریس نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں