124

مفکر کا گدلا پانی


تحریر: عزیزعلی داد


عہدحاضر کی پاکستانی سوچ جو دانشوری کے نام پر سوشل میڈیا میں دیکھنے کو ملتی ہے کوئی نئی چیز نہیں ہے۔بس فرق اتنا ہے کہ سوشل میڈیا نے اس عمومی مگر مخفی ذہنیت کو سب کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔اصلی فکرمفکر کو اپنے معاشرے، لوگوں اور ریاست سے بیگانہ کردیتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں فکر مفکر کے لیےطاقت کی راہداریوں کے در  وا کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی سرمایہ سے مالامال لوگوں کے قریب کردیتی ہے۔

یہ پینٹنگ بن جانسن کے معروف ڈرامے الکیمسٹ سے ماخود ہے جس میں کچھ فراڈیے معاشرے کے ہر طرح کے لوگوں کی بڑی تعداد کو اپنی جعلی سائنس الکیمیا کے ذریعے بے وقوف بنا کر لوٹتے ہے۔

پاکستانی دانشورانہ پیٹرن یہ ہے کہ آپ کسی بھی مکتب فکر یا آئیڈیالوجی کےبڑے ناموں پربے غیر پڑھے اور سمجھے دشنام انگیزی شروع کریں۔ آپ اس طریقہ کار کو کچھ مہینوں تک دہراتے رہیں۔آہستہ آہستہ اسی طرح سوچنے والے آپ کے اردگرد جمع ہوجائیں گے۔بالآخر آپ افکار کی دنیا کے اختر لاوا بن کر ابھریں گے۔جب آپ کسی معروف مگر آپ کے ناپسندیدہ مفکر پر تنقید کریں گے تو اسے ناپسند کرنے والے آپ کی واہ واہ کریں گے اور بہت جلد آپ ایک نمائندہ مفکر بن جائیں گے۔

پاکستانی دانشورانہ پیٹرن یہ ہے کہ آپ کسی بھی مکتب فکر یا آئیڈیالوجی کےبڑے ناموں پربے غیر پڑھے اور سمجھے دشنام انگیزی شروع کریں۔ آپ اس طریقہ کار کو کچھ مہینوں تک دہراتے رہیں۔آہستہ آہستہ اسی طرح سوچنے والے آپ کے اردگرد جمع ہوجائیں گے۔بالآخر آپ افکار کی دنیا کے اختر لاوا بن کر ابھریں گے

چونکہ مخالف مفکر کے بھی بہت سے عقیدت مند ہوتے ہیں ،وہ بھی فوری طور  ردعمل کے طور پر وہی انداز بیان اختیار کریں گے جیسا نقاد اولین نے کیا تھا۔ اس طرح معاشرے میں ایک ایسا ڈسکورس پیدا ہوتا ہے جو کسی بھی متن کے گہرے مطالعے اور تجزیے سے نہیں ابھرتا ہے بلکہ دوسرے گروپ کو زک پہنچانےکی نیت  سے کیا جاتاہے۔یوں ایک سنجیدہ علمی معاملے پر ایک عامیانہ بیانہ تیار ہوتا ہے۔ یہی عامیانہ باتین پاکستانی سوشل میڈیائی دانشوروں کی پسندیدہ ذہنی خوراک ہے جس کی طلب ہمیشہ بڑھتی رہتی ہے۔ یہی طلب رسد مہیا کرنے والے لوگ پیدا کرتی ہے۔

کچھ سالوں پہلے میں ان تمام مفکروں کو بلاک کرنا شروع کردیا تھاجو بہت ہی گنجلک معاملے کا بہت ہی یک رخا تجزیہ کرتے ہیں۔ ان میں ذہنی تجسس کی بجائے اندھی تنقید کا رجحان زیادہ ہوتا ہے اور بڑے قد کاٹ کے لوگوں پر دشنام طرازی کرکے اپنا نام بناتے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جن کا تجزیہ ایک ہی نقطے پہ پھنسا ہوتا تھا۔ ان میں حالیہ نام اویس اقبال کا بھی ہے۔ان کی سطحیت اور اندھے فالورز کو دیکھ کر میں نے ان کو فالو کرنا چھوڈ دیا تھا۔ اب پتہ چل رہا ہے کہ بندے نے شوشلشٹوں کو مناظرے کا چیلنج دیا ہے۔اگر موصوف کو اتنا ہی اختلاف تھا تو یا تو کوئی پیپریا کتاب لکھ لیتے۔ساری دنیا میں علمی اختلاف ہوتا ہے اور اس کا علمی جواب دیا جاتا ہے۔اور تو اور اختلاف کرنے سے قبل بندے کو اپنے آپ کو اختلاف کرنے کے قابل بنانا ضروری ہوتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں یہ چیز ہر مکتبہ فکر میں مفقود ہے۔اس رجحان کو دو تجربات سے واضع کرتا ہوں۔

پچھلے سال شوشل میڈیا پہ ایک صاحب سے واسطہ پڑا جو ہر دوسرے دن ڈاکٹر محمد اقبال پر گالیوں سمیت تنقید کرتے تھے کہ انھوں نے اسلام کے زیر اثر پاکستانی مسلمانوں کو پرتشدد بنا دیا ہے۔چونکہ فلسفے کے میری خاص دلچسپی جرمن فلسفے میں ہے، اس لیے میں نے عرض کیا کہ اقبال پر اسلام سے بھی زیادہ اثرات مغربی فلسفے کے ہیں۔

زمانہ طالب علمی میں کالج کے قریب ایک مسجد کے مولانا کی تقریر سنی۔ موصوف کہہ رہے تھے کہ ملحدی پھیلانے کے لیے مغربی سرمایہ داروں نے کارل مارکس کے خیالات کو دنیا کے ہر حصے بشمول پاکستان میں پھیلانے کی کوشش کی مگر چونکہ ہر مسلمان کا دل اسلام کا قلعہ ہے اس لئے پاکستان میں کمیونزم کے ملحدانہ خیالات پھیل نہ سکے۔تب مجھے اندازہ ہوا کہ مولوی کو اپنی جہالت پر پختہ یقین تھا۔

 اب جرمنی کے یونیورسٹی آف جینا سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کرنے والا  کارل مارکس اس مولوی کے سامنے بے بس تھا۔ تب سے میں نے فیصلہ کیا کہ مارکس کو سمجھنا ہے تو کسی پروفیسر سے سمجھنا ہے نہ کہ اس مولوی سے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اس اہل ہی نہیں بنایا کہ وہ مارکس کو سمجھ کر تنقید کرسکے۔ کہاں یونیورسٹی آف جینا اور کہاں پیر ودھائی۔

پچھلے سال شوشل میڈیا پہ ایک صاحب سے واسطہ پڑا جو ہر دوسرے دن ڈاکٹر محمد اقبال پر گالیوں سمیت تنقید کرتے تھے کہ انھوں نے اسلام کے زیر اثر پاکستانی مسلمانوں کو پرتشدد بنا دیا ہے۔چونکہ فلسفے کے میری خاص دلچسپی جرمن فلسفے میں ہے، اس لیے میں نے عرض کیا کہ اقبال پر اسلام سے بھی زیادہ اثرات مغربی فلسفے کے ہیں۔

چونکہ مسلمان فکری طور پر غریب تھے، اسی لیے اقبال اعلی تعلیم اور پی ایچ ڈی کے لئے کیمبرج یونیورسٹی انگلستان اور لڈوگ میکملن یونیورسٹی جرمنی گئے تھے۔تبھی تواقبال جرمن قومی شاعر گوئٹے کے ساتھ پیام مشرق اور دیگر تحریروں میں تہذیبی مکالمہ کرنے میں کامیاب ہوا۔

اب موصوف کے اقبال کے ایک پیور یعنی خالص مسلمانی مفکر ہونے کے لبرل مفروضے پر چوٹ لگی تو موصوف نے مجھے مذہبی تعصبی ڈیکلئیر کردیا۔ پھر ان کی دشنام سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے انہیں ان فالو کردیا۔

اسی طرح آپ پاکستانی لیفٹسٹ سے جیکس لاکان، دریدا،لیوٹارڈ یا فوکو کی بات چھیڑ دیں تو وہ فورا انھیں پوسٹ ماڈرن چول قرار دے کے مسترد کردیں گے۔ یوں پاکستانی ذہن چاہے کسی بھی مکتبہ فکر سے ہو، اپنے آپ کو علمی جستجو سے زیادہ مجادلوں اور مناظروں میں پھنسایا  ہواہے۔ چونکہ یہ ذہن خود سطحی ہے اس لیے بقول نطشے اپنے آپ کو گہرا دکھانے کے لئے پانی کو گدلا کردیتا ہے۔حیف کہ ہم اس گدلے ذہن کو مفکر اور گدلے پانی کو علم سمجھ بیٹھے ہیں۔

زمانہ طالب علمی میں کالج کے قریب ایک مسجد کے مولانا کی تقریر سنی۔ موصوف کہہ رہے تھے کہ ملحدی پھیلانے کے لیے مغربی سرمایہ داروں نے کارل مارکس کے خیالات کو دنیا کے ہر حصے بشمول پاکستان میں پھیلانے کی کوشش کی مگر چونکہ ہر مسلمان کا دل اسلام کا قلعہ ہے اس لئے پاکستان میں کمیونزم کے ملحدانہ خیالات پھیل نہ سکے۔تب مجھے اندازہ ہوا کہ مولوی کو اپنی جہالت پر پختہ یقین تھا۔

یہی تو وجہ ہے کہ ہم علم پر کم زور دیتے ہیں اور بھرم کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کر دیتے ہیں۔ہمارے اندر کچھ ہے ہی نہیں، تو بھرم ہی مار یں گے۔اور ویسے بھی خالی برتن ہی زیادہ شور مچاتے ہیں۔پاکستان میں فکر وہ الکیمیا ہے جو کبھی بھی لوہے کو سونا نہ بنا سکی مگر لوہے کو سونا بتا کر فروخت کرنے میں کامیاب ہوئی۔ پینٹنگ: یہ پینٹنگ بن جانسن کے معروف ڈرامے الکیمسٹ سے ماخود ہے جس میں کچھ فراڈیے معاشرے کے ہر طرح کے لوگوں کی بڑی تعداد کو اپنی جعلی سائنس الکیمیا کے ذریعے بے وقوف بنا کر لوٹتے ہے۔

عزیزعلی داد ایک سماجی مفکر ہیں۔ انہوں نے لندن اسکول آف اکنامکس اور پولیٹکل سائنس سے سماجی سائنس کے فلسفے میں ماسٹرز کی ڈگری لی ہے۔ وہدی نیوز، فرائڈے ٹائمز، ہائی ایشیاء ہیرالڈ اور بام جہاں میں مختلف موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔ انہوں نے فلسفہ، ثقافت، سیاست، اور ادب کے موضوعات پر بے شمار مضامین اور تحقیقی مقالے ملکی اور بین الاقوامی جریدوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ ؑعزیز جرمنی کے شہر برلن کے ماڈرن اوریئنٹل انسٹی ٹیوٹ میں کراس روڈ ایشیاء اور جاپان میں ایشیاء لیڈرشپ پروگرام کےریسرچ فیلو رہے ہیں

عزیزعلی داد ا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں