104

کیا پیر مختار سیاسی کرئیر بنا رہا ہے؟


تحریر: ماجد علی


یہ چترال ڈے کی دوسری اور آخری شام تھی۔ مختلف مقابلوں میں جیتنے والے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں انعامات تقسیم کیے جارہے تھے اور ہال میں موجود موسیقی سے شغف رکھنے والے خواتین و حضرات اس انتظار میں تھے کہ کب تقسیم انعامات کا یہ خشک مرحلہ آگے بڑھے اور چترال سے آئے ہوئے فنکار موسیقی کے سحر سے ہال کو ایک بار پھر پررونق بنا کر لوگوں کی بوریت کسی قدر دور کرسکیں۔ تقسیم انعامات کا یہ مرحلہ طول پکڑ گیا اور نوجوان زچ ہوکر شور مچانے لگے۔ وقت کے ساتھ یہ شور بڑھتا چلا گیا اور بالآخر نوجوانوں نے آسمان سر پر اٹھا دیا۔ چترال کے ہردلعزیز مزاحیہ فنکار افسر علی اس شور شرابے سے تنگ آکر اسٹیج پر گئے اور نہایت سنجیدگی کے ساتھ نوجوانوں سے مخاطب ہوکر بولے "ہم چترالی ذرا نرالے لوگ ہیں، جہاں شور شرابے کی ضرورت ہوگی وہاں ہم دم سادھ کر بیٹھ جائیں گے لیکن جہاں کسی شور شرابے کی ضرورت نہ ہو وہاں ہم خوامخواہ چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا دیں گے”۔

یوں افسر علی صاحب نے جان کر یا انجانے میں وہ الفاظ کہے جو اپنی معنویت کے اعتبار سے انتہائی تاریخی ہیں۔

ہمارا اصل بھی تو یہی ہے۔ چترالی موسیقی اور کھیلوں کے میدان کے علاوہ کسی اور جگہ نہیں چیخے۔

چترال کے ہردلعزیز مزاحیہ فنکار افسر علی اس شور شرابے سے تنگ آکر اسٹیج پر گئے اور نہایت سنجیدگی کے ساتھ نوجوانوں سے مخاطب ہوکر بولے "ہم چترالی ذرا نرالے لوگ ہیں، جہاں شور شرابے کی ضرورت ہوگی وہاں ہم دم سادھ کر بیٹھ جائیں گے لیکن جہاں کسی شور شرابے کی ضرورت نہ ہو وہاں ہم خوامخواہ چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا دیں گے”۔

جمہوریت آزادی اظہار اور تقریر کی آزادی کے ساتھ ساتھ چیخنے کی آزادی کا بھی ضامن ہے۔ جہاں مطالبات بہرے کانوں پر پڑیں وہاں چیخنا بھی سیاسی فرض ہے۔

تاریخ گواہ ہے چترال نے چیخنے کی آزادی کا کبھی جائز استعمال نہیں کیا۔ یہ اس صدی میں پہلی دفعہ ہورہا ہے کہ کوئی چترالی موسیقی اور کھیل کے علاوہ کسی میدان میں چیخا ہے۔

اس شور مچانے والے کا نام پیر مختار ہے۔ یہ کئی سالوں سے چیخ رہا ہے لیکن آج پہلی دفعہ اس کی چیخ اس کے اپنے لوگوں کو سنائی دے رہی ہے۔

یہ موسم ہی چیخنے چلانے کا ہے۔ اُدھر گوادر میں بلوچ چیخ رہے ہیں۔ پڑوس میں گلگت بلتستان والے آسمان سر پر اٹھائے ہوئے ہیں اور جنوب میں منظور پشتین اپنی قوم کو لے کر چیخنے چلانے میں مصروف ہے۔

ان تمام چیخوں میں ایک چیز قدرے مشترک ہے۔ یہ تمام چیخنے والے ریاست سے ناراض ہیں۔ ان کے مطابق ان سب کے وسائل پر ریاست دست درازیاں کر رہی ہے اور یہ اپنے بنیادی حقوق تک سے یکسر محروم ہیں۔ اس جبر و استحصال کی فضا میں چیخنا کیا واجب نہیں ہو جاتا؟

چراغ تلے اندھیرا کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہوگی کہ چترال میں پیدا ہونے والی بجلی چترال کی گلیوں، بازاروں کو روشن کرنے کیلئے میسر نہیں ہے۔

چند لاکھ کی آبادی پر مشتمل چترال، قوم پر سینکڑوں جوان قربان کر چکا ہے لیکن چترال میں ایک عدد کیڈٹ کالج نہیں ہے۔

تحریک تحفظ حقوق چترال کی تنظیم میدان کارزار میں کود پڑی ہے۔ تنظیم کے رہنما چار دن سے اس خون منجمند کرنے والی سردی کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ پیر مختار اس گروہ کا رہبر ہے۔ اس کا حوصلہ بلند اور یقین کامل ہے۔ چترال بھلے ریاست کا سوتیلا بیٹا ہو لیکن پیر مختار چترال کا سگا وارث ہے۔ وہ اپنی یتیم ماں کا جوانمرد بیٹا ہے۔

ملک بھر کے ہسپتالوں میں سف اول میں چترالی نرسز کھڑی ہیں لیکن چترال میں کوئی نرسنگ کالج نہیں ہے۔

چترال کے پہاڑوں سے سیلاب پھوٹ پڑے تو مرنے والے چترالی ہیں لیکن انہی پہاڑوں سے نکلنے والے قیمتی پتھر اور معدانیات پر ریاست کی مہر ثبت ہے۔

ملک کو سینکڑوں میگا واٹ کی بجلی دینے والا چترال اس وقت گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ ریاست کے اس سوتیلے بچے نے پہلی دفعہ نعرہ بغاوت بلند کیا ہے۔

تحریک تحفظ حقوق چترال کی تنظیم میدان کارزار میں کود پڑی ہے۔ تنظیم کے رہنما چار دن سے اس خون منجمند کرنے والی سردی کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ پیر مختار اس گروہ کا رہبر ہے۔ اس کا حوصلہ بلند اور یقین کامل ہے۔ چترال بھلے ریاست کا سوتیلا بیٹا ہو لیکن پیر مختار چترال کا سگا وارث ہے۔ وہ اپنی یتیم ماں کا جوانمرد بیٹا ہے۔

کل میں نے دوستوں کو پیغام بھیجا تھا کہ پیر مختار کا ساتھ دو، اسے ہماری ضرورت ہے لیکن آج میرا خیال دوسرا ہے۔ پیر مختار کو ہماری نہیں ہمیں پیر مختار کی ضرورت ہے۔

چترال کے ایک جرنلسٹ نے لکھا ہے کوئی چترلی کئی ناحق مرجائے تو پولیس سے پہلے پیر مختار پہنچ جاتا ہے۔ یہ وہی پیر مختار ہے جس نے ہر اس چترالی کی مدد کی ہے جسے پشاور، اسلام آباد اور لاہور میں کسی مدد کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ہماری سینکڑوں معصوم بچیوں کی زندگیاں بچانے کا وسیلہ یہی پیر مختار بنا ہے۔ یونیورسٹی میں طلباء کو درپیش مسائل پر پیر مختار بولا۔ سڑکوں کی بحالی کیلئے اٹھنے والی آواز بھی پیر مختار ہی کی ہے۔ ہمارے املاک پر ناجائز قبضے کے خلاف بھی پیر مختار ڈٹ کر کھڑا رہا ہے۔

یہ سینکڑوں کردار نہیں ہیں بلکہ یہ ایک ہی کردار ہے جس نے سینکڑوں کام انجام دئیے ہیں۔

آج پیر مختار پر الزام ہے کہ وہ اپنا سیاسی کرئیر بنانے آیا ہے۔ اس قوم کو سالہا سال کی محنت اور منفی پروپیگنڈے سے اس قدر غیر سیاسی بنایا گیا ہے کہ یہ سیاسی کرئیر بنانے کو بھی معیوب سمجھتی ہے۔ ہمیں پیر مختار کے پاؤں پڑ کر اسے سیاست میں لے کر آنا چاہیے۔ پچھلے پچھتر سالوں سے ہم جس لیڈر کی کمی کا رونا رو رہے تھے آج وہ لیڈر ہمارے سامنے ہے تو ہم آنکھیں چرا رہے ہیں۔

آج پیر مختار پر الزام ہے کہ وہ اپنا سیاسی کرئیر بنانے آیا ہے۔ اس قوم کو سالہا سال کی محنت اور منفی پروپیگنڈے سے اس قدر غیر سیاسی بنایا گیا ہے کہ یہ سیاسی کرئیر بنانے کو بھی معیوب سمجھتی ہے۔ ہمیں پیر مختار کے پاؤں پڑ کر اسے سیاست میں لے کر آنا چاہیے۔ پچھلے پچھتر سالوں سے ہم جس لیڈر کی کمی کا رونا رو رہے تھے آج وہ لیڈر ہمارے سامنے ہے تو ہم آنکھیں چرا رہے ہیں۔

ایک حلقہ اس احتجاجی کیمپ پر یہ سوال بھی اٹھا رہا ہے کہ اسے غلط وقت پر نصب کیا گیا ہے جب صوبے پر نگران حکومت قابض ہے۔ ان سے عرض ہے کہ لوڈشیدڈنگ جنوری میں ہورہی ہے تو کیا ہم احتجاج کیلئے اگست کا انتظار کریں؟

تاریخ نے قوموں کو دیا ہے یہی پیغام

حق مانگنا توہین ہے حق چھین لیا جائے

-جون ایلیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں