98

کیا مشرف سچ مچ محسن چترال ہے۔۔؟؟


تحریر: کریم اللہ


سابق فوجی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف طویل علالت کے بعد گزشتہ روز اسی سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی فوت کی خبر سن کر چترال میں صف ماتم بچھ گیا اور ہر طرح تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔ یہی نہیں بلکہ چترال کے لئے ان کے احسانات کا تذکرہ بڑے جوش و خروش سے کیا جانے لگا۔

مشرف 12 اکتوبر 1999ء کو برسر اقتدار آئے اور 18 اگست 2008ء کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ یعنی نو سال تک وہ ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ اسی دور میں نائن ایلون کے بعد پاکستان میں امدادی اشیاء اور ڈالروں کی ریل پیل ہوئی۔

پرویز مشرف جشن شندور کے موقع پر چترال ڈھول کی تھاپ میں ناچ رہے ہیں۔ فوٹو فیس بک

مشرف نے اپنے دور اقتدار کے دوران کئی مرتبہ جشن شندور میں شرکت کی، چترالیوں کے ساتھ ڈھول کی تھاپ پہ ناچتے رہے۔ چترالیوں اور گلگت بلتستان کے لوگوں کو اچھے ناموں سے یاد کیا۔

مگر چترال کے لئے ان کی خدمات کا تذکرہ کیا جائے تو ان نو سالوں کے دور اقتدار کے دوران انہوں نے 2005ء کو لواری ریل ٹنل پر کام کا آغاز کیا۔ اگر وہ اسی ڈیزائن میں بنتا تو آج ناقابل استعمال ہوجاتا۔

پرویز مشرف چترال میں خطاب کر رہےہیں

اس کے علاوہ گلگت شندور مستوچ روڈ کی کشادگی کی۔ یہ دونوں بڑے اچھے منصوبے تھے جن کے لئے ہم گزشتہ کئی سالوں سے مشرف کا شکریہ ادا کرتے نہیں تھکتے۔

 مگر ان نو سالوں میں مشرف صاحب نے چترال کے لئے کوئی اور  منصوبہ شروع کیا ہو تو ہماری راہنمائی فرما سکتے ہیں۔

چترال میں ان نو سالوں میں ایک کلو واٹ کا بجلی گھر نہیں بنایا گیا۔ مشرف کے حصے میں چترال میں کالج یا یونیورسٹی تو دور کی بات ایک پرائمری سکول بھی نہیں۔ ایک بی ایچ یو ہسپتال اس دور میں نہیں بنا۔

کہیں ایک نہر یا پائپ لائن اس دور میں تعمیر ہوا ہو تو جاننے والے رہنمائی کر سکتے ہیں۔ کیا اس دور میں لواری ٹنل اور شندور مستوچ روڈ کے علاوہ  چترال میں کوئی ایک کلومیٹر روڈ تعمیر کروایا ہے یا پھر کسی ایک سڑک کی توسیع کی ہو۔ سماجی ترقی کے لئے کوئی کام کیا ہو۔

صرف یہ کہنا کہ چترالی بڑے اچھے لوگ ہیں تہذیب سیکھنا ہے تو چترال جا کے سیکھ لیں۔ یہ سب ٹرخانے کی باتیں ہیں نہ ان باتوں سے ہماری زندگیوں میں کوئی بہتری آئی ہے اور ہمارے ساتھ ڈھول کی تھاپ میں ناچنے سے ہمیں کسی قسم کا کوئی فائدہ ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں