90

چیری ڈے


تحریر: اسرار الدین اسرار


چیری کو پھلوں کی ملکہ کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں چیری کو ایک نایاب، صحت افزاء اور لذیذ پھل کی حیثیت سے پسند کیا جاتا ہے۔ چیری دنیا بھر میں نایاب ہونے کی وجہ سے ایک مہنگا ترین پھل ہے۔ چیری کو رومانس یا محبت کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔

 چیری کی سرخ رنگت ، چمک، اور ساخت میں خاص کشش پائی جاتی ہے۔ جس دسترخوان پر چیری سے بھری پلیٹ موجود ہو تو اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔

قدرت نے گلگت بلتستان کو اس پھل سے مالامال کر دیا ہے۔ گلگت بلتستان کو جہاں کئی حوالوں سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے ان میں سے چیری بھی ایک حوالہ ہے جس کی بنیاد پر دنیا بھر کے سیاح گلگت بلتستان کا رخ کرتے ہیں۔

چیری بلوسم میں کوریا اور جاپان سے بڑی تعداد میں سیاح گلگت بلتستان کا رخ کرتے ہیں جبکہ اپریل اور مئی کے مہینوں میں جب چیری تیار ہوتی ہے تو سیاحوں کی ان علاقوں میں دلچسپی مزید بڑھ جاتی ہے۔  یہاں سے سالانہ اربوں روپیے کی چیری ملک اور بیرون ملک کی مارکیٹوں میں فروخت کی جاتی ہے۔

 درختوں سے اتارنے کے بعد چیری کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے اس لئے خاص اہتمام کے ساتھ فوری طور پر یہ مارکیٹ تک پہنچائی جاتی ہے۔  چیری کی کئی اقسام ہیں جن میں کالا، گہرا سرخ، ہلکا سرخ، پیلا اور دیگر رنگوں اور مختلف جسامتوں کی چیری شامل ہے۔

چیری کی اس مقبولیت اور اہمیت کے پیش نظر آج سے ١٩ سال قبل گلگت بلتستان کے معروف مزاحیہ شاعر، ڈرامہ نگار، کالم نگار اور آرٹسٹ محترم غلام عباس نسیم صاحب نے اپنے دولت کدہ واقع دنیور گلگت میں چیری ڈے ماننے کا آغاز کیا تھا۔ جو ہرسال باقاعدگی سے وہ مانتے ہیں اور اب یہ ایک باقاعدہ تہوار کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

 غلام عباس نسیم صاحب پیشے کے لحاظ سے سرکاری سکول کے استاد رہے ہیں۔ اب وہ اپنی ملازمت سے سبکدوش ہوگئے ہیں لیکن ان کی  شہرت ایک شاعر اور آرٹسٹ کے طور پر زیادہ ہے۔ وہ ایک زندہ دل اور خوش مزاج انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک متحرک سماجی خدمت گار بھی ہیں۔ان کے ہر کام میں ان کی منفرد تخلیقی صلاحیتیں نمایاں ہوتی ہیں۔

 چیری ڈے کی تقریب ان کے گھر کے پر فزاء صحن میں ہر سال باقاعدگی سے  منعقد ہوتی ہے جس میں وہ علاقے کے شعراء، ادباء، اہل قلم، صحافی اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کو مدعو کرتے ہیں۔

چیری ڈے کی تقریب محض ایک عام تقریب نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ ایک باقاعدہ ادبی، ثقافتی ، علمی اور تفریحی محفل ہوتی ہے۔ مشاعرے کا اہتمام ہوتا ہے جس میں شعراء اپنا کلام پیش کرتے ہیں جبکہ اہل علم اس دن کی مناسبت سے خصوصی  گفتگو  بھی کرتے ہیں۔

 گذشتہ ١٩ سالوں میں  گلگت بلتستان کی سینکڑوں افراد کو اس محفل میں شرکت کا موقع ملا ہے۔ اس محفل میں شریک ہونے والے افراد محفل کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں ۔  اس سال  چیری ڈے کے مشاعرے میں حلقہ ارباب ذوق گلگت کے سینئر شعراء محترم پروفیسر امین ضیاء، عبدالخالق تاج، عنایت اللہ شمالی، عبدالحفیظ شاکر، ظفر وقار تاج ، ہدایت اللہ اختر، نظیم دیا، اشتیاق احمد یاد سمیت دیگر نوجوان شعراء نے اپنا کلام سنایا۔

   نوجوان شاعر رضا تابش نے مشاعرے میں نظامت کے فرائض سر انجام دئیے جبکہ کوہستان سے آئے ہوئے مشہور محقق اور دانشور محترم رزوال کوہستانی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ رزوال کوہستانی صاحب کئی کتابوں کے مصنف ہیں ، ماہرلسانیات ہیں اور کوہستانی شینا پر ان کے تحقیقی مقالے ایک اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ روزال کوہستانی نے گلگت کے شعراء کی شینا شاعری و ادب کے فروغ میں کردار کو خوب سراہا۔

 اس سال کے مشاعرے میں زیادہ تر مذاحمتی شاعری سننے کو ملی۔ جس میں علاقے کے بنیادی مسائل اور حقوق کے حوالے سے درد پایا گیا۔ مشاعرے کے آغاز سے قبل محترم غلام عباس نسیم نےحسب روایت انواع و اقسام کے پھل جن میں توت سیاہ، توت سفید، چیری، لوکاٹ، خوبانی، آلو بخارا وغیرہ شامل تھے۔ مشاعرے کے اختتام پر مقامی روایتی کھانوں سے مہمانوں کی خاطر تواضع کی گئی۔ جن میں لسی، ساگ، دیسی گھی، مٹن پلاو، غولی، شھپک، درم فٹی، آخروٹ کا تیل، سمیت کئی مقامی روایتی پکوان شامل تھے۔ یوں ہر سال کی طرح اس سال بھی غلام عباس نسیم اور ان کے اہل خانہ نے ایک یادگار اور پر رونق تقریب کا انعقاد کر کے اپنے مہمانوں کی شاندار روایتی مہمان نوازی کی۔جس کے لئے محفل میں شریک مہمانوں نے ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

 تقریب میں مہمانوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتی سطح پر ہر سال چیری ڈے  کو کلینڈر ایونٹ قرار دیا جائے اور اس ایونٹ کے بانی محترم غلام عباس نسیم صاحب کے نام سے منسوب کیا جائے۔ چیری ڈے منانے کی روایت قائم کرکے علاقے کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کے علاوہ مقامی ثقافت، زبان اور ادب کو فروغ دینے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنے پر ہم غلام عباس نسیم صاحب کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، وہ اور ان کے اہل خانہ کی تندرستی، خوشحالی اور درازی عمر کے لئے دعا کرتے ہوئے یہ امید رکھتے ہیں کہ ان کی یہ قابل قدر کاوشیں بدستور جاری رہیں گی۔

مصنف کے بارے میں :

اسرار الدین اسرار انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان گلگت بلتستان کے کا نمائندہ ہے۔ اسرار بام جہان کے ریگولر لکھاری ہے ان کی دلچسپی کے موضات سماجی مسائل، گھریلو تشدد اور انسانی حقوق کے مسائل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں