85

چترال میں خاندانی جمہوری نظام اور  شاہی خاندان کی سیاست


شہزادہ محی الدین صاحب نے ووٹ بینک بنانے کے لئے سیاسی قوم بنانے کی کوششیں شروع کی۔ ایوبیہ خاندان کو یکجا کرنے میں کچھ حد تک کامیاب بھی ہو گئے تھے۔

تحریر: وسیم سجاد رومی


ریاست چترال کو پاکستان سے الحاق ہوتے ہوئے قریباً 56 سال گزر گئے ہیں  مگر سیاسی طور پر آج بھی سابقہ کٹور شاہی خاندان چترال کے حکمران ہیں ۔

شہزادہ محی الدین صاحب 30 سال تک چترال کے حکمران رہنے کے بعد وفات پاگئے ۔ سیاست کے آخری سالوں میں  جب شہزادہ صاحب کو احساس ہو گیا کہ کٹور خاندان سیاسی طور پر کمزور ہو رہا ہے تو  شہزادہ محی الدین صاحب نے ووٹ بینک بنانے کے لئے سیاسی قوم بنانے کی کوششیں شروع کی۔ ایوبیہ خاندان کو یکجا کرنے میں کچھ حد تک کامیاب بھی ہو گئے تھے۔

 بظاہر کٹور خاندان بھی ایوبیہ خاندان ہی  کی ایک شاخ ہے تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو جاگیر کی لحاظ سے اپنے برادری کی  لوگوں پر کچھ خاص مہربان نہیں رہی۔ شاہی خاندان  ریاست کے دور میں اپنے حکومت کو مستحکم بنانے کے لئے ایوبیہ خاندان سے زمینیں لے کر چترال کے دوسرے مضبوط  اقوام میں تقسیم کئے  ہیں ۔۔

 آج بھی اگر دیکھیں تو رحمت غازی صاحب کے علاوہ ایوبیہ خاندان سے با اثر سیاسی شخصیت چترال کی سیاست میں نظر نہیں آرہا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایوبیہ خاندان کو صرف شہزادوں کی حق میں ووٹ ڈالنے پر یکجا کیا گیا تھا۔؟

 بظاہر کٹور خاندان بھی ایوبیہ خاندان ہی  کی ایک شاخ ہے تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو جاگیر کی لحاظ سے اپنے برادری کی  لوگوں پر کچھ خاص مہربان نہیں رہی۔ شاہی خاندان  ریاست کے دور میں اپنے حکومت کو مستحکم بنانے کے لئے ایوبیہ خاندان سے زمینیں لے کر چترال کے دوسرے مضبوط  اقوام میں تقسیم کئے  ہیں ۔۔

 دوسری بات یہ ہے کہ کہنے کو شاہی خاندان سے مختلف سیاسی لیڈر مختلف پارٹیوں کی نمائندگی کرتے نظر آرہے ہیں ۔ لوئر چترال میں پاکستان مسلم لیگ ن سے شہزادہ افتخار الدین، پاکستان پیپلز پارٹی سے ان کے چھوٹے بھائی شہزادہ خالد پرویز، پاکستان تحریک انصاف کی نمائندگی شہزادہ امان رحمان اور شہزادہ فیصل جب کہ اپر چترال میں شہزادہ سکندر الملک تحریک انصاف کی نمائندگی کر رہا ہے ۔  دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اگر شہزادہ افتخار NA1 چترال سے میدان میں اترے گا تو  اس کے خلاف کوئی دوسرا شہزادہ الیکشن  نہیں لڑے  گا۔

 محمد شریف خان یا لطیف کو NA1 کی ٹکٹ دی جائے گی ۔ اپر چترال سے شہزادہ سکندر بھی صوبائی اسمبلی کی  نشست پر میدان میں ہوگا ۔ شہزادہ امان رحمان، شہزادہ خالد پرویز اور مہتر چترال فتح الملک میں سے کوئی ایک  باہمی مشورے  سے الیکشن میں حصہ لے گا کیوں کہ  شاہی خاندان کی عزت کا سوال ہے ۔۔

اور اپر چترال میں شہزادہ سکندر الملک کی راہ ہموار ہے مقابل امیدوار کوئی شہزادہ نہیں ہوگا ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں