76

کیا تحریک انصاف کے ساتھ ظلم ہورہا ہے؟


ظلم تو وہ تھا جب پاکستان بننے کے فوراً بعد ترقی پسند اور جمہوری روایات پر یقین رکھنے والوں کو ریاستی اداروں نے نشانہ بنانا شروع کیا۔ باچا خان جیسے عظیم مجاہدِ آزادی کو جو مکمل طور پر عدم تشدد کے علم بردار تھے، قید و بند کی صعوبتیں جھیلنا پڑیں، مگر ان کے سرخ پوش کارکنوں نے نہ سیاسی جماعتیں بدلیں اور نہ ریاستی اداروں سے معافیاں مانگتے پھرے۔

تحریر: ڈاکٹر ناظر محمود


9  مئی کو پیش آنے والے  واقعات کے بعد جب تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنماؤں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو ابتدا میں سب ڈٹے رہے لیکن جیسے ہی پتا چلا کہ اب معاملہ خاصا گمبھیر ہے اور تحریک انصاف کی بد زبانی اور بد کلامی (جو بڑی حد تک عدلیہ اور فوج دونوں نظر انداز کرتی رہیں) اب کھلم کھلا فسادات اور جلاؤ گھیراؤ کے بعد کسی طرح بھی نظر انداز نہیں کی جارہی تو تحریک انصاف کے لوگوں نے ظلم ظلم کے نعرے لگانے شروع کردئیے۔

گو کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی کسی صورت بھی اجازت نہیں دی جاسکتی اور نہ کسی ملزم سے اس کا حقِ دفاع چھینا جاسکتا ہے لیکن پھر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دیکھا جائے کیا واقعی تحریک انصاف کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔

ظلم تو وہ تھا جب پاکستان بننے کے فوراً بعد ترقی پسند اور جمہوری روایات پر یقین رکھنے والوں کو ریاستی اداروں نے نشانہ بنانا شروع کیا۔ باچا خان جیسے عظیم مجاہدِ آزادی کو جو مکمل طور پر عدم تشدد کے علم بردار تھے، قید و بند کی صعوبتیں جھیلنا پڑیں، مگر ان کے سرخ پوش کارکنوں نے نہ سیاسی جماعتیں بدلیں اور نہ ریاستی اداروں سے معافیاں مانگتے پھرے۔

ظلم تو اس وقت ہوا تھا جب 1951ء میں ایک نام نہاد راولپنڈی سازشی کیس بنا کر ملک کے اعلیٰ ترین دانشوروں کو پانچ پانچ سال قید کی سزائیں دی گئیں جب کہ اس سازش کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا، سوائے اس کے کہ ایک ملاقات میں جنرل اکبر نے بغاوت کرنے کا عندیہ دیا تھا جسے تمام شرکا نے رد کر دیا تھا، پھر بھی اردو کے  عظیم شاعر فیض احمد فیض، سجاد ظہیر، حسن عابدی، محمد حسین عطا اور دیگر کئی دانشوروں کو پابند سلاسل کیا گیا۔

اس جھوٹے مقدمے میں قطعی نا جائز سزائیں ملنے کے بعد بھی ان سب نے نہ دہائیاں دیں اور نہ روئے پیٹے جیسے کہ اب تحریک انصاف کے کرتا دھرتا کر رہے ہیں۔

ظلم تو اس وقت ہوا تھا جب ملک کے دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو 1953ء میں افسر شاہی کے ایک نمائندے ملک غلام محمد نے کان سے پکڑ کر اقتدار سے باہر نکال دیا اور پھر اگلے سال 1954ء میں پوری دستور ساز اسمبلی کو گھر بھیج دیا تھا۔

ظلم تو اس وقت ہوا تھا جب ملک کے دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو 1953ء میں افسر شاہی کے ایک نمائندے ملک غلام محمد نے کان سے پکڑ کر اقتدار سے باہر نکال دیا اور پھر اگلے سال 1954ء میں پوری دستور ساز اسمبلی کو گھر بھیج دیا تھا۔

پھر ظلم اس وقت ہوا تھا جب ملک کا پہلا آئین منسوخ کر کے ملک میں مارشل لا لگا دیا گیا تھا اور پورے ملک میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی تھی جب کہ آزاد اخبارات و رسائل جیسے امروز، پاکستان ٹائمز اور لیل و نہار پر قبضہ کر لیا گیا تھا۔

ظلم تو اس وقت ہوا تھا جب ملک کے تمام بڑے سیاست دانوں کو ایوب خان نے جبری طور پر سیاست سے بے دخل کیا تھا اور حسین شہید سہروردی جیسے جید رہنما کو عدالتوں میں گھسیٹا تھا مگر وہ شیر کا بچہ نہ رویا نہ گڑ گڑایا اور نہ بالٹیوں میں منہ دے کر کچہری میں پیش ہوا۔

ظلم اس وقت ہوا تھا جب ایک فوجی آمر نے بانی پاکستان کی بہن اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو دھاندلی کے ذریعے انتخابات میں ہرایا مگر محترمہ ڈٹِ کر کھڑی رہیں اور ان کا ساتھ دینے والی عوامی لیگ اور نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما نہ تو پارٹی چھوڑ کر بھاگے اور نہ ہی انہیں اپنے اہل خانہ کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جیسا کہ اب تحریک ا انصاف کے رہنما بہانے بنا رہے ہیں۔

ظلم تو اس وقت ہوا تھا جب متحدہ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت عوامی لیگ 1970ء کے انتخاب میں واضح طور پر جیت کر آئی تو جنرل یحییٰ خان اور اس کے ساتھی جنرلوں نے عوامی نمائندوں کو اقتدار منتقل کرنے سے انکار کر دیا تھا اور پھر جو فوجی کارروائی شروع کی گئی اور عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے کتنے ہی کارکنوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، لیکن عوامی لیگ کے رہنما اور کارکن گھبرائے ہوئے پریس کانفرس کرتے اور پارٹی سے لا تعلقی کا اعلان کرتے نہیں پائے گئے ۔

ظلم اُس وقت ہوا تھا جب ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی اپوزیشن کو سختی سے کچلا اور نیشنل عوامی پارٹی کی نہ صرف حکومت برخاست کی بلکہ پارٹی پر پابندی بھی لگا دی، جس کی توثیق جسٹس حمود الرحمان جیسے جج نے کر کے اپنے منہ پر کالک مل لی تھی۔

نیشنل عوامی پارٹی کی تمام مرکزی قیادت پابند سلاسل ہوئی مگر چوںکہ وہ ایک جمہوری سیاسی جماعت تھی اس لیے رہنماؤں نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا بلکہ اپنی سیاسی وابستگی برقرار رکھی۔

بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو طویل قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرتی رہیں، صحافی کوڑے کھاتے رہے، سیاسی کارکن خود سوزی کرتے رہے لیکن کبھی ایسا واویلا کر کے خود کو تماشا نہیں بنایا جیسا کہ  تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن کر رہے ہیں۔

ظلم تو اس وقت ہوا تھا جب رات کے اندھیرے میں آرمی چیف جنرل ضیا الحق نے حکم دیا کہ وزیراعظم ہاؤس پر قبضہ کرکے سارے سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کرلو، پھر ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر پھانسی لگا دی گئی اور ان کے بیوی بچوں کو جنازے تک میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔

بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو طویل قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرتی رہیں، صحافی کوڑے کھاتے رہے، سیاسی کارکن خود سوزی کرتے رہے لیکن کبھی ایسا واویلا کر کے خود کو تماشا نہیں بنایا جیسا کہ  تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن کر رہے ہیں۔

ظلم تو اس وقت ہوا تھا جب تحریک بحالی جمہوریت کے دوران م 1980ء کے عشرے کے اوائل میں جنرل ضیا الحق کی فوجی آمریت نے  ریاستی مشینری کو جمہوریت پامال کرنے اور خاص طور پر پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کا ٹاسک دیا تھا، مگر پارٹی کھڑی رہی اور بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی کسی نے تحریک انصاف کے کارکنوں کی طرح گڑ گڑاتے نہیں دیکھا ۔

ظلم تو اس وقت ہوا تھا جب ملک کے ایک اور منتخب وزیر اعظم نواز شریف کو ایک اور جنرل پرویز مشرف نے غیر آئینی طریقے سے بر طرف کر کے ایوان صدر اور اسمبلی پر قبضہ کیا اور بیگم کلثوم نواز ایک آمر کے سامنے ڈٹ گئیں۔

مگر یہ سب مثالیں اُن سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی ہیں جنہوں نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں اور جنہیں اپنا جمہوری جدوجہد پر یقین رہا ہے۔

تحریک انصاف نہ جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور نہ اس کا کوئی نصب العین ہے، سوائے اس کے کہ بہر صورت ایک نا اہل اور نکمے سابقہ کھلاڑی کو اقتدار دے کر ملک کا یہ تیاپانچہ کیا جائے ۔

جن مظالم کی اوپر نشان دہی کی گئی ہے اُن کا عشر عشیر بھی ابھی تحریک انصاف کے خلاف نہیں ہوا ہے۔ ظلم کسی پر بھی نہیں ہونا چاہیے لیکن خود کل کے ظالم آج مظلوم بننے کی کوشش کریں تو ان کی حمایت خاصی مشکل ہو جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں