207

چترال میں گندم کی قیمت میں بے تحاشا اضافہ


  ریاست کو یہ بتایا جائے کہ ہماری پڑوس گلگت، دیر سوات کے گلی کوچوں میں پکی  سڑکیں بنے ہیں لیکن یہاں ہماری دونوں اضلاع کے ہیڈکوارٹرز میں بھی ابھی تک سڑک موجود نہیں ہے۔

تحریر: ایم اشفاق


چترال میں گندم کی قیمت میں اضافے کے خلاف گزشتہ کئی دنوں سے جلسے جلوس ہو رہے ہیں۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ہماری سبسیڈی بحال کیا جائے۔

پہلی بات تو حکومت کوئی خاص قسم کی سبسیڈی نہیں دیتی تھی صرف چترال کو گندم اسی نرخ پر مہیا کرتی ہے جس نرخ پر سوائے گلگت کے دوسرے علاقوں کو  ملتی ہیں یعنی حکومت بس کرایہ ادا کرتی رہی اور اب بھی کرتی ہے۔ اب حکومت خیبرپختونخوا گندم کی قیمت میں سو فیصد اضافہ کیا تو اس لئے ہمیں بھی مہنگا مل رہا ہے اس میں ملز ملکان کہاں سے کود پڑے۔ چترال کی چند مل مالکان کے خاطر پوری صوبے کی قیمتوں کا تعین نہیں کیا جاسکتا ہے

اب ہم جو ملز ولز مالکان کے خلاف نعرہ بازی کے بجائے سوچ سمجھ کر کوئی موزوں سمت تعین کرے۔  بروغل سے لے کر ارندو تک چترال کے تمام لوگوں کو جن میں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، سیاسی و سماجی رہنما، مذہبی رہنما وغیرہ شامل ہو  ایک پیج پر لائیں اور قیادت کسی خاص جماعت کو دینے کے بجائے علاقائی سطح پر کمیٹی تشکیل دے کر کسی  نیوٹرل شخصیت جن کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے  نہ ہو اور وہ آنے والے عام انتخابات 2023 میں بھی حصہ نہ لیں کو سربراہ بنایا جائے  تاکہ اس تحریک کو پولیٹیکل اسکورنگ سے بچایا جاسکے۔

اب ہمارا مطالبہ کیا ہونا چاہیے؟

بھائی ہم پاکستان آزاد ہونے کے بعد بھی بیس بائیس سالوں تک ایک الگ خودمختار ریاست کے رعایا تھے ( وہ الگ بات بحث کہ ریاست کیسی تھی حکمران کون تھے )  آج اکیسویں صدی میں وہی حالات موجود ہیں جو  الحاق پاکستان  سے قبل تھیں۔

اس لئے ہمیں کسی کٹھ پتلی حکومتوں سے مطالبہ کرنے کے بجائے سیدھا ریاست سے سوال کرنا چاہیے کہ جس طرح چالیس منٹ کی فاصلے پر ہماری پڑوس میں دو ہزار روپے کی سو کلو گندم مل رہا ہے وہی گندم بارہ ہزار روپے میں ہمیں کیوں دیا جا رہا ہے؟

  ریاست کو یہ بھی بتایا جائے کہ ہماری پڑوس گلگت، دیر سوات کے گلی کوچوں میں پکی  سڑکیں بنے ہیں لیکن یہاں ہماری دونوں اضلاع کے ہیڈکوارٹرز میں بھی ابھی تک سڑک موجود نہیں ہے۔

ریاست سے یہ بھی کہا جائے کہ آپ  بزور بندوق ہماری  پہاڑوں پر قبضہ کر رہی ہو ہے تو اس کے بدلے کم از گلگت بلتستان کی ریٹ ہمیں بھی گندم دیجئے۔

اس کے باوجود بھی ریاست نہیں مانتی  تو ہمیں کوئی ٹھوس قدم اٹھانا ہوگا۔ ہمیں معلوم ہونی  چاہیے کہ ہماری جغرافیائی اہمیت کیا ہے

We have multiple options

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں