168

سمندری طوفان، سندھ اور گرونانک


ہمیں تو موسمیات کی معلومات کم ہی ہوتی ہے مگر اس سوال پر گہری نظر رکھنے والے ضلع ٹنڈو الہیار کے ساتھی ستار جروار کے مطابق "طوفان سندھ سے 350 کلومیٹر پر موجود ہے اور یہ طوفان 1999 کے بعد تیسری کیٹیگری کا ایک بڑا طوفان ہے جسے کسی طرح بھی ہلکا نہیں لینا چاہیے۔

تحریر: بخشل تھلہو


ساری دنیا موسمی تبدیلیوں کے گھیرے میں ہے، بھارت اور پاکستان تو ان کے منہ میں ہیں۔ جہاں پر کل صبح بھی زلزلے کے ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ لاطینی امریکہ (ارجنٹائن، پیراگوئی، بولیویا اور برازیل) میں ٹھنڈی ہوائیں جبکہ یورپ کے اسکینڈینیوین ممالک سمیت اسپین اور پرتگال میں  ٹیمپریچر میں اضافہ نظر آ رہا ہے۔

 (1). چند دن قبل تیز بارشوں اور ہواؤں کے باعث پختونخوا میں قریباً تیس لوگ جاں بحق ہوگئے اور کافی نقصان ہوا۔ اب ایک سمندری طوفان (بائپر جوائے:بنگالی نام) سندھ، بھج، اور گجرات سے دو دن میں (کل 15 تاریخ کی صبح کو) ٹکرانے والا ہے۔ کیچ بھج اور گجرات کی طرف ہوائیں چلنا شروع ہوگئی ہیں اور 200 ملی میٹر کی بارش بھی کچھ علاقوں میں ہو چکی ہے۔ سجاول، اور ماڑہ میں بھی تیز ہوائیں چلنا شروع ہوگئی ہیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں این ڈی ایم اے کے زمہ دار شخص اور سابق چیف میٹرولوجسٹ نے کہا کہ طوفان کا رخ شمال مغرب کی طرف ہے۔ 120 سے 150 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار سے ہوائیں چلنا، 300 ملی میٹر کی بارشیں اور 12 سے 15 فیٹ کی لہروں کا سندھ کی ساحلی پٹی (کراچی، ٹھٹہ، سجاول، بدین اور تھرپارکر) سے ٹکرانے کا غالب امکان ہے۔ یہ مضمون لکھنے وقت تک این ڈی ایم اے کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق طوفان کراچی اور ٹھٹہ سے 450 کلومیٹر دور عربی سمندر میں موجود ہے۔ سائیٹ کے مطابق مذکورہ اضلاع کے علاؤہ میرپور خاص، عمرکوٹ، ٹنڈو الہیار، حیدر آباد، ٹنڈو محمد خان اور اور ماڑہ بھی متاثر ہوں گے۔

ہمیں تو موسمیات کی معلومات کم ہی ہوتی ہے مگر اس سوال پر گہری نظر رکھنے والے ضلع ٹنڈو الہیار کے ساتھی ستار جروار کے مطابق "طوفان سندھ سے 350 کلومیٹر پر موجود ہے اور یہ طوفان 1999 کے بعد تیسری کیٹیگری کا ایک بڑا طوفان ہے جسے کسی طرح بھی ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ ہماری طرف کی نمی اور گرم ہوا طوفان کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ رات دیر سے پچاس یا ساٹھ بحری جہازوں نے کراچی بندرگاہوں پر آ چکے ہیں۔” لیکن بدین کے ساتھیوں کے مطابق زیرو پوائنٹ (جہاں پر منچھر جھیل سے نقل مکانی کرکے ماہی گیر رہتے ہیں ) اور کچھ دیگر علاقوں کے ماہی گیر اپنی کشتیوں پر سمندر میں تھے وہ ابھی تک واپس نہیں آئے اور ان کے اہل خانہ ان کی واپسی کیلیے پریشان ہیں۔

گزشتہ تباہیوں (سیلاب اور بارشوں) کے برعکس اچھی بات یہ ہے کہ وفاقی اور سندھ حکومتیں کچھ متحرک نظر آ رہی ہیں۔ نیوی، کوسٹ گارڈ اور فوج، پولیس کی مدد سے کھارو چھان، سجاول اور دیگر علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کا محدود ہی سھی لیکن عمل جاری ہے۔ بڑے شہروں سے سائین بورڈز اور نالوں کی رکاوٹیں ہٹائیں جا رہی ہیں، مگر اندیشہ یہ ہے کہ اگر یہ عمل ایسے ہی محدود رہا اور لوگ پھنسے رہے تو انہیں نکالنے کا سلسلہ کیسے جاری رہے گا؟ کیونکہ طوفان کے سندھ سرحد سے ٹکرانے کے بعد تقریباً دو دن تک تو صورت حال خراب رہے گی، اس دوران ریسکیو آپریشن زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

ایسی حالات میں عام طور سرکار، گدھے کے سینگوں کی طرح غائب ہو جاتی ہے، جیسے ہم نے حالیہ سیلاب میں بھی دیکھا کہ لوگ بس اپنے جیسے دوسرے انسان یا خدا کی امید کے سہارے ڈوبتے اور بچتے رہے۔  

چونکہ سندھ کے غریب عوام کی حالت غالب کے اس شعر کی طرح پہلے سے ہی ہے کہ

"گھر میں تھا کیا کہ تیرا غم اسے غارت کرتا

وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے۔”

لیکن پھر بھی محنت کار عوام کی جو بھی جمع پونجی اور اپنی زندگی ہے وہ تو خطرے تلے ہے۔ تاہم علاج سے احتیاط بہتر ہے۔ طوفان کو افواہ یا مذاق سمجھنا بھلے ہی آج سستہ ہو لیکن  کل طوفان کا مذاق مہنگا پڑے گا۔ بھلا ہی ہوگا کہ آخری وقت تک یہ طوفان سندھ اور ہند کی آبادی سے دور ہو جائے، مگر حقیقت یہ ہے کہ طوفان کی شدت میں ہو سکے کوئی کمی آ بھی جائے لیکن اس کے ٹل جانے کے امکانات سرکاری امداد کی طرح انتہائی محدود ہیں۔

یہ بھی اتفاق نہیں ہے کہ سندھ کے واحد دانشور شاہ لطیف بھٹائی نے درد کو اتنا گایا ہے۔ وہ خود دیس تھے، اسے اپنے حالات معلوم تھے۔ مگر یہ درد آدمی کو مفعول نہیں کرتا، اس کے برعکس فاعل بناتا ہے۔ اس لیے کسی عالمی مدد، وفاقی یا صوبائی سرکار اور عبداللہ شاہ غازی کے سہارے کے آسرے  پر مت بیٹھیں۔ سمندر کے غصے کے لیے تھوڑی جگہ خالی کریں۔ تؤکل بھی کمال خوبی ہے لیکن تب جب اپنی کوشش مکمل ہو چکی ہوں۔

 اس وقت ہندستان اور پاکستان کی ریاستیں جو کہ ایٹمی طاقتیں ہو کر بھی آپس میں "جنگ جنگ” کرتی رہتی ہیں، ان کے لیے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کیسے ماحولیاتی سوال نہ صرف ان دونوں ممالک کو، بلکہ ساری دنیا کو ایک بن کر کچھ اور سوچنے سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ پیداوار اور بیگانگی جب تک رہے گی، انسانی دنیا کا نہ تو خود سے نہ تو باقی فطرت سے کوئی مثبت رشتہ جڑے گا۔

سندھ کا کیا ہے؟ بقول وتایو فقیر "ایسے حالات میں تو ہماری بے سرو سامانی بھی ہمیں کام کی لگتی ہے۔” سندھ کا جسم  ریاست اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی اور کچھ ماحولیاتی مہربانیوں کے سبب سے پہلے ہی سے چھلنی ہے. اسی طرح سندھ ڈوبے گی، بچے گی اور پھر بھی اپنی (عوامی ) ہمت و حوصلے پر بچتی رہے گی۔ ایسا لگتا ہے کہ سندھ کو بابا گرو نانک کی دعا لگ گئی ہے کہ ” ہمیشہ برباد رہو”۔

کہتے ہیں کہ ایک دفعہ گرونانک کا رہنا کسی ایسے گاؤں گوٹھ میں ہوا جہاں لوگ بڑے تنگ نظر ہر وقت ایک دوسرے سے دشمنی، حسد، سازش، نفرت اور لڑائیوں میں ہوتے تھے۔ انہوں نے گرو کو بھی تکلیف میں رکھا، گرو جب وہاں سے نکلا تو ایک دعا کی ” ہمیشہ آباد رہو”۔ بعد ازاں ایسے ہی گرو نانک چند دن کسی اور گوٹھ میں رہائش اختیار کی، جہاں کے لوگ بہت مہمان نواز، اچھے، دانا، بہادر، عاشق، فنکار اور آپس میں مل جل کر محبت سے رہنے والے تھے۔ انہوں نے گرو کو بڑے آرام سے رکھا۔ جب گرو وہاں نکلے تو انہیں دعا کی کہ "ہمیشہ برباد رہو” یہ حال دیکھ کر  ساتھ ایک فقیر نے سبب معلوم کیا تو گرو نے کہا کہ پہلے گوٹھ والے بڑے ظالم اور اذیت پسند تھے تو انہیں آباد رہنے کا اس لیے کہا کہ تاکہ وہ ایسے ہی ایک دوسرے کے گلے میں پڑے رہیں۔ جبکہ دوسرے گوٹھ والے اتنے اچھے اور باوصف تھے کہ انہیں برباد ہونے کی دعا کی، کیونکہ اتنے کمال لوگ کسی ایک جگہ کیا کریں گے؟ مختلف جگہوں پر جائیں اور دنیا کو اپنی اچھائیوں کا فیض دیں۔

یہ بھی اتفاق نہیں ہے کہ سندھ کے واحد دانشور شاہ لطیف بھٹائی نے درد کو اتنا گایا ہے۔ وہ خود دیس تھے، اسے اپنے حالات معلوم تھے۔ مگر یہ درد آدمی کو مفعول نہیں کرتا، اس کے برعکس فاعل بناتا ہے۔ اس لیے کسی عالمی مدد، وفاقی یا صوبائی سرکار اور عبداللہ شاہ غازی کے سہارے کے آسرے  پر مت بیٹھیں۔ سمندر کے غصے کے لیے تھوڑی جگہ خالی کریں۔ تؤکل بھی کمال خوبی ہے لیکن تب جب اپنی کوشش مکمل ہو چکی ہوں۔

حوالہ

1.     Weather tracker: India and Pakistan keep close eye on tropical cyclone.Brendan Jones for MetDesk

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں