حیدر جاوید سید 137

سانحہ باجوڑ، پس منظر اور خدشات


خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے صدر مقام خار میں جے یو آئی کے ورکرز کنونشن پر حملہ کو اگست میں شروع ہونے والی پاکستانی انتخابی مہم کے خلاف عسکریت پسندوں کا بیانیہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سابق وزیراعظم کی ٹی ٹی پی نواز پالیسیوں سے جوڑ کر بھی پیش کر رہے ہیں۔ بظاہر یہ ایک رائے ہے البتہ اسے کسی فرد واحد کی سوچ اور دلچسپی سے جوڑ کر دیکھنے کی بجائے کالعدم ٹی ٹی پی سے اعتماد سازی کی پالیسی کا مجموعی طور پر جائزہ لینے کی ضٗرورت ہے۔

تحریر: حیدر جاوید سید


باجوڑ ضلع کے صدر مقام خار میں جمعیت علمائے اسلام کے ورکرز کنونشن پر ہونے والے خودکش حملے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 47 افراد شہید اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔ باجوڑ خودکش حملے کے بعد خیبر پختونخوا میں ہائی سکیورٹی الرٹ کے احکامات جاری کر دیئے گئے۔ فوری طور پر کسی عسکری گروپ نے خودکش حملے کی ذمہ داری (ان سطور کے لکھے جانے تک) قبول نہیں کی لیکن اگر پچھلے ایک ہفتے کے دوران افغان امور کے متعدد تجزیہ نگاروں کی آرا  اور اقوام متحدہ کی کالعدم ٹی ٹی پی کے حوالے سے جاری رپورٹ کو بغور دیکھا جائے تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے درمیان مستقبل میں مشترکہ جدوجہد کے لئے جاری مذاکرات کو گزشتہ روز کے خودکش حملے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔

 ایک رائے یہ بھی ہے کہ پچھلے دو اڑھائی برسوں کے دوران پاک افغان سرحد پر درجنوں مقامات پر خاردار تاریں کاٹنے کے عمل کو افغان عبوری حکومت کی جس طرح سرپرستی حاصل رہی اس سے ایک طرف تو دہشت گرد گروپوں کو آزادانہ آمدورفت کا ماحول میسر آیا اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے افغانستان سے ملحقہ دونوں سرحدی صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی لہر کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔

دوسرا پہلو  اس سارے معاملے کا یہ ہے کہ سرحد پر لگی خاردار باڑ کاٹے جانے کے  عمل میں پاک افغان سرحد کے افغان ملحقہ علاقوں کے حکام کی شرکت اورٹی  ٹی پی کی ہمنوائی کے بعد کمزور قسم کا احتجاج تو ہوا مگر بارڈر مینجمنٹ کو مزید بہتر بنانے کی  ضرورت پر توجہ نہیں دی گئی۔

دوسری رائے کے حاملین پچھلے ڈیڑھ برس میں کرم ایجنسی سے ملحقہ افغان علاقوں سے دہشت گردوں کے جھتوں کی صورت میں پاکستانی آبادیوں پر لشکر کشی کو بھی بطور مثال پیش کرتے ہوئے سوال اٹھاتے ہیں کہ ان جتھوں کے خلاف سرحدی مقامات پر سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کیوں نہ کی؟

ان سطور میں کابل سے امریکہ نیٹو انخلا اور طالبان کے قبضے کے بعد تواتر کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ افغان عبوری حکومت پڑوسیوں اور دنیا سے تو یہ کہہ رہی ہے کہ ہر حال میں دوحا معاہدہ پر عمل کریں گے۔

 افغان سرزمین پڑوسیوں کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے لیکن حقیقت ان وعدوں اور دعوؤں کے برعکس ہے۔ افغان عبوری حکومت نے اپنی سرزمین پر موجود پڑوسی ملکوں کے دہشت گرد گروپوں، خصوصاً ٹی ٹی پی، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، جند اللہ، لشکر جھنگوی العالمی اور داعش کے علاوہ القاعدہ کے بچے کھچے افراد کے خلاف نہ صرف کارروائی سے گریز کیا بلکہ ان گروپوں کو امریکہ اور نیٹو کے چھوڑے ہوئے دفاعی ساز و سامان کی خریداری تک رسائی دی۔

 اس رسائی کا سب سے بڑا ثبوت پچھلے دو اڑھائی برسوں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں امریکہ نیٹو اسلحہ اور گولہ بارود کے ساتھ دیگر جدید آلات کا استعمال ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت کی درخواست پر سزا یافتہ اور سنگین مقدمات میں گرفتار جنگجوؤں کی رہائی کا عمل صدارتی فرمان کے بعد عمل میں لایا گیا۔ صدر عارف علوی عمران خان کی رضامندی کے بغیر صدارتی فرمان جاری کر سکنے کا حوصلہ نہیں کر سکتے تھے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے صدر مقام خار میں جے یو آئی کے ورکرز کنونشن پر حملہ کو اگست میں شروع ہونے والی پاکستانی انتخابی مہم کے خلاف عسکریت پسندوں کا بیانیہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سابق وزیراعظم کی ٹی ٹی پی نواز پالیسیوں سے جوڑ کر بھی پیش کر رہے ہیں۔ بظاہر یہ ایک رائے ہے البتہ اسے کسی فرد واحد کی سوچ اور دلچسپی سے جوڑ کر دیکھنے کی بجائے کالعدم ٹی ٹی پی سے اعتماد سازی کی پالیسی کا مجموعی طور پر جائزہ لینے کی ضٗرورت ہے۔

 یہ ضرورت اس لئے بھی ہے کہ اپنے دور اقتدار اور بعدازاں بھی سابق وزیراعظم عمران خان دوٹوک انداز میں یہ کہتے دیکھائی دیئے کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے اعتماد سازی کے لئے ہوئے اقدامات، کابل مذاکرات، گرفتار شدگان اور سزا یافتہ جنگجوؤں کی رہائی اور 10ہزار سے زائد خاندانوں کو افغانستان سے واپس لاکر خیبر پختونخوا میں آباد کرنے کے پروگرام کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل فیض حمید کی مکمل تائید حاصل تھی۔

 یہی نہیں بلکہ ایک موقع پر عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ٹی ٹی پی سے اعتماد سازی کا پروگرام جنرل باجوہ اور جنرل  فیض میرے پاس لے کر آئے جب میری حکومت نے اس پر کام شروع کیا تو دونوں نے حکومت کو تنہا چھوڑ دیا۔

ہماری دانست میں عمران خان کی دونوں باتیں نظرانداز نہیں کی جا سکتیں اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے کبھی بھی عمران خان کے اس موقف کی تردید نہیں کی۔ دوسری وجہ کابل پر طالبان کے قبضے کے فوراً بعد جنرل فیض کا دورہ کابل ہے جسے ایک تصویر کے حوالے سے خاصی شہرت ملی نیز کابل مذاکرات میں ان کی ذاتی دلچسپی اور بعض مذاکرات کاروں کو پشاور میں دی گئی بریفنگ ہے۔

ان دو باتوں سے عمران خان کے موقف کی تائید ہوتی ہے لیکن عمران خان اس امر سے انکار نہیں کرسکتے کہ کابل مذاکرات کے لئے پاکستانی وفد ان کی منظوری سے تشکیل پایا تھا اور یہ کہ کابل مذاکرات میں اعتماد سازی کے عمل کو مستحکم کرنے کے لئے ٹی ٹی پی نے جو 7 شرائط پیش کی تھیں ان میں سے پہلی دو شرائط پر عمل بھی ان کی منظوری سے ہوا۔

 یہ دو شرائط گرفتار اور سزا یافتہ جنگجوؤں کی رہائی، مرنے والوں کے ورثا کے لئے معاوضہ دینے کے ساتھ کچھ مخصوص علاقوں میں جنگجوؤں کی واپسی کے مانع نہ ہونا بھی شامل تھا۔

خیبر پختونخوا حکومت کی درخواست پر سزا یافتہ اور سنگین مقدمات میں گرفتار جنگجوؤں کی رہائی کا عمل صدارتی فرمان کے بعد عمل میں لایا گیا۔ صدر عارف علوی عمران خان کی رضامندی کے بغیر صدارتی فرمان جاری کر سکنے کا حوصلہ نہیں کر سکتے تھے۔

مرنے والوں کے خون بہا کے طور پر  7 ارب روپے طلب کئے گئے انہی دنوں یہ خبر عام ہوئی کہ حکومت نے ایک سے ڈیڑھ ارب روپیہ پہلی قسط کے طور پر ادا کیا ہے۔ چونکہ اس کی کسی سطح پر تردید نہیں ہوئی اس لئے یہ سمجھا گیا کہ رقم کی ادائیگی ہوگئی ہے۔

جنگجوؤں کی واپسی اور بھتہ  خوری کی نئی مہم کے خلاف پختونخوا کے طول و عرض اور خصوصاً سوات و ملحقہ علاقوں میں شدید عوامی ردعمل بھی سامنے آیا۔ انہی دنوں اس وقت کی صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جنگجو کسی کی رضامندی سے نہیں آئے بس ایک کمانڈر چند ساتھیوں کے ہمراہ اپنی ہمشیرہ کی عیادت کے لئے آیا تھا۔

سوات سمیت چند مخصوص علاقوں میں جنگجوؤں کی واپسی اس ’’شان‘‘ سے ہوئی کہ انہوں نے آتے ہی مخالفین کی ٹارگٹ کلنگ شروع کر دی اور اس کے ساتھ ہی پرچیوں کے ذریعے بھتہ طلب کیا جانے لگا تبھی افغان امور اور جنگجوؤں کے حوالے سے رپورٹنگ اور تجزیہ کرنے والے مجھ سمیت دیگر صحافیوں نے اطلاعات کی بنیاد پر اس امر کی تصدیق کی کہ خیبر پختونخوا کے اس وقت کے وزیراعلیٰ محمود خان کے خاندان سمیت آدھی سے زائد کابینہ اور  درجنوں  دوسرے لوگ ٹی ٹی پی کو بھتہ ادا کرکے امان حاصل کرچکے تھے۔

جنگجوؤں کی واپسی اور بھتہ  خوری کی نئی مہم کے خلاف پختونخوا کے طول و عرض اور خصوصاً سوات و ملحقہ علاقوں میں شدید عوامی ردعمل بھی سامنے آیا۔ انہی دنوں اس وقت کی صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جنگجو کسی کی رضامندی سے نہیں آئے بس ایک کمانڈر چند ساتھیوں کے ہمراہ اپنی ہمشیرہ کی عیادت کے لئے آیا تھا۔

بیرسٹر سیف کے اس دعوے کے جھوٹ کا پردہ چاک ہونے میں ایک دن سے بھی کم وقت لگا۔ سوات سے ملحقہ علاقے میں موجود ایک جنگجو کمانڈر نے چند شخصیات کے نام لے کر کہا کہ ہم ان کی یقین دہانی پر واپس آئے ہیں۔

گزشتہ دو اڑھائی برسوں کے دوران خیبر پختونخوا میں کالعدم ٹی ٹی پی کی کارروائیوں میں سینکڑوں عام شہریوں کے علاوہ اڑھائی سو سے زیادہ پولیس اہلکار و افسر شہید ہوئے ہیں اسی عرصہ میں سکیورٹی فورسز کے درجنوں افسر اور جوان بھی شہید ہوئے۔ دہشت گردی کے متعدد واقعات میں امریکہ اور نیٹو ساخت کا اسلحہ و جدید آلات استعمال ہوئے۔

 عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ خار ضلع باجوڑ میں گزشتہ روز ہوئی دہشت گردی کی واردات کو کابل پر افغان طالبان کے قبضے کے بعد پاکستان میں شروع ہوئی دہشت گردی سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ اسی طح سیاسی الزام تراشی کی بجائے سیاسی قوتوں کو متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف رائے عامہ کو منظم کرنا ہوگا نیز یہ کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے درمیان مذاکرات اور اتحاد کی خبروں کو بھی سنجیدگی سے لیا جانا ضروری ہے۔

مصنف کے بارے میں:

حیدر جاوید سید پاکستان کے سینئر ترین صحافی، کالم نویس اور تجزیہ نگار ہے۔ وہ گزشتہ پانچ دھائیوں سے صحافت و اخبار نویسی کے شعبے سے منسلک ہے۔ اور پاکستان کے موقر اخبارات و جرائد کے لئے کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے چوتنیس کے قریب کتابین لکھی ہے جن میں  سچ اور یہ عشق نہیں آساں تصوف کے موضوع پر ہیں باقی کچھ سیاسی ادبی کتب ہیں اور ایک سفر نامہ ہے جبکہ خلیل جبران کے کلیات کو مرتب  کر چکے ہیں۔ آج کل وہ اپنی سوانح عمری لکھنے میں مصروف ہے جبکہ روزنامہ مشرق پشاور اور بدلتا زمانہ کے لئے کالم اور ایڈیٹوریل لکھتے ہیں۔ آپ پاکستان کا واحد صحافی ہے جسے جنرل ضیا کے دور میں بغاوت کے مقدمے میں سپیشل ملٹری کورٹ نے تین سال قید کی سزا دی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں