قومی اعزازات سے الیکشن میں تاخیر تک


قومی اعزازات کی فہرست میں مرحوم عنایت حسین بھٹی کا نام بھی ہے۔ ایک زمانے میں بھٹی صاحب اپنے بھائیوں اور بیٹوں سمیت پنجابی فلموں کی سکرین پر چھائے رہے۔ فنی زندگی کا آغاز میلوں ٹھیلوں کے سٹیجوں  سے کیا فلمی دنیا تک پہنچے۔ خطیب بھی بلا کے تھے ہم نے اپنی جوانی کے دنوں میں چند عوامی جلسوں اور مذہبی اجتماعات میں ان کی تقاریر سنیں۔ انہیں بہت پہلے قومی اعزاز مل جانا چاہیے تھا۔ چلیں خیر ہے کسی قدردان کو ان کا نام یاد آگیا وہ صدارتی تمغہ حسن کارکردگی کی فہرست میں آگئے۔

تحریر: حیدر جاوید سید


بٹوارے کی دیہاڑ (14اگست) سول اعزازات حاصل کرنے والے پاکستانی و غیر ملکی خواتین و حضرات کے ناموں کو لے کر ایک بحث جاری ہے۔ سینکڑوں خواتین و حضرات جی کے پھپھولے پھوڑ رہے ہیں۔ کچھ لوگوں (ان کا  تعلق زندگی کے مختلف شعبوں سے ہے ) کی خدمات پوچھی جا رہی ہیں۔ کچھ کی  کارکردگی، کم و بیش یہ طوفانی مبارکیں اور تنقید ہر سال ہی دیکھنے سننے کو آتے ہیں۔

 پھر بھی امسال ہر سال کی طرح  اعزازات کے لئے جاری  فہرست میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہیں جو واقعتاً قومی اعزاز کے حق دار ہیں جیسا کہ افتخار عارف، سید عقیل عباس جعفری، محترمہ مسرت کلانچوی، انور سن  رائے، چند شخصیات اور بھی ہیں جو حقیقی معنوں میں حق رکھتی ہیں کہ ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے۔ کچھ بھرتی کے مستحقین بھی ہیں۔

یہ بھی ہر سال ہوتا ہے پسند و ناپسند چلتی ہے۔ یہاں مہوش حیات اگر قومی اعزاز کی ’’حقدار‘‘ بن سکتی ہے  تو کسی دوسرے پر اعتراض کیوں؟

 فقیر راحموں کا کہنا ہے کہ جن  چند حق داروں کا نام اعزازات حاصل کرنے والوں کی فہرست میں ہے انہیں نظر وٹو سمجھ لو۔ کیا مطلب؟

 کہنے لگا شاہ جی بھرتی شدہ مستحقین کو آفات و تنقید سے بچانے کے لئے چند مناسب شخصیات کا نام دیا ہی اس لئے جاتا ہے کہ باتیں کرنے والوں کو ’’منہ توڑ‘‘ جواب دیا جاسکے۔

 قومی اعزازات کی فہرست میں مرحوم عنایت حسین بھٹی کا نام بھی ہے۔ ایک زمانے میں بھٹی صاحب اپنے بھائیوں اور بیٹوں سمیت پنجابی فلموں کی سکرین پر چھائے رہے۔ فنی زندگی کا آغاز میلوں ٹھیلوں کے سٹیجوں  سے کیا فلمی دنیا تک پہنچے۔ خطیب بھی بلا کے تھے ہم نے اپنی جوانی کے دنوں میں چند عوامی جلسوں اور مذہبی اجتماعات میں ان کی تقاریر سنیں۔ انہیں بہت پہلے قومی اعزاز مل جانا چاہیے تھا۔ چلیں خیر ہے کسی قدردان کو ان کا نام یاد آگیا وہ صدارتی تمغہ حسن کارکردگی کی فہرست میں آگئے۔

اخوت والے امجد ثاقب بعض تحفظات کے باوجود بھلے آدمی ہیں۔ مفتی منیب الرحمن  صوفی سنی بریلوی مکتب کے مفتی اعظم پاکستان ہیں۔ شازیہ منظور گلوکارہ ہیں ایک زمانہ میں ان کی شہرت کا طوطی بولتا تھا پھر شادی کرکے گلوکاری سے رخصت ہوگئیں۔ پچھلے کچھ عرصہ میں چند ٹی وی پروگراموں میں مہمان کے طور پر  دیکھائی دے رہی ہیں ۔

 چند اعزازات عطا کرنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔ ان خواتین و حضرات کی علمی، فنی اور دیگر خدمات بارے شاعر کرہ ارض تگڑم دستوری جو کہتے ہیں وہ یہاں لکھنا بلکہ پوچھے جانے پر بتانا بھی ممکن نہیں۔

افتخار عارف شاعر و  ادیب ہیں ان کے ناقدین اور حاسدین کل سے اچھل کود رہے ہیں۔ ویسے وہ پہلے متعدد قومی اعزازات حاصل کر چکے ہیں۔

عقیل عباس جعفری شاعر ہیں، ادیب ان سے بڑھ کر محقق ہیں تحقیق کے شعبہ میں ان کی خدمات اور کتب آنے والی کئی نسلوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔

 کالم نگاری پر اعزاز کی حقدار قرار پانے والی شمع جونجیو سمیت متعدد دیگر بھی کڑی تنقید کی زد میں ہیں۔ بہر طور بہت سارے نام ایسے ہیں جنہیں اعزازات حاصل کرنے والوں کی فہرست میں دیکھ کر ہماری رائے یہی ہے کہ یہ اعزاز کے لئے  "اعزاز ” ہیں۔ بالائی سطور میں عرض کیا تھا کہ مہوش حیات کو قومی ایوارڈ  مل سکتا ہے تو کسی اور کو کیوں نہیں۔ وہ بھی تو اپنے اپنے شعبوں کی مہوش حیات ہی ہیں۔

لیجئے سابق وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ’’گل ای مکادی ہے‘‘ وہ کہتے ہیں کہ رسک زیرو ہونے تک میاں نوازشریف واپسی کا نہیں سوچیں گے۔ خواجہ جی نے یہ اعتراف بھی کیا کہ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ پی ڈی ایم کی مرضی سے نہیں آئے۔ بات وہی ہوئی نا جسے پیا چاہے وہی ناچے آنگن میں۔

میاں نوازشریف کے لئے زیرو رسک یہی ہوسکتا ہے کہ ان کی ملک آمد کی صورت میں حائل قانونی رکاوٹیں دور ہوں۔ کیسے دور ہوں گی۔ اگر اپیل وغیرہ میں جانا ہے تو انہیں واپس آکر خود کو سرنڈر کرنا ہوگا کیونکہ قانونی معاملات الجھے ہوئے ہیں۔

کالم نگاری پر اعزاز کی حقدار قرار پانے والی شمع جونجیو سمیت متعدد دیگر بھی کڑی تنقید کی زد میں ہیں۔ بہر طور بہت سارے نام ایسے ہیں جنہیں اعزازات حاصل کرنے والوں کی فہرست میں دیکھ کر ہماری رائے یہی ہے کہ یہ اعزاز کے لئے  "اعزاز ” ہیں۔

 فروری 2022ء سے ان کے وکیلوں اور ڈاکٹر نے پنجاب حکومت کو ان کے علاج معالجے کی رپورٹیں فراہم نہیں کیں جبکہ عدالتی فیصلے کے مطابق ان طبی رپورٹس کی ماہانہ بنیادوں پر  فراہمی بہت ضروری تھی ان کے وکلاء اور ڈاکٹرز نے پنجاب حکومت کو جو آخری رپورٹ جمع کرائی تھی اس میں ان کے لندن کے معالجین  نے دو امریکی ڈاکٹرز سے رجوع کرنے کے لئے تجویز کیا تھا تب یہ بتایا گیا کہ ڈاکٹرز سے رابطہ کیا جا رہا ہے کہ وہ لندن آکر مریض کو دیکھیں گے یا مریض امریکہ آئے۔

طبی رپورٹس باقاعدگی سے جمع نہ کرانے کے علاوہ بھی نصف درجن کے قریب قانونی سقم موجود ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر الیکشن مارچ 2024ء میں ہوتے ہی ہیں اور اس وقت تک میاں صاحب کے لئے رسک زیرو نہیں ہوتا تو کیا مسلم لیگ (ن) اپنے قائد کے بغیر انتخابی عمل میں جائے گی۔ مریم نواز اور میاں شہباز شریف میاں نوازشریف کی غیرحاضری میں پارٹی کی مقبولیت اور رائے دہندگان کی حمایت برقرار رکھ پائیں گے؟

ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اگلے مہینے جب ہم خیال ججز کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بندیال ریٹائر ہوجائیں تو مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے لئے نئے سرے سے  قانونی جنگ کا آغاز کرے۔ اس میں ایک خطرہ ہے وہ یہ کہ جس طرح آج کے چیف جسٹس پر عمران خان کی اندھا دھند حمایت کا الزام آ رہا ہے ستمبر کےبعد  اسی طرح کا الزام ان پر بھی لگے گا جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے لئے ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہیں۔

 ہمدردی کے اس ’’صادق‘‘ جذبے کو  حدیبیہ پیپر والے کیس میں ان کے جانبدارانہ کردار کی وجہ سے تقویت ہی نہیں ملتی بلکہ سنجیدہ اعتراضات بھی موجود ہیں۔

 ادھر سردار اختر جان مینگل نے میاں نوازشریف کو لکھے گئے اپنے احتجاجی خط کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ اسٹیبلشمنٹ کی گود میں پل کر بڑا ہوا ہے ان کے کہنے پر ہی کام کرتا ہے وہ لاپتہ افراد کے معاملے کو مسئلہ ہی نہیں سمجھتا۔ شہباز شریف سے کہا تھا کہ ایسا وزیراعظم نہ لائیں جو جمہوریت کا گورکن ثابت ہو‘‘۔

دوسری طرف بزرگ  سیاستدان اور پی ٹی آئی کے صدر چودھری پرویزالٰہی تین ایم پی او کے تحت نظربندی ختم ہونے پر رہائی کے بعد نیب کی تحویل میں چلے گئے۔ نیب نے انہیں اثاثہ جات کیس میں گرفتار کیا ہے۔

منگل کے روز سابق وزیراعظم عمران خان کی 6  مزید مقدمات میں عبوری  ضمانتیں  منسوخ کر دی گئیں ۔ اس طرح گرفتاری کے بعد سے اب تک ان کی 16  مقدمات میں عبوری ضمانتیں منسوخ ہوچکیں  ظاہر ہے کہ ان منسوخ شدہ ضمانتوں کے مقدمات میں اب ان کے وکلاء کو ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں دائر کرنا ہوں گی۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اٹک جیل کے حکام تک کتنی ضمانتوں کی منسوخی کے احکامات پہنچائے جاتے ہیں اور کتنے مقدمات میں ان کی گرفتاری ڈالی جاتی ہے۔

ادھر سردار اختر جان مینگل نے میاں نوازشریف کو لکھے گئے اپنے احتجاجی خط کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ اسٹیبلشمنٹ کی گود میں پل کر بڑا ہوا ہے ان کے کہنے پر ہی کام کرتا ہے وہ لاپتہ افراد کے معاملے کو مسئلہ ہی نہیں سمجھتا۔

پولیس اور جیل حکام کے پاس یہ مقدمات ہتھیار ہی ہیں۔ خان صاحب کے وکلاء نے جیل میں گھر کا کھانا فراہم کرنے، اے کلاس اور ایئرکنڈیشن کے لئے درخواست دائر کر رکھی ہے آج ان کے وکلاء نے جیل میں انگریزی ترجمے والے قران مجید کی فراہمی کے لئے ہائی کورٹ میں کہا ہے  کہ چونکہ وہ قران پڑھ نہیں صرف انگریزی پڑھ سکتے ہیں اس لئے انگریزی ترجمے والا قران فراہم کرنا ضروری ہے ۔

ان کے محبین کا کہنا ہے کہ جھوٹے مقدمے میں سزا دی گئی ہے یہ سہولتیں ان کا حق ہیں۔ ان کے مخالف سیاستدانوں کے حامی بھی اپنے رہنماؤں کی اسیری کے دنوں میں یہی کہتے تھے کہ مقدمات جھوٹے ہیں سزائیں ریاستی دباؤ پر دی گئیں سہولتیں ان کا حق ہیں۔

 یہ درست ہے کہ جیل قوانین کے تحت جو سہولتیں ان کا قانونی حق ہیں وہ انہیں ملنا چاہئیں وہ اس ملک کے سابق وزیراعظم ہیں ایک بڑی جماعت کے بانی و سربراہ بھی۔

چلتے چلتے آپ کی خدمت میں یہ عرض کردوں کہ انتخابی عمل میں تاخیر کے حوالے سے ان سطور میں مسلسل جن خدشات کا اظہار کرتا آرہا ہوں گزشتہ روز الیکشن کمیشن کے سیکرٹری نے اس پر مہر ثبت کر دی وہ کہتے ہیں کہ 

"انتخابات 90 دن میں لازم ہیں مگر مردم شماری کے نوٹیفکیشن کے بعد الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیاں کرنے کا پابند ہے یہ عمل انتخابات میں تاخیر کا باعث بن سکتا ہے” ۔

مصنف کے بارے میں:

حیدر جاوید سید پاکستان کے سینئر ترین صحافی، کالم نویس اور تجزیہ نگار ہے۔ وہ گزشتہ پانچ دھائیوں سے صحافت و اخبار نویسی کے شعبے سے منسلک ہے۔ اور پاکستان کے موقر اخبارات و جرائد کے لئے کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے چوتنیس کے قریب کتابین لکھی ہے جن میں  سچ اور یہ عشق نہیں آساں تصوف کے موضوع پر ہیں باقی کچھ سیاسی ادبی کتب ہیں اور ایک سفر نامہ ہے جبکہ خلیل جبران کے کلیات کو مرتب  کر چکے ہیں۔ آج کل وہ اپنی سوانح عمری لکھنے میں مصروف ہے جبکہ روزنامہ مشرق پشاور اور بدلتا زمانہ کے لئے کالم اور ایڈیٹوریل لکھتے ہیں۔ آپ پاکستان کا واحد صحافی ہے جسے جنرل ضیا کے دور میں بغاوت کے مقدمے میں سپیشل ملٹری کورٹ نے تین سال قید کی سزا دی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں