صفی اللہ بیگ 52

گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات،


 2014کا بلدیاتی ایکٹ، حلقوں کی حد بندی،  ہنزہ کا تجزیہ

تحریر: صفی اللہ بیگ


معاشی بد حالی کا شکار اور سامراجی اسٹیبلشمنٹ کا مکمل قبضہ کیا ہوا ریاست پاکستان موجودہ طبقاتی شکل میں اپنی بقا کے خاطر پاکستان اور اس کے کنٹرول میں شامل گلگت بلتستان اور کشمیر کے عوام پر اپنی استحصالی جبر کو مذید مضبوط کرنے اور تمام فطری و غیر فطری وسائل کا ملکیت حاصل کرنے میں مصروف نظر آتی ہے۔ تاکہ اس کے ذریعے بدلتی ہوئی عالمی و علاقائی سیاسی صورت حال، اس خطے میں سامراجی عزائم خصوصا چین کے ارد گرد اپنے اثرو رسوخ کو مضبوط کرنے اور ابھرتے ہوئے سامراج مخالف اتحاد میں سامراج کا کاسہ لیس ریاست اور اس کی کرایہ پر کام کرنے والی نو آبادیاتی فوج ایک بار پھر اپنی طبقاتی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے سامراجی جنگی جنوں اور سرمایہ داری کےنظام کے تحفظ کے لیے کام کر سکے۔

مثلا ہنزہ کو لسانی بنیادوں  پر تین حصوں میں تقسیم کرکے عوام میں لسانی اختلافات کو بڑھاوا دینا، یونین کونسلوں کی تعداد میں کمی کرکے انتخابات سے قبل دھاندلی کرنا اور ضلع کونسل کو کمزور کرکے اس میں من پسند امیدواروں کو لانا افسر شاہی کے کنٹرول کو مضبوط کرنا، ہنزہ کو مصنوعی دیہی و شہری تقسیم کے ذریعے کاروباری حلقوں کو مضبوط اور سیاسی جدوجہد کو کمزور کرنا اور اس پیچیدہ طریقہ کار کے ذریعے فنڈز پر افسر شاہی کا کنٹرول قائم کرنا نظر آرہا ہے۔

 چنانچہ اسی تناظر میں گلگت بلتستان کے اندر اپنے کنٹرول کو افسرشاہی کی طاقت میں مذید اضافہ، فطری وسائل کو ریاست کے ملکیت میں لانے، نام نہاد حکومت پر افسر شاہی کا کنٹرول کو مضبوط کرنے، بنیادی حقوق کے حصول کے لیے ابھرتی ہوئی عوامی مزاحمت اور اتحاد کو تقسیم اور کمزور کرنے کے لیے اپنے بااعتماد سہولت کاروں کی حکومت قائم کی گئی اور افسر شاہی کو مکمل اختیار دیا گیا۔

اسی لیے گندم کی سبسڈی کی کٹوتی، بجلی کا بحران، ٹیکس کا نفاذ اور ماحولیاتی کی تباہ کاریوں کے خلاف عوام میں اتحاد اور غم و غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے موجودہ حکومت ریاست پاکستان کے مقامی سہولت کاروں کو بلدیاتی حکومتوں میں شامل کرنے کے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے نظر آتی ہے۔ اس کا ثبوت مجھے ہنزہ میں 2014 کے بلدیاتی قانون اور 2017 کی مردم شماری کی بنیادی پر کی گئی متنازعہ حلقہ بندیوں میں نظر آتا ہے۔ مثلا ہنزہ کو لسانی بنیادوں  پر تین حصوں میں تقسیم کرکے عوام میں لسانی اختلافات کو بڑھاوا دینا، یونین کونسلوں کی تعداد میں کمی کرکے انتخابات سے قبل دھاندلی کرنا اور ضلع کونسل کو کمزور کرکے اس میں من پسند امیدواروں کو لانا افسر شاہی کے کنٹرول کو مضبوط کرنا، ہنزہ کو مصنوعی دیہی و شہری تقسیم کے ذریعے کاروباری حلقوں کو مضبوط اور سیاسی جدوجہد کو کمزور کرنا اور اس پیچیدہ طریقہ کار کے ذریعے فنڈز پر افسر شاہی کا کنٹرول قائم کرنا نظر آرہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں