226

کونڑ


قدیم وقتوں میں کونڑ کے شراب اور شن ذات کے گھوڑے ہندوستان اور چین وغیرہ بطور تجارت بھیجے جاتے تھے۔ یہاں کی شرابوں میں ارہ تاشی، سوہان تاشی اور ایک زرد رنگ کی شراب کافی مشہور تھی۔ بدھ مت کے تینوں فرقے اور بعد کے تانترک عقائد انہی قدیم راستوں سے ہوتے ہوئے وسطی ایشائی ممالک اور چین، تبت تک پھیل گئے تھے۔

تحریر: گمنام کوہستانی


مشرقی افغانستان میں واقع ادھیانہ ( قدیم سوات جس میں آج کے کونڑ، دیر، باجوڑ، بونیر اور آگے داریل تانگیر تک کے علاقے شامل تھے) کے اہم علاقے اور اپنے شرابوں اور گھوڑوں بالخصوص "شن ” ذات کے مشہور و معروف گھوڑوں کے لیے مشہور پشائی قبائل کے قدیم مسکن کونڑ( کنہار) کا خوبصورت منظر۔

قدیم وقتوں میں یہاں کے شراب اور شن ذات کے گھوڑے ہندوستان اور چین وغیرہ بطور تجارت بھیجے جاتے تھے۔ یہاں کی شرابوں میں ارہ تاشی، سوہان تاشی اور ایک زرد رنگ کی شراب کافی مشہور تھی۔ بدھ مت کے تینوں فرقے اور بعد کے تانترک عقائد انہی قدیم راستوں سے ہوتے ہوئے وسطی ایشائی ممالک اور چین، تبت تک پھیل گئے تھے۔

قدیم ویدی عہد اور اس کے بعد بدھ مت عہد میں ان راستوں کو اہم مقام حاصل تھا۔ یہ مختلف راستوں کا ایک نیٹ ورک جسے قدیم تاجر اور مذہبی مبلغین، زائرین وغیرہ استعمال کرتے آ رہے تھے۔ سنسکرت مصنفین نے راستوں کے اس نیٹ ورک کو اوتر (Uttharpatha) یعنی شمالی راستہ کے نام سے ذکر کیا ہے۔ آج کل اسے شاہرائے ریشم کہا جاتا ہے۔

 انہی راستوں سے تاجر کاپیسا، ننگرہارا، ادھیانہ اور گندھارا کے شراب،  گھوڑے اور دوسری چیزیں دور دور تک پہنچاتے تھے اور دور دیس کی چیزیں یہاں لاتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے

معدومیت کے خطرے سے دو چار مرغ زرین کی فریاد

جنت نظیر بالائی پنجکوڑہ خواتین کی مقتل گاہ

ہیون سانگ نے کاپیسا کے پشائی یا پشاچہ قبائل، ان کے رسم و رواج، رقص، شرابوں اور مذہب سمیت حکمران خاندان پر مفصل لکھا ہے۔   یہ قدیم راستے کشان دور تک بہت مشہور و معروف تھے لیکن جب کشان یہاں آئے اور گندھارا پر حکومت شروع کی تو انہوں نے پشاور کو مرکز بنایا اور جنوب کے طرف واقع خیبر کے راستہ استعمال کرنا شروع کیا۔ یوں آہستہ آہستہ ادھیانہ اور کنہار وغیرہ جو ان راستوں پر واقع تھے کا زوال شروع ہوا۔ یہاں شاید یہ بتانے کی ضرورت نہ ہو کہ بدھ عہد میں ان راستوں اور یہاں کے پانی کے ذرائع پر خانقاہوں کا قبضہ تھا۔ عام طور پر جو کہا جاتا ہے کہ یہاں بدھ مت پر امن طریقے سے پھیلا شاید آشوک کے دور تک یہ بات ٹھیک تھی لیکن اس کے بعد کون صحیح کہہ سکتا ہے ؟

ہر حملہ آور مقامی لوگوں کا استحصال لازمی  کرتا ہے لیکن اس کی شکلیں مختلف ہوتی ہے۔ یہاں بھی راستوں اور زراعت پر خانقاہوں کا قبضہ تھا اور انہوں نے مقامی داردی مذاہب کی کھل کر مخالفت کی۔ پروفیسر ٹوچی، لوکا موریا اور ادھیانہ، گندھارا پر تحقیق کرنے والے دوسرے محققین نے اس بارے میں مفصل لکھا ہے۔ جب راستوں کی اہمیت نہ رہی اوپر سے ہن قبائل نے بھی تباہی مچائی یوں خانقاہوں کو پالنے والے امیر لوگ راستوں سے لیا جانے والا محصول وغیرہ ملنا بند ہوگیا اور بدھ بھکشوؤں نے ادھیانہ چھوڑنے لگے اور بدھ ازم کا زوال شروع ہوا۔ رہی سہی کسر بعد میں مقامی داردی عقائد اور بدھ مت تعلمیات کے ملاپ سے پیدا ہونے والے تانترک عقائد نے پوری کی اور بہت جلد قدیم ادھیانہ، گندھارا اور ننگرہارا سے قدیم بدھ مت مٹ گیا اور تانترک عقائد کو عروج حاصل ہوا۔

ہر حملہ آور مقامی لوگوں کا استحصال لازمی  کرتا ہے لیکن اس کی شکلیں مختلف ہوتی ہے۔ یہاں بھی راستوں اور زراعت پر خانقاہوں کا قبضہ تھا اور انہوں نے مقامی داردی مذاہب کی کھل کر مخالفت کی۔ پروفیسر ٹوچی، لوکا موریا اور ادھیانہ، گندھارا پر تحقیق کرنے والے دوسرے محققین نے اس بارے میں مفصل لکھا ہے۔ جب راستوں کی اہمیت نہ رہی اوپر سے ہن قبائل نے بھی تباہی مچائی یوں خانقاہوں کو پالنے والے امیر لوگ راستوں سے لیا جانے والا محصول وغیرہ ملنا بند ہوگیا اور بدھ بھکشوؤں نے ادھیانہ چھوڑنے لگے اور بدھ ازم کا زوال شروع ہوا۔

بابر بادشاہ کونڑ کو کنیر نام سے یاد کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ کنیر اور نورکل ( درہ نور جسے قدیم وقتوں میں نور گل یعنی نور کی وادی، یہ نام بھی بعد کا ہے قبل از اسلام کوئی اور نام تھا جس کے بارے میں تاحال نہیں معلوم۔ گل (گول) زیادہ تر داردی زبانوں میں ایسے علاقے کو کہا جاتا ہے جس کے بیچ میں ندی یا بڑا نالہ ہو اور دونوں طرف پہاڑی ڈھلوان) تومان یعنی ضلعے لمغانات ( لام گھان) سے الگ ہے اور کافرستان کے سرحد پر واقع ہے۔ یہاں میر سید علی ہمدانی نے جہاد کیا ہے اور ایک کوس اوپر ان کا انتقال ہوا تھا۔ بابر بادشاہ یہ بھی لکھتے کہ جب میں نے 920 ہجری میں چغان سرائے ( موجودہ چغہ سرائی) پر حملہ کیا تو پنچ ( پیچ درہ) کے کافروں نے ان لوگوں کی بہت مدد کی تھی۔ کونڑ وادیوں میں دوسرے داردی قبائل کی طرح گوار بیتی قبائل بھی رہتے ہیں جو بنیادی طور پر قدیم ویدی عہد کے گورائے قبائل کا حصہ ہے جو ظہور اسلام تک زیریں دیر، سوات و باجوڑ میں رہتے تھے۔ ظہور اسلام کے بعد یہ لوگ بکھر گئے اور  شمال کے پہاڑوں میں پناہ لیں۔

 کونڑ، چترال کے گور، گوار بیتی، دیر و سوات کے گاؤری، اباسین وادیوں میں آباد گوار، گبری وغیرہ سب اسی قدیم گورائے کے بچے کچے لوگ ہیں۔ زبان چاہے اب جو بھی بولتے ہو لیکن یہ سب  سوات، دیر اور باجوڑ سے موجودہ علاقوں میں گئے ہیں۔ ان مذکورہ قبائل کی تاریخ، زبانوں وغیرہ پر کوئی بھی کتاب اٹھا کر دیکھ لیجیے وہاں آپ کو ان کا اصل اور قدیم گھر دیر سوات اور باجوڑ نظر آئے گا۔

مصنف کے بارے میں

عمران خان آزاد المعروف گمنام کوہستانی کا تعلق اپر دیر کے علاقے سے ہیں آپ بنیادی طور پر مورخ، محقق اور سماجی کارکن ہے۔ آپ کی دلچسپی کے موضوعات میں دردستان کی قدیم تاریخ و ثقافت، کالونائزیشن اور اس کے تباہ کن اثرات ہیں۔ اس کے علاوہ آپ سماجی موضوعات پر بھی قلم اٹھاتے رہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں