145

سالانہ یوم انگور


انگور ڈے کی محفل میں گلگت بلتستان کے معروف شاعر مرحوم دکھی صاحب کو شدت سے یاد کیا گیا اور ان کے ایصال ثواب کے لئے درود شریف پڑھی گئی۔ محفل میں سینئر شعراء عبدلخالق تاج صاحب، امین ضیاء صاحب، عبدلحفیظ شاکر صاحب، نظیم دیا صاحب اور ظفر وقار تاج صاحب کی کمی محسوس کی گئی جو کہ مصروفیات کی وجہ سے محفل میں شریک نہیں ہوسکے۔

تحریر: اسرار الدین اسرار


 مئی 2023ء  کو دنیور گلگت میں محترم استاد غلام عباس نسیم کے دولت کدے میں سجنے والی چیری ڈے کی محفل مشاعرہ کی مٹھاس ابھی دل وماغ سے اتری نہیں تھی ایسے میں گزشتہ جمعہ کی شام محترم غلام عباس نسیم صاحب  کی اچانک فون کال موصول ہو ئی اور اپنے منفرد انداز میں حکم صادر فرماتے ہوئے کہنے لگے کہ ہفتے کے روز گلگت کے مضافاتی گاؤں نومل میں پروفیسر ڈاکٹر انصار مدنی کے ہاں حسب سابق سالانہ یوم انگور کی محفل سجنے والی ہے اس میں آپ نے اپنی شرکت کو یقینی بنانا ہے۔

 استاد محترم کی دعوت کو ٹھکرانا کسی بھی ذی شعور کے لئے ناممکن اس لئے ہوتا ہے کیونکہ بندہ سوچتا ہے کہ دعوت نامے میں اتنی مٹھاس ہے تو دعوت میں کتنا لطف ہوگا۔

چنانچہ اگلے روز ہم نومل کی طرف عازم سفر ہوئے جہاں ڈاکٹر انصار مدنی نے عروج سخن کے زیر اہتمام انگور ڈے کی مناسبت سے محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا تھا۔

 گذشتہ تقریبا ایک عشرے سے ڈاکٹر صاحب خومر گلگت میں اپنے دولت کدے میں ہر سال باقاعدگی سے اس محفل کا انعقاد کرتے رہے ہیں۔ اس سال انہوں نے گلگت بلتستان کا خوبصورت گاؤں نومل میں اپنے نانا کے گھر میں یہ محفل سجائی تھی کیونکہ انصار مدنی صاحب کا نومل میں اپنا گھر زیر تعمیر ہے، ان کا ارادہ ہے کہ ان کے مکان کی تعمیر کے بعد اگلے سال یوم انگور وہاں منعقد ہوگی۔

ڈاکٹر صاحب کے نانا کا دیسی گھر صدیوں پرانے فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔ اس گھر میں داخل ہوئے تو بڑے سے روایتی تھال میں انگور نے ہمارا استقبال کیا۔ ہم نے انگور کے سامنے تعظیم بجا لایا اور اپنی نشست سنھبال لی۔

 میرے ہمراہ میرے برخوردار وجہہ الدین بھی تھے جن کی کسی ادبی محفل میں پہلی شرکت تھی۔ محفل میں گلگت بلتستان کے معروف شعراء خوشی محمد طارق، بشیر احمد بشر،غلام عباس نسیم، اشتیاق احمد یاد، فاروق احمد، آصف علی آصف، نزیر احمد نزیر، شاہ رائیس شافی اور معروف لکھاری احمد سلیم سلیمی سمیت  دیگر احباب موجود تھے۔

انگور سے لطف اندوز ہونے کے بعد استاد محترم غلام عباس نسیم کی نظامت میں محفل مشاعرہ کا آغاز ہوا۔ شعراء کے کلام حسب سابق معیاری تھے ۔ کئی اشعار دل میں اترے۔ شام تک محفل مشاعرہ جاری رہی۔

محفل مشاعرہ کے بعد جناب احمد سلیم سلیمی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور شعراء کو معاشرے کی اصلاح میں بہترین کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا اور محفل کے انعقاد پر ڈاکٹر انصار مدنی کا شکریہ ادا کیا۔

 اس موقع پر راقم کو بھی اظہار خیال کا موقع دیا گیا۔ راقم نے شعراء کی انقلابی شاعری کو سراہا اور اس کو گلگت بلتستان کے گٹھن زدہ ماحول میں روشنی کی کرن قرار دیا۔ راقم نے علاقے میں قیام امن اور زبان و ادب کی ترویج میں مقامی شعراء اور حلقہ ارباب ذوق کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمیں معاشرتی برائیوں کے خلاف لڑتے ہوئے مایوس نہیں ہونا چاہئے کیونکہ دنیا میں ہم سے زیادہ ابتلاؤں کے شکار معاشرے اپنی کمزوریوں پر قابو پاکر ترقی کی راہ پر گامزن ہوئے ہیں اور آج مہذب معاشرے کہلاتے ہیں۔

 راقم نے مقامی شعراء کی شاعری کو نوجوانوں کے علاقے کی تعمیر و ترقی میں کردار کے لئے ایک تحریک کا ذریعہ قرار دیا۔ محفل میں ڈاکٹر انصار مدنی نے بھی اظہار خیال کیا اور اہل ادب کی طرف سے ان کی دعوت کو قبولیت بخش کر ان کے ہاں آمد  پر فرط مسرط میں آبدیدہ ہوگئے اور اہل ادب اور شعراء کی خاطر مدارت کو اپنے لئے اعزاز قرار دیا۔

ڈاکٹر انصار مدنی کی بیگم صاحبہ بھی پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں اور وہ اس محفل کے انعقاد میں ان کے شانہ بشانہ کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ ڈاکٹر انصار مدنی قراقرم یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں ساتھ میں ایک ڈیجٹل میڈیا پلیٹ فارم بیاک اور ادبی تنظیم عروج سخن کے روح رواں بھی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اور ان کی اہلیہ دونوں متحرک اور ہمہ گیر شخصیات ہیں جو کہ گلگت بلتستان میں علم و ادب کے علاوہ فلاحی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کے دل میں گلگت بلتستان، یہاں کی ثقافت، زبان، علم و ادب اور لوگوں کے لئے محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔

انگور ڈے کی محفل میں گلگت بلتستان کے معروف شاعر مرحوم دکھی صاحب کو شدت سے یاد کیا گیا اور ان کے ایصال ثواب کے لئے درود شریف پڑھی گئی۔ محفل میں سینئر شعراء عبدلخالق تاج صاحب، امین ضیاء صاحب، عبدلحفیظ شاکر صاحب، نظیم دیا صاحب اور ظفر وقار تاج صاحب کی کمی محسوس کی گئی جو کہ مصروفیات کی وجہ سے محفل میں شریک نہیں ہوسکے۔

محفل کے اختتام پر محترم غلام عباس نسیم نے ڈاکٹر صاحب اور ان کے اہل خانہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

سرشام محفل جب بر خاست ہوئے تو ڈاکٹر انصار مدنی نے روایتی پکوانوں سے مہمانوں کی خاطر مدارت کی۔

یاد رہے گلگت بلتستان کے کئی علاقے انگور کی انواع و اقسام کی پیداوار کے لئے مشہور ہیں جن میں پونیال غذر، نومل، شیناکی ہنزہ، بلتستان اور دیامر کے کئی علاقے شامل ہیں۔

یہاں سے تازہ انگور بازار میں آنے کے علاوہ انگور کے رس سے تیار کی گئی سوغات کیلاو وغیرہ بھی تیار کی جاتی ہیں جو کہ مشہور ہیں۔ انگور گلگت بلتستان کا ایک مشہور پھل ہے اس کی پیداوار بڑھانے اور مارکیٹنگ کے زریعہ علاقے میں غربت کو کم کیا جاسکتا ہے۔

انگور گلگت بلتستان کی ثقافت کا بھی ایک بڑا اہم جز ہے۔ ماضی میں انگور گھروں میں محفوظ کر کے سردیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ماضی میں پونیال اور دیگر علاقوں میں انگور اتارنے، اس کو محفوظ کرنے اور اس کے رس سے کیلاو، دیشوو اور دیگر سوغات بناتے وقت کئی تہوار بھی منعقد ہوتے تھے۔

 اب وقت کے ساتھ یہ خوبصورت روایات ختم ہوگئی ہیں ۔ ڈاکٹر انصار مدنی کی طرف سے سالانہ انگور ڈے منانے کا مقصد بھی یہ ہے کہ ایک طرف اس کی پیداوار بڑھائی جائے اور دوسری طرف انگور کو گلگت بلتستان کی ثقافت و حسین روایات کے جز کےطور پر ثقافتی و ادبی محافل کے انعقاد کا ذریعہ بنایا جائے۔

ڈاکٹر صاحب کی ایک دہائی سے جاری اس کاوش کو ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔

 انگور ڈے کی مناسبت سے ڈاکٹر انصار مدنی اور ان کے اہل خانہ کی طرف سے منعقدہ اس محفل کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ محفل  مشاعرہ میں گو کہ ایک سے بڑھ کر ایک کلام سنایا گیا تھا جس کا اس کالم کی تنگ دامنی کے باعث  مکمل احاطہ ممکن نہیں اس لئے محفل میں سنائے گئے نوجوان شاعر آصف علی آصف کے اس شعر کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں۔

کئی سوال ہیں جن کے جواب میں آصف

خموش رہنا ہی بہتر جواب ہوتا ہے

مصنف کے بارے میں :

اسرار الدین اسرار انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان گلگت بلتستان کے کا نمائندہ ہے۔ اسرار بام جہان کے ریگولر لکھاری ہے ان کی دلچسپی کے موضات سماجی مسائل، گھریلو تشدد اور انسانی حقوق کے مسائل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں