صفی اللہ بیگ 81

سرینا ہوٹل کا ہنزہ کے ماحولیات پر تباہ کن اثرات


کریم آباد کا مین لائین 18 انچ کا ہے۔ جس کی سو فیصد گنجائش 2 لاکھ لیٹر ہے یاد رکھیں زمین کی ناہمواری اور پائپ میں گیس بننے کے سبب مین لائین کا پائپ  50 فیصد سے زیادہ بھرنا خطرناک ہوتا ہے۔

تحریر: صفی اللہ بیگ


ہنزہ میں زیر تعمیر Hunza Serena ہوٹل 84 کمروں، لابی، کانفرنس ہال، ریسٹورانٹ کیچن، اسٹاف و دیگر سہولیات کے ساتھ کم از کم 100 سے زیادہ           washroom  پر مشتمل ہوگا۔

چناچہ تاریخ میں بنے والی سب سے بڑی تجارتی عمارت میں روزانہ ایک لاکھ لیٹر پانی کی ضرورت ہو گی اور کم از کم اتنا ہی پانی گٹر میں روزانہ داخل ہوگا۔

 کریم آباد کا مین لائین 18 انچ کا ہے۔ جس کی سو فیصد گنجائش 2 لاکھ لیٹر ہے یاد رکھیں زمین کی ناہمواری اور پائپ میں گیس بننے کے سبب مین لائین کا پائپ  50 فیصد سے زیادہ بھرنا خطرناک ہوتا ہے۔

 اب ایک لاکھ لیٹر فضلہ Serena سے اور باقی کریم آباد کی اس وقت کی آبادی سے اتنا فضلہ یعنی کل 2 لاکھ لیٹر sewage  روزانہ مین گٹر لائین میں جانے کا امکان ہے پھر آپ گنش کے storage tanks کی size دیکھیں مشکل سے یہ 14/ 18  کے ہیں۔ چنانچہ سیرینا ہنزہ کی عمارت اور اس کا اس اسکیل پر پانی اور sanitation کا استعمال کریم آباد، مومن آباد اور گنش کے sanitation کے لیے سنجیدہ خطرہ ہے۔

 اس لیے اس خطرے پر گفتگو اہم ہے اگر آج اس مسئلے کا حل نہ نکلا تو پورا کریم آباد، مومن آباد اور گنش میں ماحولیاتی تباہی پھیلے گی۔ جس کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔

عوام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کریم آباد، مومن آباد، گنش اور التت کے sanitation  پر سو فیصد خرچہ جاپان اور ناروے نے کیا ہے۔  Serena Hotel  نے اپنا الگ sanitation نظام کبھی بنانا نہیں ہے۔ کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام میں تمام منافع کمانے والے کاروبار خصوصا ہوٹل مفت کا پانی، سڑک، sanitation  اور تاریخی ورثہ استعمال کرکے ہی منافع کماتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں