Baam-e-Jahan

داسو ڈیم کی ٹیم پر بم حملہ، ۹ چینیوں سمیت ۱۳ افراد جاں بحق

کوسٹر میں ۴۱ مسافر سوار تھے جو ڈیم سائٹ پر کام کے لئیے جا رہے تھے۔ مرنے والوں میں نو چینی، دو ایف سی کے اہلکار اور دو مزدور شامل ہیں۔


بام جہاں رپورٹ


خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن کے کوہستان بالا ضلع میں ایک مسافر گاڑی میں دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں ۱۳ افراد جاں بحق اور ۲9 زخمی ہو گئے ہیں۔ دھماکہ برسین میں داسو ڈیم پر کام کرنے والے مزدوروں کے کیمپ سے داسو جانے والی گاڑی کے قریب ہوا۔

کوہستان بالا کے ضلعی پولیس آفسر نے 13 افراد کی موت کی تصدیق کی ہے جن میں سے 9 چینی شہری اور دو مقامی زدور بھی شامل ہیں، جب کہ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سات افراد کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور پولیس کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا، جب کہ جائے وقوعہ کو دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کی مدد سے بند کردیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر عارف خان یوسفزئی نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوسٹر میں 41 افراد سوار تھے۔ حادثے میں نو چینی باشندوں سمیت 13 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں دو ایف سی کےجوان اور دو مقامی مزدور بھی شامل ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کو دہشت گردی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے پر وجوہات کے بارے میں بتایا جا سکے گا۔

داسو میں رونما ہونے والے واقعے کے بعد صوبائی حکومت کا اعلی سطحی وفد کوہستان پہنچ گیا۔ وفد میں کامران بنگش، چیف سیکرٹری اور آئی جی پی خیبر پختونخوا شامل ہیں۔

خیال رہے گزشتہ ہفتے بابوسر کے میدان میں گلگت بلتستان حکومت کو مطلوب دہشت گرد کمانڈر حبیب الرحمان اور ان کے ساتھیوں کے اچانک نمودار ہونے اور کھلی کچہری لگانے پر لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے ۲۰۱۹ میں حساس اداروں کے ساتھ کئے گیئے معاہدے کو پورا کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر اس کے اوپر شدید رد عمل سامنے آیا تھا اور گلگت بلتستان حکومت سے اس بارے میں وضاحت پر اسفسار کیا جا رہا تھا لیکن تین دن خاموش رہنے کے بعد گلگت بلتستان حلکومت کے ترجمان فتح اللہ نے ایک مضحکہ خیز تاویل پیش کیا تھا کہ جب تک ان سے گلگت بلتستان کو کوئی خطرہ نہیں اسلیئے ہم ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر سکتے۔

کمانڈر حبیب الرحمن نانگا پربت بیس کیمپ مین دس غیر ملکی کوہ پیماوں جن میں پانچ چینہ اور دو بلتستان کے ہائی پورٹرز شامل تھے، کے قتل اور کوہستان میں بس سے اتار ۲۵ شیعہ مسافروں کےقتل میں بھی ملوث بتائے جاتے ہیں۔

بعض ماہریں اس قسم کے واقعات کو افغانستان سے امریکیوں کے انخلااور طالبان کا کئی افغان ضلعوں پر قبضہ کے ساتھ تعلق کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں