Baam-e-Jahan

عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے رہنما بابا جان کی ینگ ڈاکٹرز سے یکجہتی اور مطالبات کی حمایت کا اعلان

احتجاجی دھرنا

احتجاج تیسرے روز میں داخل، سات نکاتی مطالبات کی منظوری اور نوٹیفیکشن تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان؛ وائی ڈی اے جی بی کے صدر کے خلاف انتقامی کاروائی بند کرنے کا مطالبہ

رپورٹ : عنایت  ابدالی


گلگت، جولائی ۱۴:  نوجوان  ڈاکٹروں کی انجمن  (وایٗ ڈی اے) کےاحتجاج کو تین  دن ہونے کو ہے لیکن حکومتی سطح پر ان کے مطالبات کو  تسلیم کرنے کی یقین دہانی یا ان سے بات چیت کے کوئی آ ثار نظر نہیں آ رہا ہے  اورنہ ہی  بڑی جماعتوں کے رہنما  اور منتخب نمائندے دھرنا کیمپ  میں آتے ہیں ۔

وائی ڈی اے جی بی کے رہنما کامریڈ بابا جان، پرہفیسر ضیغم عباس، ایڈووکیٹ ذویلفیقار حسین اور دیگر ترقی پسند رہنمائوں کو اپنے مسائل اور مطالبات کے بارے میں بریفینگ دے رہے ہیں فوٹو: عنائیت ابدالی

آج بدھ کے روز باباجان چیئرمین عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان نے اپنے ساتھیوں کے ہمرا اظہار یکجہتی کیلئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے دھرنے میں شرکت کیں۔

  انھوں نے  کہا کہ عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان نوجوان ڈاکٹروں کے تمام مطالبات سے اتفاق کرتی ہے ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کی یقین دہانی کرتی ہے۔

بابا جان نے  کہا کہ حکومت نوکر شاہی کے شاخرچیوں، پجیرو گاڑیوں اور غیر پیداواری منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کرنے کی بجائے صف اول پہ لڑنے والے اور انسانیت کی خدمت کرنے والے ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکروں پر خرچ کرنا چاہئے۔

انہوں نے  حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ  جلد از جلد ینگ ڈاکٹرز کے تمام مطالبات منظور کرے۔

کامریڈ بابا جان کے ہمراء حقوق خلق مومینٹ کے رہنماء پروفیسر ضیغم عباس، ترقی پسند کارکن اور نوجوان وکیل ذوالفیقار حسین، اے ڈبلیو پی جی بی گلگت کے صدر نوید احمد، ذاکر حسین اور دیگر کارکن شامل تھے۔


درین اثنا محکمہ صحت کی طرف سے جاری کردہ حالیہ پریس ریلیز کے جواب میں وائی ڈی اے گلگت بلتستان نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ٹریننگ پالیسی 2019 میں منظور ہوئی تھی جس میں بعد ترامیم کی گئی تھیں۔ اس کے باوجود اس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا ہے اور بہت سارے ڈاکٹرز پوسٹ گریجویشن ٹریننگ کے لئے داخلہ لے کر محکمہ صحت سے نامزدگی کا خط اور اجازت نامہ کے منتظر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پر جلد از جلد عملدرآمد کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ الاؤنس پیکیج کا باضابطہ نوٹفیکیشن نہیں کیا گیا ہے، صرف کاغذوں میں گھوم رہا ہے اور فائل وزیر اعلٰی سیکرٹریٹ میں تعطل کا شکار ہے، کنٹریکٹ پر تعیناتی اور توسیع والا کام آٹھ سال سے چل رہا ہے ۔

خیال رہے صوبائی محکمئہ صحت نے گزشتہ دنوں ۵۰  ڈاکٹروں کے کنٹریکٹ کرونا ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کی وجہ سے منسوخ کئے تھے۔

پریس ریلز میں کہا گیا تھا کہ  "اس وقت گلگت بلتستان میں کرونا کی اوسط شرح ۱۴ فی صد ہے۔ ان حالات میں ینگ ڈاکٹرز  ایسو سی ایشن کی طرف سے ہڑتال کی کال اور تمام ہسپتال بند کرنے کا فیصلہ ناقابل قبول ہے اور اس سلسلے میں کوئی نرمی نہیں برتی جائیگی۔”

اسلئے ڈیوٹی سے غیر حاضری کی وجہ سے ۵۰ ڈاکٹروں کے کنٹریکٹ منسوخ کئے جا چکے ہیں۔

وائی ڈی اے کے صدر ڈاکٹر اعجاز ایوب کی اسکردو ریجنل ہیڈکوارٹرز(آر ایچ کیو) ہسپتال ٹرانسفر کرنے کی آاردڑ پر محکمئہ صحت کے بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ تقرری اور تبادلے سروس کا حصہ ہیں اور مفاد عامہ میں کئے جاتے ہیں۔

بیان میں یہ دعوای بھی کیا گیا تھا کہ حکومت نے ڈاکٹروں کی بہتری کے لئے "انقلابی اقدامات اؐ ٹھائے ہیں جن میں ینگ ڈاکٹروں کے ٹریننگ پالیسی کی منظوری جس کے تحت ۴۵ ڈاکٹرز ملک کے دیگر شہروں میں حکومت کے خرچ پر ٹریننگ حاصیل کر رہے ہیں، شامل ہے”۔”

وائی ڈی اے گلگت بلتستان اور جی ایچ اے کے رہنما دھرنا کیمپ میں۔

اس کے جواب میں ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ٹریننگ پالیسی 2019 میں سابقہ حکومت کے دور میں منظور ہوئی تھی، جس میں بعد میں ترامیم کی گئی تھیں۔ اس کے باوجود اس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا ہے اور بہت سارے ڈاکٹرز پوسٹ گریجویشن ٹریننگ کے لئے داخلہ لے کر محکمہ صحت سے نامزدگی کا خط اور اجازت نامہ کے منتظر ہیں۔ انہوں نے  مطالبہ کیا کہ اس پر جلد از جلد عملدرآمد کیا جائے۔

محکمئہ صحت  نے دعویٰ  کیا ہے کہ ” ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں انسینٹیو پیکیج کے تحت ڈیوٹی اسٹیشن کے حساب سے ۹۰ فیصد سے ۱۵۰ فیصد تک اضافہ کیا جا چکا ہے ، جو پورے ملک میں منفرد ہے۔ حکومت کے اس دعوے کو، کہ اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تعیناتی کے لئے ڈومیسائل اور عمر کی بالائی حد میں نرمی کی گئی ہے”،  وائی ڈی اے کے رہنماوں  نے اسے مضحکہ خیز  قرار دیا۔

  صوبائی حکومت کا یہ بھی کہنا تھا کہ تربیت یافتہ میڈیکل آفیسرز کو بحیثیت اسپیشلسٹ کام کرنے کی اجازت  اور تنخواہوں اور مراعات میں خاطر خواء اضا فہ کیا گیا ہے۔ جس کے جواب میں وائی ڈی اے کا کہنا ہے کہ  جن ڈاکٹروں کی ٹریننگ مکمل ہوئی ہے وہ کئی سال پہلے سے اسی طرح اسپیشلسٹ کیڈر میں کام کرتے چلے آ رہے ہیں اور جو تربیت حاصل کر رہے ہیں وہ اس وقت قلیل تنخواہ پر مختلف صوبوں میں گزر بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

وائی ڈی اے کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کے حالیہ بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی مستقلی اور پوسٹ گریجویشن ٹریننگ کے لئے وظائف دینے کا فلحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔ حالانکہ وزیر اعلٰی نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کرتے وقت یہ وعدہ کیا تھا کہ ان کو جلد مستقل کرینگے اور ان کے لئے بجٹ میں پوسٹ گریجویشن ٹریننگ کے لئے وظائف بھی مقرر کرینگے لیکن اس پر کوئی نوٹفیکیشن ابھی تک نہیں نکالا گیا۔ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ  تمام اضلاع میں ڈاکٹروں کو باری باری پوسٹنگ یا باری باری بھجوانے کے وعدے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔  

انہوں نے ڈاکٹر اعجاز ایوب کی اسکردو آر ایچ کیو ہسپتال میں پوسٹنگ ( جہاں پہلے سے ہی  تین ماہر امراض قلب ڈاکٹر موجود ہیں) کو انتقامی کاروائی قرار دیا۔

مطالبات

وائی ڈی اے جی بی کے مطالبات میں ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی مستقلی ایکٹ 2020 کی اسمبلی سے منظوری؛ پوسٹ گریجویشن ٹریننگ پالیسی 202۱ پر عملدرآمد اور اس  کے لئے سالانہ 30 ڈاکٹروں کے لئے وظائف کا نوٹیفکیشن؛ حالیہ تمام غیر قانونی تبادلوں کی منسوخی اور تمام ڈاکٹروں کے لئے یکساں پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی کی منظوری اور نئے سرے سے ڈاکٹروں کی پوسٹنگ عمل میں لانا؛ پے پکیج کی فائنانس ڈیپارٹمنٹ سے نوٹیفکیشن اور جولائی 2020 سے اب تک رسک الاونس کی منظوری اور اسے تنخواہوں میں ضم کرنا شامل ہے۔

وائی ڈی اے جی بی  کے رہنماوں نے کہا کہ ان مطالبات کے لئے ماضی میں کئی بار  میڈیا  اور احتجاجو ں کے ذریعے حکومت کو آگاہ کیا جا چکا ہے لیکن حکومت نے طفل تسلیوں  کے ذریعے ہمیں ٹرخاتی رہی ہے جس کی وجہ سے تمام ینگ ڈاکٹرز نے احتجاجاً مستعفی ہو کر ہڑتال اور اس ظلم و زیادتی کے خلاف ۱۲جولائی سے دھرنا شروع کیا ہے جو تمام مندرجہ بالا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔


عنائیت الرحمان ابدالی ایک ترقی پسند سیاسی کارکن اور ہائی ایشیا ہیرالڈ اور بام جہان کے گلگت بلتستان کے بیورو چیف ہیں۔


اپنا تبصرہ بھیجیں